• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » بریسٹ کینسر⁦:⁩آگاہی زندگی بچاتی ہے
ایشیا

بریسٹ کینسر⁦:⁩آگاہی زندگی بچاتی ہے

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 15, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔13 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
صحت و معاشرہ⁦|⁩خصوصی رپورٹ

بریسٹ کینسر⁦:⁩خاموشی نہیں، آگاہی زندگی بچاتی ہے

پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی تشویش ناک صورتحال، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی کی ضرورت

اسحاق بلوچ

رپورٹ
اسحاق بلوچ

چھاتی کا سرطان یا بریسٹ کینسر محض ایک بیماری نہیں بلکہ پاکستان میں خواتین کی صحت، سماجی رویوں، معاشی ناہمواری اور صحت کے نظام کی ترجیحات سے جڑا ہوا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے جس کے خلاف جنگ میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ آگاہی، بروقت تشخیص، علاج تک رسائی اور معاشرتی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی خواتین کی صحت سے متعلق بعض موضوعات پر گفتگو کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہی خاموشی بعض اوقات مرض کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنے اور علاج میں تاخیر کا سبب بن جاتی ہے۔

اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے مخصوص ہے۔ اس دوران مختلف سرکاری ادارے، اسپتال، فلاحی تنظیمیں اور سماجی حلقے خواتین کو بیماری کی علامات، تشخیص اور علاج کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے سرگرم ہوتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری یہ سرگرمیاں محض اکتوبر تک محدود رہیں گی یا ہم خواتین کی صحت کو سال بھر قومی ترجیح بنانے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کریں گے؟

اسی اہم سوال اور ضرورت کے تناظر میں کراچی میں بہار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ محبتوں، چاہتوں، محنتوں اور خدمت کے مرکز منھنجی امڙ پبلک لائبریری میں منعقد ہونے والے اس سیمینار کا مقصد خواتین میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا، ابتدائی علامات کی شناخت سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور بروقت طبی معائنے کی اہمیت واضح کرنا تھا۔ اس پروگرام میں بہار فاؤنڈیشن کے مفت الٹراساؤنڈ کورس میں شریک طالبات اور دیگر شرکاء کو بھی آگاہی فراہم کی گئی، تاکہ وہ مستقبل میں صحت کے شعبے میں خدمات انجام دیتے ہوئے اس پیغام کو مزید خواتین تک پہنچا سکیں۔

سیمینار کا مرکزی پیغام واضح تھا⁦:⁩خاموشی نہیں، آگاہی اختیار کریں؛ خوف نہیں، بروقت معائنہ کروائیں۔
کراچی میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار

پاکستان میں بریسٹ کینسر کی صورتحال⁦:⁩تشویش ناک حقائق

پاکستان میں بریسٹ کینسر خواتین میں تشخیص ہونے والے عام سرطانوں میں سرفہرست ہے۔ مختلف طبی اور عوامی آگاہی حوالوں میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر نو میں سے ایک خاتون کو زندگی کے کسی مرحلے پر اس بیماری کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سالانہ کیسز اور اموات کے حوالے سے بھی تشویش ناک اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق سالانہ تقریباً⁦90⁩ہزار نئے کیسز اور⁦40⁩ہزار اموات کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی درست صورت حال جاننے کے لیے تازہ قومی رجسٹری اور مستند طبی ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

اعداد و شمار سے قطع نظر، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین اس وقت اسپتال پہنچتی ہیں جب بیماری کافی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ دیر سے تشخیص کی وجوہات میں علامات سے ناواقفیت، سماجی جھجھک، مالی مشکلات، تشخیصی سہولیات کی کمی اور علاج کے اخراجات شامل ہیں۔

پاکستان میں کم عمر خواتین میں بھی بریسٹ کینسر کی تشخیص سامنے آتی ہے۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ یہ بیماری صرف بڑی عمر کی خواتین کو لاحق ہوتی ہے۔ کسی بھی عمر میں چھاتی کی غیر معمولی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اگرچہ ہر تبدیلی یا گلٹی کینسر کی علامت نہیں ہوتی۔

طبی ماہرین کے مطابق بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے مؤثر علاج اور صحت یابی کے امکانات نمایاں طور پر بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آگاہی مہمات کا مقصد صرف بیماری کا نام بتانا نہیں بلکہ خواتین کو یہ سمجھانا بھی ہے کہ کب، کیوں اور کس ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

کراچی کا سیمینار⁦:⁩آگاہی کے ساتھ عملی رہنمائی

بہار فاؤنڈیشن کی جانب سے ہر سال اکتوبر میں منعقد ہونے والا آگاہی سیمینار اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین کی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں تعلیم، تربیت اور عملی رہنمائی کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار میں ڈاکٹر قربان ڈاہری نے بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چھاتی یا بغل میں نئی گلٹی، چھاتی کے سائز یا شکل میں غیر معمولی تبدیلی، جلد پر گڑھے پڑنا، سوجن، نپل کا اندر کی طرف مڑ جانا اور نپل سے غیر معمولی، خصوصاً خون آلود رطوبت کا اخراج ایسی علامات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا پیغام اس حوالے سے اہم تھا کہ بریسٹ کینسر ابتدائی مرحلے میں بعض اوقات درد کے بغیر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ لہٰذا درد نہ ہونے کو بیماری کی عدم موجودگی کی ضمانت سمجھنا درست نہیں۔ کسی نئی یا غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

خواتین کی صحت اور بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی

ڈاکٹر گل کریم نے احتیاطی تدابیر اور خطرات کم کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواتین کو اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہنے، طبی معائنے میں تاخیر نہ کرنے اور خاندان میں بریسٹ یا اووری کینسر کی تاریخ موجود ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صحت مند وزن برقرار رکھنے، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنانے جیسی عادات بھی عمومی صحت کے لیے اہم ہیں، اگرچہ یہ اقدامات بریسٹ کینسر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے۔

ڈاکٹر طیبہ رحمان نے اپنی گفتگو میں کینسر کے مریضوں کی غذا، جسمانی صحت اور نگہداشت پر توجہ دلائی۔ متوازن خوراک، پھلوں، سبزیوں اور دالوں کا استعمال اور مناسب جسمانی سرگرمی صحت مند طرزِ زندگی کے اہم اجزا ہیں۔ تاہم کینسر کی تشخیص کے بعد غذا اور علاج سے متعلق فیصلے مریضہ کی طبی کیفیت اور معالج کے مشورے کے مطابق ہونے چاہییں۔

سیمینار میں ڈاکٹر شمائلہ نے الٹراساؤنڈ کورس کی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اہم طبی نکتے کی وضاحت کی کہ الٹراساؤنڈ ہر قسم کے بریسٹ کینسر کی تشخیص کا متبادل نہیں۔ مریضہ کی عمر، علامات، طبی تاریخ اور معائنے کے نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹر الٹراساؤنڈ، میموگرافی، بایوپسی یا دیگر ضروری ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ مشتبہ علامات کی صورت میں مریضہ کو متعلقہ ماہر کے پاس بروقت بھیجنا بھی طبی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے۔

یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی معمولی سی رہنمائی بھی کسی خاتون کو بروقت تشخیص اور علاج تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

کینسر کی تشخیص زندگی کا اختتام نہیں

ڈاکٹر عبدالرزاق جمع نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص کے بعد مریضہ کو مایوسی، تنہائی یا معاشرتی امتیاز کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ علاج میں تاخیر کے بجائے مستند طبی مشورے اور مناسب علاج کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر کا علاج بیماری کی نوعیت، مرحلے اور مریضہ کی مجموعی صحت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، ہارمونل تھراپی اور دیگر جدید طریقہ ہائے علاج شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر مریضہ کے لیے علاج کا طریقہ یکساں نہیں ہوتا، اس لیے کسی دوسرے مریض کے تجربے کی بنیاد پر خود سے علاج منتخب کرنا درست نہیں۔

اس بیماری کے خلاف جنگ میں خاندان کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مریضہ کو حوصلہ دینے، علاج کے اخراجات میں ممکنہ مدد فراہم کرنے، طبی ملاقاتوں میں ساتھ جانے اور جذباتی تعاون کرنے سے علاج کے سفر کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کینسر کے مریضوں کے بارے میں خوف، غلط فہمیاں اور بعض اوقات غیر ضروری ہمدردی کے ایسے رویے بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو مریضہ کی عزتِ نفس کو متاثر کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کینسر کو شرمندگی یا سماجی تنہائی کا سبب بنانے کے بجائے ایک قابلِ علاج طبی مسئلے کے طور پر سمجھا جائے، جس میں مریضہ کو محبت، احترام اور مناسب نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کینسر کی تشخیص کے بعد مریضہ کو خوف، شرمندگی یا تنہائی میں مبتلا کرنے کے بجائے مستند طبی مشورہ، علاج اور خاندان کا تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔

مفت الٹراساؤنڈ کورس⁦:⁩تعلیم سے خدمت تک

بہار فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمد سچل ودہو نے سیمینار کے موقع پر ادارے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن کی کوشش صرف آگاہی فراہم کرنا نہیں بلکہ صحت، تعلیم، انسانی وقار اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا بھی ہے۔

منھنجی امڙ پبلک لائبریری میں خواتین کے لیے مفت الٹراساؤنڈ کورس اسی سلسلے کی ایک اہم سرگرمی ہے۔ اس نوعیت کے تربیتی پروگرام خواتین کو طبی شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت سے متعلق معلومات کو وسیع تر معاشرے تک پہنچانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔

تاہم اس مثبت کوشش کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ طالبات کی تربیت میں مریضوں کی رازداری، عزتِ نفس، طبی اخلاقیات اور تشخیصی طریقوں کی حدود سے متعلق معلومات کو بھی بنیادی حیثیت دی جائے۔ طالبات کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ابتدائی آگاہی فراہم کرنا اور کسی بیماری کی حتمی تشخیص کرنا دو مختلف ذمہ داریاں ہیں۔

اگر ایسے کورسز کو اسپتالوں، مستند ریڈیالوجسٹوں، آنکولوجی کے ماہرین اور فلاحی اداروں کے ساتھ مربوط کر دیا جائے تو ان کے ذریعے خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی کا ایک مؤثر نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔

بریسٹ کینسر سے آگاہی اور خواتین کی صحت کی اہمیت

حکومتی اقدامات⁦:⁩آگاہی سے آگے بڑھنے کی ضرورت

بریسٹ کینسر کے مسئلے کا حل صرف سیمینارز، واکس، گلابی ربن اور عمارتوں کو گلابی روشنیوں سے سجانے میں نہیں۔ یہ سرگرمیاں توجہ مبذول کرانے اور عوامی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کا حقیقی فائدہ تب سامنے آئے گا جب خواتین کو تشخیص اور علاج کی سہولیات بھی آسانی سے دستیاب ہوں گی۔

پاکستان میں بڑے سرکاری اسپتالوں کے آنکولوجی شعبے اور بعض فلاحی و نجی ادارے کینسر کے مریضوں کو علاج، تشخیص اور مشاورت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ پنک ربن پاکستان، شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال، آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور دیگر طبی و فلاحی ادارے اس حوالے سے آگاہی اور علاج کی فراہمی میں مختلف سطحوں پر کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم سہولیات کی دستیابی، اخراجات اور مالی معاونت کی شرائط ہر ادارے میں مختلف ہو سکتی ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ سرکاری اسپتالوں میں بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے وسائل بڑھائے، مستحق مریضات کے لیے مالی معاونت کے پروگرام مؤثر بنائے اور چھوٹے شہروں و دیہی علاقوں میں تشخیصی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ صرف بڑے شہروں میں جدید طبی مراکز قائم ہونا کافی نہیں، کیونکہ بیماری کا سامنا کرنے والی ہر خاتون کے لیے کراچی، لاہور یا اسلام آباد پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسی طرح خواتین کے لیے مناسب طبی رہنمائی، مستند معالجین تک رسائی اور تشخیص سے علاج تک مربوط نظام قائم کرنا ضروری ہے، تاکہ مریضہ ابتدائی معائنے کے بعد مختلف اسپتالوں کے چکر لگانے اور غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔

صحت کارڈ یا دیگر انشورنس اسکیموں کے ذریعے کینسر کے علاج کی مالی معاونت بھی اہم ہے، لیکن ایسی سہولتوں کی موجودہ دستیابی، علاج کی حدود اور مستحق مریضات کے لیے اہلیت کے قواعد واضح ہونے چاہییں۔

سماجی خاموشی اور علاج کے اخراجات⁦:⁩دو بڑے مسائل

پاکستان میں بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ کا ایک بڑا چیلنج معاشرتی جھجھک ہے۔ خواتین بعض اوقات چھاتی میں گلٹی یا غیر معمولی تبدیلی محسوس کرنے کے باوجود گھر والوں سے بات کرنے یا ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کرتی ہیں۔ کہیں شرمندگی رکاوٹ بنتی ہے، کہیں خوف اور کہیں خاندان کے ردعمل کا خدشہ۔

اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے والدین، شوہروں، بھائیوں، اساتذہ، علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین کی صحت کے بارے میں باوقار اور سائنسی بنیادوں پر گفتگو کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ بیماری پر بات کرنا بے حیائی نہیں بلکہ انسانی جان کی حفاظت اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کا تقاضا ہے۔

دوسری جانب علاج کے اخراجات بھی غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ تشخیصی ٹیسٹ، بایوپسی، سرجری، ادویات، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کے اخراجات بعض خاندانوں کو مالی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں مریضہ کو علاج جاری رکھنے کے لیے قرض لینا پڑ سکتا ہے یا وہ علاج میں تاخیر پر مجبور ہو سکتی ہے۔

اس لیے آگاہی مہم کے ساتھ مالی معاونت، رعایتی تشخیص، مریضوں کی رہنمائی اور سرکاری و فلاحی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی لازمی حصہ بنانا چاہیے۔

خواتین کو کیا کرنا چاہیے؟

چھاتی کی صحت سے متعلق آگاہی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاتون کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے، بلکہ انہیں ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو بروقت اور درست فیصلے کرنے میں مدد دیں۔

خواتین کو اپنی چھاتی کی معمول کی ساخت اور شکل سے واقف رہنا چاہیے۔ کسی نئی گلٹی، جلد میں تبدیلی، نپل کی غیر معمولی کیفیت یا دوسری مشتبہ علامت کی صورت میں طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خود معائنہ طبی تشخیص کا متبادل نہیں اور نہ ہی صرف خود معائنے سے بریسٹ کینسر کی عدم موجودگی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

میموگرافی اور دیگر اسکریننگ ٹیسٹوں کا فیصلہ عمر، ذاتی اور خاندانی طبی تاریخ اور انفرادی خطرے کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔ ہر خاتون کے لیے لازماً ایک ہی عمر میں ایک ہی ٹیسٹ کی سفارش مناسب نہیں ہوتی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی علامت کو نظر انداز نہ کیا جائے اور غیر مستند علاج، گھریلو نسخوں یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر طبی مشورے میں تاخیر نہ کی جائے۔

کسی نئی یا غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں۔ بروقت طبی مشورہ لیں اور تشخیص یا علاج کے لیے مستند طبی ماہر سے رجوع کریں۔

اکتوبر کی مہم، پورے سال کی ذمہ داری

بہار فاؤنڈیشن کا کراچی میں منعقدہ سیمینار ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ خواتین کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔

بہار فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمد سچل ودہو کا پیغام بھی اسی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے کہ خواتین کی صحت محفوظ ہوگی تو خاندان مضبوط ہوں گے اور معاشرہ صحت مند بنیادوں پر آگے بڑھے گا۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے، اسپتال یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس میں ریاست کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی، نجی اداروں کو اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، طبی ماہرین کو آگاہی اور رہنمائی دینی ہوگی اور معاشرے کو خواتین کی صحت کے بارے میں خاموشی توڑنا ہوگی۔

خاموشی توڑیں، آگاہی کو عام کریں

ایک سیمینار آگاہی کا آغاز ہو سکتا ہے، ایک بروقت معائنہ علاج کا راستہ کھول سکتا ہے اور ایک خاندان کا تعاون کسی خاتون کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتا ہے۔

خواتین کی صحت قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ آگاہی صرف اکتوبر تک محدود نہ رہے؛ بروقت تشخیص، باوقار نگہداشت اور علاج تک رسائی پورے سال کی ذمہ داری ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآسٹریا کے مستقبل کا وژن
Next Article کامریڈ غلام محمد لغاری⁦:⁩ایک بیٹے کی یادداشت
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.