• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » <span class="utfx-rtl-content" dir="rtl">تاریخ اور قوم پرستی</span>
کراس پوسٹ

تاریخ اور قوم پرستی

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 5, 2026Updated:اگست 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

یاسر جواد⁦
⁩قوم پرست بننے کا آسان ترین طریقہ سیدھا سادا بھی ہے۔ سب سے پہلے تو اپنے گروپ، شہر، صوبے، ’’نسل‘‘ یا لسانی گروہ کے نہایت غریب، پسماندہ، استحصال زدہ، لاچار اور بے کس ہونے کا اعلان کریں۔ زور دے کر بتائیں کہ آپ کے تمام وسائل لُٹ چکے ہیں یا لُوٹے جا رہے ہیں، آپ کا وجود اور شناخت خطرے میں ہے۔ آپ کی زبان کو باقاعدہ سازش کے تحت مٹایا جا رہا ہے، وغیرہ۔ نیز یہ کہ آپ کو اقتدار میں بھی جائز حصہ نہیں دیا گیا۔⁦(⁩یہ ’’آپ‘‘ کون ہے، اِس کا تعین بعد میں ہوتا رہے گا⁦)⁩۔ البتہ یہ بتانا مت بھولیں کہ اِن سب مظالم اور زیادتیوں کے باوجود ایک شعور اور عقل ہی ایسی چیز ہے جو بالکل صحیح سلامت رہی اور آپ کا ری ایکشن اُسی عقل کی پیداوار ہے۔

جب آپ خود کو استحصال زدہ مان لیں اور منوانے کی کوشش کر لیں تو دوسرا مرحلہ یہ بتانا ہو گا کہ یہ کام کیا کس نے۔ اِس کے لیے آپ کو اپنی مرضی کی تاریخ ایجاد کرنا پڑے گی تاکہ آپ بتائیں کہ استحصال کون کر رہا ہے اور کون کچل رہا ہے۔ تاہم، اِس کام کے لیے آپ کو سورسز اُنھی کے استعمال کرنا پڑیں گے جو لوٹتے رہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ دریاؤں، پہاڑوں، معدنی ذخائر وغیرہ کے مالک آپ ہیں، لیکن دوسروں نے اِن پر قبضہ کر لیا اور بے دردی سے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں آپ کو Lived experience یعنی اپنے محسوسات کو بنیاد بنانا پڑے گا۔

قومی پرستی کے لیے ایک گہری سازش کو گھڑنا ضروری ہے۔ سارے تاریخی عمل میں اقوام، قبیلے اور علاقے ایک دوسرے کو مارتے کاٹتے، لوٹتے یا دباتے رہے۔ رنجیت سنگھ آج ہمارا ہیرو بنایا جا رہا ہے⁦(⁩جنگ و جدل کی بنیاد پر⁦)⁩، حالانکہ اُسی نے انیس سال کی عمر میں سب سے بڑی کامیابی لاہور کو فتح کرنے کی شکل میں پائی جہاں غالباً بھنگی مسل کا قبضہ تھا۔ اُس نے توپوں سے فصیلوں پر گولہ باری کروائے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن اندر موجود لوگ ساتھ ملے ہوئے تھے۔ چیت سنگھ کے غدار رنجیت سنگھ کے معتمد بن گئے۔ یہی کام اُس نے ملتان میں بھی کیا۔ لیکن ’’پیپلز ہسٹری‘‘ لکھنے کے داعی اپنے آبائی ضلعے کی مناسبت سے اُس کے حامی یا مخالف بن گئے۔ اور یہ حمایت یا مخالفت اِس حد تک جا پہنچی کی اِس بنیاد پر ’’تاریخ‘‘ بھی لکھی جانے لگی ہے۔

تاریخ کو اخلاقی بنیادوں پر لکھنا اُس کو مقصد کھو دیتا ہے۔ مؤرخ اخلاقی فیصلے دینے لگے تو تاریخ کو اُسی طرح مسخ کرنا پڑے گا ہمارے ہاں کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ بہت مزے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ یا بلوچستان کے جس بھی علاقے کا ذکر ہو، وہاں سے سکندر اعظم کا گزرنا یقینی بتایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تہذیب کا آغاز ہی یہاں سے ہوا تھا۔ عام بیانیے کے مطابق دیپالپور، جہلم، ہڑپہ، ملتان، لاہور، گجرات وغیرہ سبھی تہذیب کے ’’گڑھ‘‘ تھے۔ اور حرامی انگریزوں نے اس تہذیب کو خراب یا برباد کر ڈالا۔ اور یہ بھی یقین ہے کہ ہر جگہ کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی تھی۔ اچھا، اگر کوئی تہذیب ساڑھے تین ہزار یا دو ہزار سال پرانی ہو تو وہ کمتر ہو جائے گی؟

پہلے دوسرے محرومی زدہ صوبوں کے لوگ اِس طرح کے دعوے کیا کرتے تھے، اور اب کوئی دس سال سے پنجابی بھی میدان میں اُترنے لگے ہیں۔ یہ تاریخ نگاری کے نام پر جذباتی اور ری ایکشنری پمفلٹ بازی ہیں۔

یہ مضمون یاسر جواد کی ویب سائٹ سے کراس پوسٹ کیا جارہا ہے.

ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکی سوشلسٹ تحریک پر چین نواز نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کا انکشاف
Next Article روسی حملوں سے بحیرہ اسود کی ناکہ بندی دوبارہ مؤثر، یوکرین کی زرعی برآمدات خطرے میں
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.