عبد الحی السید کو اوشا وینس اور نٹالی ہارپ پر سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا
مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار پر نسل پرستی اور جنس پرستی کے الزامات، جے ڈی وینس کے ساتھ جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار ڈاکٹر عبد الحی السید کو ہفتے کے اختتام پر سوشل میڈیا پر کی جانے والی دو پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پوسٹس میں نسل پرستی اور جنس پرستی کا رنگ نمایاں تھا، جس کے باعث نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ان کا جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب جے ڈی وینس نے اوہائیو میں ایک ریلی کے دوران السید کے ماضی میں شریعت سے متعلق دیے گئے بیانات پر تنقید کی۔ وینس نے کہا کہ وہ اپنے دادا، جنہیں وہ محبت سے ’’پاپا‘‘ کہتے ہیں، کو یہ بتانا چاہیں گے کہ محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والا ایک شخص نہ صرف شریعت کی حمایت کرتا ہے بلکہ اس کے ناقدین کو سفید فام بالادستی کے حامی بھی قرار دیتا ہے۔
’’تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ جے ڈی اوشا کو اپنے ساتھ ماضی میں لے جا کر پاپا سے ملوانے جا رہا ہے، یا نہیں۔۔۔‘‘
ناقدین نے فوری طور پر السید پر الزام عائد کیا کہ ان کا یہ تبصرہ نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس کی بھارتی نسلی شناخت کو نشانہ بنانے کی کوشش تھا۔ ناقدین کے مطابق اس جملے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وینس کے سفید فام وسط مغربی امریکی دادا نے اوشا وینس کو قبول نہ کیا ہوتا۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس برینڈن گِل نے سوال اٹھایا: ’’عبدالرحمن محمد السید یہ فرض کیوں کر رہے ہیں کہ تمام سفید فام وسط مغربی دادا نسل پرست ہوتے ہیں؟‘‘
صحافی ایملی شریڈر نے السید کو ’’نسل پرست اور قابلِ نفرت شخص‘‘ قرار دیا، جبکہ فلوریڈا کے سابق ریاستی رکنِ اسمبلی بین گریبر نے لکھا: ’’اب السید امریکی رہنماؤں کی بیویوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں؟ کیا آدمی ہے۔‘‘
نٹالی ہارپ بھی السید کی تنقید کی زد میں آگئیں
بعد ازاں عبد السید نے اپنی توجہ وائٹ ہاؤس کی معاون نٹالی ہارپ کی جانب مبذول کر دی۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے السید کو سوشلسٹ اسٹریمر حسن پیکر کے ساتھ انتخابی مہم چلانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ حسن پیکر ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ’’9/11 کا مستحق تھا‘‘۔
’’نٹالی، میرا خیال ہے کہ اس نے اس ہفتے آئی پیڈ کچھ زیادہ ہی استعمال کر لیا ہے۔ اسے آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
اس تبصرے کو بھی بڑے پیمانے پر جنس پرستانہ طنز قرار دیا گیا، کیونکہ ناقدین کے مطابق اس میں ہارپ کو ایک پیشہ ور وائٹ ہاؤس معاون کے بجائے کسی نگہداشت کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔
ریپبلکن سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر میٹ وٹلاک نے ان پوسٹس کو ’’خراب انتخابی مہم، خراب امیدوار اور خراب سیاسی جبلت‘‘ کی علامت قرار دیا۔
مشی گن کی سابق گورنری امیدوار ٹیوڈر ڈکسن نے کہا: ’’وہ اوشا کو نشانہ بناتا ہے۔ وہ نٹالی ہارپ کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ بزدل ان خواتین کو نشانہ بناتا ہے جو اس کی سیاسی لڑائی کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر وہ کانگریس کے ایوانوں میں خواتین عملے کے ساتھ کام کرے گا تو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا۔‘‘
عبد السید کی یہ پوسٹس ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب وہ پہلے ہی اپنی انتخابی مہم کے دوران شریعت، اسرائیل، خارجہ پالیسی اور بعض متنازع سیاسی شخصیات کے ساتھ روابط کے باعث قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اوشا وینس اور نٹالی ہارپ سے متعلق حالیہ تبصروں نے ان کے ناقدین کو ان کے سیاسی انداز، زبان اور انتخابی حکمتِ عملی پر مزید سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

