واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا تاریخی سول جوہری تعاون کا معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب مملکت ابرھآم معاہدوں (Abraham Accords) میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری سعودی عرب کی جانب سے ابراہم معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سول جوہری توانائی کی تنصیبات کی حمایت کرتا ہے، لیکن سعودی عرب کو یورینیم افزودگی(Enrichment)کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے۔
دہائیوں پر محیط شراکت داری
امریکی محکمہ توانائی نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پرامن جوہری تعاون کے لیے سیکشن 123 معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
امریکی ایٹمی توانائی قانون کے تحت اس نوعیت کا معاہدہ کسی بھی ملک کو امریکی جوہری مواد، آلات یا ٹیکنالوجی کی منتقلی سے قبل لازمی قرار دیا جاتا ہے۔
محکمہ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ کئی دہائیوں پر محیط اربوں ڈالر کی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد فراہم کرے گا اور امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے سول جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع حاصل ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ امریکی صنعت، کارکنوں اور سپلائی چین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
معاہدے کے ساتھ ایک حفاظتی فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد جوہری سلامتی، تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یورینیم افزودگی پر سوالات برقرار
ٹرمپ کے بیان کے بعد معاہدے کی بعض اہم شقوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ مجوزہ سعودی جوہری پروگرام”نان اِنرچڈ”ہوگا، یعنی سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاہدے میں وہ مکمل”گولڈ اسٹینڈرڈ”حفاظتی شرائط شامل نہیں ہیں جو امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کا حصہ تھیں، جن کے تحت یورینیم افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی ری پروسیسنگ پر مکمل پابندی عائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(IAEA)کے ایڈیشنل پروٹوکول کو قبول کرنے کا بھی پابند نہیں بنایا گیا، جس کے تحت وسیع تر معائنوں اور نگرانی کی اجازت دی جاتی ہے۔
یہ نکات کانگریس میں معاہدے کے جائزے کے دوران اہم موضوع بننے کی توقع ہے۔
روبیو کی وضاحت
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خدشات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو۔
انہوں نے کہا،”امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو جوہری پھیلاؤ کے خدشات کو جنم دے۔”سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے پر اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دینے کے امکان کو”مکمل طور پر ناقابل قبول”قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کا آغاز سول پروگرام سے ہی ہوتا ہے۔
سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے معاہدے کو”سنگین اسٹریٹجک ناکامی”قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ آئندہ10یا20برسوں میں سعودی عرب کی سیاسی سمت کیا ہوگی۔
انہوں نے کہا،”مشرق وسطیٰ میں ہمیں مزید سینٹری فیوجز نہیں بلکہ ان کی تعداد کم کرنے کی ضرورت ہے۔”اپوزیشن رہنما یائر لاپیڈ نے کہا کہ خطے میں نئے جوہری پروگراموں کی روک تھام اسرائیلی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو ایک وسیع علاقائی اعتدال پسند اتحاد کے قیام سے منسلک ہونا چاہیے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبر لکھے جانے تک اس معاہدے پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
ابراہم معاہدے مرکزی شرط بن گئے
صدر ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران شروع کیے گئے ابراہم معاہدوں میں سعودی عرب سمیت دیگر عرب اور مسلم ممالک کی شمولیت کی مسلسل حمایت کرتے رہے ہیں۔
سعودی عرب کی شمولیت سے یہ معاہدے خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت سمجھے جائیں گے، تاہم ریاض کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب عملی پیش رفت سے مشروط ہے۔
اس طرح مجوزہ جوہری معاہدہ اب امریکی جوہری ٹیکنالوجی، طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون اور سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے اہم سفارتی معاملات کو ایک ہی مذاکراتی فریم ورک میں لے آیا ہے۔

