پاکستان اور سری لنکا ٹی20سیریز:میزبان ٹیم کا پلہ بھاری
تینوں میچ راولپنڈی میں ہوں گے، کپتانوں کی میوزیکل چیئر جاری؛ سلمان آغا کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو قیادت سونپ دی گئی
تحریر:نصیر احمد
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی20انٹرنیشنل میچوں کی سیریز9اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے۔ سلمان آغا کو کپتانی اور اسکواڈ سے باہر کرکے صاحبزادہ فرحان کو قیادت سونپ دی گئی ہے۔ راولپنڈی میں ہونے والی اس سیریز میں پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ حاصل ہوگا، تاہم ٹیم کا انتخاب، کپتان کی تبدیلی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی اہم سوالات رہیں گے۔
راولپنڈی میں تین میچوں کا امتحان
پاکستان اور سری لنکا کے مابین تین ٹی20انٹرنیشنل میچز کی سیریز9اکتوبر سے پاکستان میں شروع ہو رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلمان آغا کو ٹی20کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے نہ صرف ہٹا دیا ہے بلکہ انہیں ٹی20قومی ٹیم کے اسکواڈ میں بھی منتخب نہیں کیا گیا۔ سلمان آغا کی جگہ ایشین گیمز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے اوپننگ بیٹر صاحبزادہ فرحان کو کپتانی کا فریضہ سونپا گیا ہے، جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ایشین گیمز کرکٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ یہ سیریز صاحبزادہ فرحان کی قائدانہ صلاحیتوں اور بیٹنگ کارکردگی کے تسلسل کے لیے بھی بڑا امتحان ہوگی۔
اس ٹی20سیریز کے تینوں میچ راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔ پہلا میچ9اکتوبر، دوسرا11اکتوبر اور تیسرا میچ13اکتوبر کو ہوگا۔ اس سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، عبدالصمد، ابرار احمد، عرفات منہاس، فخر زمان، حسن نواز، محمد عمران، خواجہ نافع، معاذ صداقت، نسیم شاہ، رضا اللہ، صائم ایوب، سلمان مرزا، شاداب خان اور سفیان مقیم شامل ہیں۔

سری لنکن ٹیم کی قیادت کوسل مینڈس کر رہے ہیں۔ ٹیم میں کامل مشرا، سنتھ جے وردھنے، لاہیرو ادارا، سہان آراچیگے، کمنڈو مینڈس، ڈاسن شاناکا، چمینڈو وکرما سنگھے، دونتھ ویللاگے، مہیش تھیکشانا، بینورا فرنینڈو، وجے کانت ویاس کانت، نووان تھشارا اور ایشان ملنگا شامل ہیں۔ فاسٹ بولر دشمنتھا چمارا کی میچوں میں شمولیت ان کی فٹنس سے مشروط ہے۔
پاکستان کو باہمی مقابلوں میں برتری
پاکستان اور سری لنکا کے مابین30ٹی20انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے ہیں، جن میں پاکستان کو سری لنکا پر بالادستی حاصل رہی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے18اور سری لنکا نے12میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان پہلا ٹی20انٹرنیشنل میچ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والے پہلے ٹی20ورلڈ کپ2007میں کھیلا گیا تھا، جس میں پاکستان نے33رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں آخری مرتبہ ٹی20ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پالی کیلے میں مدمقابل تھیں۔ یہ میچ انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ رہا تھا، جس میں پاکستان نے پانچ رنز سے فتح حاصل کی تھی۔ سری لنکن کپتان ڈاسن شاناکا نے انتہائی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا لیکن وہ اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہم کنار نہیں کر پائے۔ شاناکا نے31گیندوں پر آٹھ چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے76رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری24گیندوں پر مکمل کی تھی۔
اس میچ میں صاحبزادہ فرحان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا اور60گیندوں پر100رنز بنائے تھے۔ انہوں نے سری لنکا کو بڑا ہدف دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ صاحبزادہ فرحان نے فخر زمان کے ساتھ اوپننگ شراکت میں178رنز بنا کر مستحکم بنیاد فراہم کی تھی۔ فخر زمان84رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔ اس کے بعد پاکستانی بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور متعدد کھلاڑی نمایاں اسکور نہ کر سکے۔
سری لنکا نے ہدف کے حصول کے لیے سرتوڑ کوشش کی لیکن پاکستانی بولرز کی اچھی بولنگ ان کی راہ میں حائل رہی۔ ابرار احمد نے بہترین بولنگ کی اور چار اوورز میں23رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو پویلین پہنچایا۔

سلمان آغا کی برطرفی اور صاحبزادہ فرحان کی ذمہ داری
سلمان آغا کو پاکستان کی ٹی20ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں اسکواڈ سے بھی ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا کے خلاف آئندہ تین میچوں کی سیریز کے لیے صاحبزادہ فرحان کو ٹی20ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ وہ2024کے آغاز سے اب تک پاکستان کے چوتھے ٹی20کپتان ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایشین گیمز میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو سلور میڈل جتوایا تھا۔
یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ صاحبزادہ فرحان صرف اسی سیریز کے لیے قومی ٹی20ٹیم کے کپتان ہیں یا انہیں طویل عرصے کے لیے یہ ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ فرحان نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال ایشین ٹی20کرکٹ کپ، جہاں پاکستان رنر اپ رہا، اور پھر ٹی20ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے ان کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے ورلڈ کپ میں160کے اسٹرائیک ریٹ سے383رنز بنائے اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز ان کے نام رہا۔ تاہم حالیہ ایشین گیمز کرکٹ میں وہ متاثر کن بیٹنگ نہ کر پائے، جہاں وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان بھی تھے۔ اب سری لنکا کے خلاف سیریز ان کے لیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ قیادت کے ساتھ اپنی انفرادی کارکردگی میں بھی تسلسل برقرار رکھ سکتے ہیں۔
حسن نواز کی واپسی
حسن نواز کی ایشین گیمز کرکٹ فائنل میں96رنز کی شاندار اننگز کی وجہ سے قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے اور وہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ حسن نواز نے قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے آخری ٹی20میچ نومبر2025میں کھیلا تھا۔ ایشین کپ اور اس کے بعد مسلسل مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے وہ ٹیم سے باہر کر دیے گئے تھے۔
حسن نواز کی حالیہ جارحانہ بیٹنگ نے انہیں دوبارہ اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دیا ہے۔ سری لنکا کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی اہم ہوگی، کیونکہ قومی ٹیم کو ایسے بیٹرز درکار ہیں جو تیز رفتار کرکٹ میں دباؤ کے باوجود رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

کپتانوں کی میوزیکل چیئر اور سلیکشن پالیسی
سلمان آغا دو سال سے بھی کم عرصے ٹیم کے کپتان رہے اور اب ان کے لیے ٹیم میں بھی جگہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی مستقل پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ جب کسی کپتان کو ہٹایا جاتا ہے تو بعض اوقات اسے ٹیم میں جگہ بھی بمشکل ملتی ہے۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں اور قومی کرکٹ کا نظام اسی سوال سے دوچار ہے کہ کپتان کی تبدیلی کے ساتھ کھلاڑی کی حیثیت بھی کیوں بدل جاتی ہے۔
سری لنکا کے خلاف جس پاکستانی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں سال رواں کے اوائل میں ہونے والے ٹی20ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل سات کھلاڑیوں کو باہر کر دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی بڑی تبدیلیاں ٹیم کے امتزاج، کھلاڑیوں کے اعتماد اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہیں۔
سلمان آغا نے اپنے کیریئر میں52ٹی20انٹرنیشنل میچ کھیلے ہیں۔ انہوں نے50ٹی20انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ ان میں سے31میچ پاکستان نے جیتے اور18میں شکست ہوئی، جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ اس فارمیٹ میں بابر اعظم نے سب سے زیادہ85ٹی20انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی، جن میں48میں پاکستان کو فتح اور29میں شکست ہوئی۔ سلمان آغا اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
سیریز ایک نظر میں
- مقابلہ:پاکستان بمقابلہ سری لنکا
- فارمیٹ:تین ٹی20انٹرنیشنل میچ
- مقام:راولپنڈی
- میچوں کی تاریخیں: 9،11اور13اکتوبر
- پاکستانی کپتان:صاحبزادہ فرحان
- سری لنکن کپتان:کوسل مینڈس
سری لنکا کا اسکواڈ اور نئے کھلاڑی
ایشین گیمز کرکٹ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا، لیکن سیمی فائنل میں سری لنکن ٹیم کو بھارت کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی تھی۔170رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم دس اوورز میں صرف45رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔
پاکستان کے دورے پر آئے سری لنکن اسکواڈ میں اوپننگ بلے باز سنتھ جے وردھنے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جبکہ زخمی اسپنر ونندو ہسرنگا کی عدم موجودگی میں لیگ اسپنر وجے کانت ویاس کانت کو شامل کیا گیا ہے۔ سیم بولنگ آل راؤنڈر چمینڈو وکرما سنگھے اور بلے باز سہان آراچیگے بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ فاسٹ بولر فرنینڈو کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
جے وردھنے کو ڈومیسٹک ٹی20مقابلوں میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں بلایا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے کلب ٹی20مقابلے میں تمل یونین کرکٹ کلب کی جانب سے52گیندوں پر101اور32گیندوں پر82رنز کی اننگز کھیلیں۔ وہ ایشین گیمز کرکٹ میں سری لنکن ٹیم کا حصہ تھے، لیکن اس سے پہلے انہوں نے قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کی تھی۔
مرزا اقبال بیگ کا تجزیہ:پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ
پاکستان اور سری لنکا کی ٹی20کرکٹ سیریز کے بارے میں نیویارک اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز کرکٹ تجزیہ کار اور صحافی مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ اس سیریز میں بظاہر پاکستان کا پلہ بھاری دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ پاکستانی ٹیم گھر کے میدانوں پر بہتر کھیلتی ہے جبکہ بیرون ملک اس کی کارکردگی غیر مستقل رہی ہے۔
اگر پاکستانی ٹیم کی ٹی20کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو2024میں پاکستان کو ٹی20کرکٹ میں آئرلینڈ نے زیر کیا تھا۔2024کے ٹی20ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت سے ہارا، پھر امریکہ نے بھی پاکستان کو شکست سے دوچار کیا۔ اس کے بعد زمبابوے بھی ٹی20میں پاکستان کے خلاف فتحیاب رہا۔ ایشین ٹی20کرکٹ کپ میں پاکستان بھارت سے تین میچوں میں شکست سے دوچار ہوا اور حالیہ ایشین گیمز کرکٹ کا فائنل بھی پاکستان بھارت سے ہارا۔ بیرون ملک ٹی20میچوں میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔
مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم ہوم گراؤنڈ پر حریف ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھاتی ہے۔ ان کے خیال میں سری لنکا کے خلاف سیریز یکطرفہ ثابت ہونے کا امکان ہے، تاہم ٹیم سلیکشن کے بعض فیصلے قابلِ سوال ہیں۔
ٹیم سلیکشن اور کامبی نیشن پر اعتراضات
پاکستانی اسکواڈ کے انتخاب کے حوالے سے سوال پر مرزا اقبال بیگ نے نیویارک اردو کو بتایا کہ سلیکشن کمیٹی نے جن کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے، ان میں سے کئی ایسے ہیں جو ان کے خیال میں پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے قابل نہیں۔ ان کے مطابق خواجہ نافع پارٹ ٹائم اسٹینڈ اِن وکٹ کیپر ہیں، جبکہ عمران رندھاوا کو ٹیم میں شامل کرنے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
مرزا اقبال بیگ نے ٹیم کے امتزاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیم میں پانچ اوپنرز ہیں، جن میں سے کچھ مڈل آرڈر میں بیٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ایک اسپیشلسٹ مڈل آرڈر بیٹر عبدالصمد ہیں، جو خود لوئر مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرتے ہیں۔ ایسے میں ٹیم کا موزوں کامبی نیشن بنانا ایک چیلنج ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باصلاحیت احمد دانیال کو ڈراپ کر دیا گیا، حالانکہ وہ مستقبل کے لیے اچھا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کا کامبی نیشن اتنا مضبوط نہیں، تاہم میچ راولپنڈی میں ہونے کی وجہ سے میزبان ٹیم کو برتری حاصل رہے گی۔
سری لنکا کی ٹیم اس سے قبل بھی راولپنڈی میں زمبابوے کے ساتھ ٹرائی سیریز کھیل چکی ہے، جس میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ اس کے باوجود سری لنکن ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ کوسل مینڈس، ڈاسن شاناکا، مہیش تھیکشانا اور دیگر کھلاڑی پاکستان کے لیے سخت مقابلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ مرزا اقبال بیگ کے مطابق مجموعی طور پر سیریز پاکستان کے حق میں دکھائی دیتی ہے، لیکن ٹیم کے انتخاب اور کارکردگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اپنی جگہ، لیکن مستقل کپتان، متوازن ٹیم اور واضح سلیکشن پالیسی کے بغیر پاکستانی کرکٹ میں تسلسل پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
کپتانی کی تبدیلی پر سوالات
پاکستانی کپتان کی تبدیلی کے حوالے سے نیویارک اردو کے سوال کے جواب میں کرکٹ مبصر مرزا اقبال بیگ نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کپتانوں کی میوزیکل چیئر کا کھیل جاری ہے۔ کبھی بابر اعظم کو ہٹا کر شاہین آفریدی کو کپتان بنا دیا جاتا ہے، کبھی شاداب خان، کبھی رضوان اور کبھی سلمان آغا کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اور اب سلمان آغا کو ہٹا کر صاحبزادہ فرحان کو کپتان بنایا گیا ہے۔
ان کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ سیریز کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف کیسی کارکردگی پیش کرتی ہے۔ یہ سیریز صرف تین میچوں کا مقابلہ نہیں بلکہ قومی ٹیم کی قیادت، سلیکشن اور مستقبل کی حکمت عملی کا بھی امتحان ہے۔
