پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے کل بروز پیر تہران کے متوقع دورے کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ کے موجودہ تعطل سے نکلنے کے لیے ایران کے پاس موجود بہترین راستہ ہے۔
پزشکیان نے حالیہ مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ صورت حال یعنی ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کے مرحلے سے نکلنے کے لیے ایران کے لیے بہترین راستہ ہے۔
ایرانی صدر نے اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے جاری کردہ خطاب میں کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان سمجھتے ہیں کہ یہ یادداشت ممکنہ طور پر بہترین معاہدہ ہے اور اسے قومی وقار، حکمت اور قومی مفاد کے اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
کوئی رعایت نہیں
پزشکیان نے واضح کیا کہ اس مفاہمتی یادداشت میں کوئی ایسی شق موجود نہیں، جس میں ایرانی جانب سے کسی رعایت کی بات کی گئی ہو۔
انہوں نے مزید کہا:سپریم لیڈر ہی پالیسیاں طے کرتے ہیں اور ہم اسی راستے پر کاربند رہیں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران اپنے مخالفین کے سامنے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم معاہدے تک پہنچنے کو ملک کی معاشی صورتحال سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تعطل کی صورتحال میں ایران غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل نہیں کر سکتا۔
پزشکیان نے کہا کہ سرمایہ اور رقوم خطرات کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتی ہیں، ہمیں ملک سے یہ خطرات دور کرنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ ایرانی معاشرہ اس وقت متعدد مشکلات کا شکار ہے، اور حکومت صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔
پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ جون میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے تک پہنچنے کے لیے60روز کی پرعزم مدت مقرر کی گئی تھی۔
تاہم یہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہو گئی، جبکہ دونوں ممالک اب بھی کئی اہم معاملات پر ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ہے، جو عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد ایرانی معیشت پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کی زد میں ہے، جس کے باعث ملک کے سب سے اہم آمدنی کے ذریعے تیل کی برآمد انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب23اگست2026کو ایران کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت ایک بار پھر بڑھ گئی اور لین دین کے دوران تقریباً1لاکھ98ہزار200تومان تک پہنچ گئی، جو ایک نئی ریکارڈ سطح ہے۔
ادھر امریکہ نے گزشتہ جمعرات کو ایران پر اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’اس نظام کو تباہی کی طرف دھکیلنا‘‘ ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران ایرانی حکومت کو کئی مرتبہ احتجاجی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں زیادہ تر معاشی بدحالی، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
دسمبر کے آخر میں بھی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کی شکل اختیار کر لی۔
ایرانی حکام کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں3ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حکام نے تشدد کا ذمہ دار ’’دہشت گردانہ کارروائیوں‘‘ کو قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر اس کے پیچھے ہونے کا الزام عائد کیا۔
اسی وجہ سے موجودہ ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ ماضی جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے اور ملک ایک بار پھر معاشی مسائل کے باعث احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جو اس مرتبہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

