پاکستان کی فوجی حکومت نے میرے والد کی لاش کو ہتھکڑیاں لگائیں۔ میں بارہ برس کا تھا۔
جنرل ضیاء کے مارشل لا میں غلام محمد لغاری کی موت کو44برس گزر گئے۔ ان کا بیٹا آج بھی پوچھتا ہے کہ کون سی ریاست ایک مردہ آدمی سے ڈرتی ہے؟
تحریر:منصور لغاری
سابق فوجی، دفاعی تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکن
بچپن کی کچھ یادیں وقت کے ساتھ دھندلا جاتی ہیں۔ کچھ زخم بھر جاتے ہیں۔ میرا زخم44برس بعد بھی نہیں بھرا۔
14 اکتوبر1982کو میرے والد غلام محمد لغاری جنرل ضیاءالحق کی فوجی حکومت کی حراست میں انتقال کر گئے۔ میں بارہ برس کا تھا۔
ان کی موت سے ان کی سزا ختم نہیں ہوئی۔ جب ان کی میت گھر لائی گئی تو پولیس آئی اور اسے ہتھکڑیاں لگا دیں۔
میرے والد مر چکے تھے۔ وہ نہ بھاگ سکتے تھے، نہ بول سکتے تھے، نہ کسی کو منظم کر سکتے تھے۔ ریاست نے پھر بھی انہیں ہتھکڑیاں لگائیں۔
کون سی حکومت ایک مردہ آدمی سے ڈرتی ہے؟ میں44برس سے یہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ جواب آج تک نہیں ملا۔
جیل کی دیواروں کے سائے میں گزرا بچپن
میرے والد صحافی تھے، سندھ کی کسان تحریک کے رہنما تھے، اور مذہبی اقلیتوں کے محافظ تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ عزت ہر انسان کا حق ہے، چاہے اس کی دولت، ذات یا مذہب کچھ بھی ہو۔
اپنی زندگی میں انہوں نے مختلف حکومتوں کے دور میں تقریباً27برس جیل میں گزارے۔
ایک بچے کے لیے یہ عدد تاریخ نہیں ہوتا۔ یہ باپ کے بغیر گزری سالگرہیں ہیں۔ یہ وہ راتیں ہیں جب آپ جاگ کر سوچتے ہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ یہ اسکول کے بعد دوسرے لڑکوں کو اپنے باپوں کے پاس گھر جاتے دیکھنا ہے۔
جب میں تقریباً سات برس کا تھا تو ان سے ملنے جیل گیا۔ واپسی کا وقت آیا تو میں ان سے لپٹ گیا، روتا رہا، اور جانے سے انکار کر دیا۔ ان کے بغیر گھر جانے سے بہتر مجھے اسی جیل میں رہ جانا لگتا تھا۔
دوسرے بچے اندھیرے سے ڈرتے تھے۔ میں دروازے پر دستک سے ڈرتا تھا۔
اکتوبر1982میں وہ آخرکار گھر لوٹے۔ مگر بے جان۔
سندھ انہیں کامریڈ کیوں کہتا تھا
پورے سندھ میں لوگ انہیں کامریڈ غلام محمد لغاری کے نام سے جانتے تھے۔
بہت سے لوگ لفظ”کامریڈ”سنتے ہی سوویت یونین اور کمیونزم کے بارے میں سوچتے ہیں۔ مگر سندھ کی سیاسی روایت میں اس لفظ کا مطلب اس سے وسیع ہے:ساتھی، ہمسفر، ایک مشترکہ مقصد میں شریکِ راہ۔ سندھ کی کسان تحریکوں میں بائیں بازو اور قوم پرست دونوں روایتوں کے کارکن شامل تھے، اور میرے والد کی اپنی سیاست بھی ان میں سے کچھ حدیں عبور کرتی تھی۔ یہ لقب نظریے سے زیادہ وفاداری کا اعلان تھا۔
بے زمین کسانوں کے لیے وہ ایسے شخص تھے جو طاقتور زمینداروں کے سامنے ڈٹ جاتا تھا۔ مزدوروں کے لیے وہ ایسے شخص تھے جو استحصال کرنے والوں کا مقابلہ کرتا تھا۔ ہندوؤں اور مسیحیوں کے لیے وہ ایسے مسلمان تھے جو سمجھتا تھا کہ ان کی جان اور ان کا عقیدہ بھی اتنے ہی تحفظ کے مستحق ہیں جتنا اس کا اپنا۔
وہ کسی کا دفاع کرنے سے پہلے اس کا مذہب نہیں پوچھتے تھے۔ وہ یہ پوچھتے تھے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے یا نہیں۔
یہی وہ کامریڈ تھا جسے لوگ جانتے تھے۔ یہی میرے والد تھے۔
کافر قرار دیے گئے
اقلیتوں کے دفاع کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ ایک بااثر مولوی نے فتویٰ جاری کر کے انہیں کافر قرار دے دیا۔
ایک باعمل مسلمان، اپنے ہی مذہب کے نام پر مجرم ٹھہرایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ کچھ انسانوں کو بے سہارا چھوڑا جا سکتا ہے۔
اس فتوے نے ہمارے خاندان پر پہلے سے جاری سیاسی ظلم میں مذہبی خطرہ بھی شامل کر دیا۔ ہمارا گھر، ہماری حفاظت اور ہمارا نام، سب نشانے پر آ گئے۔
میں نے بہت کم عمری میں سیکھ لیا کہ مذہبی انتہاپسندی ہمیشہ بم یا بندوق سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی یہ کسی مولوی کے اس اعلان سے شروع ہوتی ہے کہ فلاں شخص کافر ہے۔ یہ الفاظ اجازت دیتے ہیں، اور تشدد اکثر ان کے پیچھے آتا ہے۔
آج جب میں انتہاپسندی کے خلاف بولتا ہوں تو کوئی کتابی بات نہیں کر رہا ہوتا۔ میں اسی کے اندر پلا بڑھا ہوں۔
ہتھکڑیاں
جو منظر مجھے سب سے زیادہ یاد آتا ہے وہ کوئی جلسہ، کوئی جیل کی دیوار یا اخبار کی سرخی نہیں۔ وہ میرے والد کی میت ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میں بڑوں کے درمیان کھڑا ایک بچہ تھا جو کچھ بھی نہیں بدل سکتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ جاگ جائیں۔ میں ایک بار اور ان کے گلے لگنا چاہتا تھا، ایک بار اور ان سے بات کرنا چاہتا تھا، ایک بار اور انہیں بتانا چاہتا تھا کہ مجھے ان سے کتنی محبت ہے۔
اس کے بجائے میں نے پولیس کو انہیں ہتھکڑیاں لگاتے دیکھا۔
آج یہ لکھتے ہوئے بھی مجھے وہی درد محسوس ہوتا ہے جو اس دن ہوا تھا۔ جن لوگوں نے ان کی آزادی کے اتنے برس چھین لیے تھے، وہ انہیں موت کے بعد بھی عزت دینے کو تیار نہیں تھے۔
ریاست کے لیے وہ ایک دشمن تھے جسے قابو میں رکھنا تھا۔ ان کے حامیوں کے لیے وہ ایک علامت تھے۔ میرے لیے وہ بابا تھے۔
سندھ کا نیلسن منڈیلا
ان کے چاہنے والے انہیں سندھ کا نیلسن منڈیلا کہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ان کی طویل قید ہے، اور دوسری یہ کہ انہوں نے عام لوگوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ منڈیلا کی طرح وہ بھی سمجھتے تھے کہ جو معاشرہ کمزوروں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھے، وہ خود کو منصف نہیں کہہ سکتا۔
ان کی جدوجہد سندھ کی مٹی میں جڑی تھی، کسانوں، مزدوروں، صحافیوں، سیاسی قیدیوں اور اقلیتوں کے درمیان۔ ان کا ہتھیار قلم تھا۔ اپنے اخبارات”سچائی”اور”بیداری”کے ذریعے انہوں نے طاقت کے غلط استعمال کو بے نقاب کیا اور ان لوگوں کو آواز دی جن کا دکھ کوئی اور چھاپنے کو تیار نہیں تھا۔
مگر سیاسی جرأت کی قیمت صرف کارکن ادا نہیں کرتا۔ مائیں ادا کرتی ہیں۔ بچے ادا کرتے ہیں۔ پوری نسل اس کا بوجھ اٹھاتی ہے۔
ہم سیاسی قیدیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ مگر شاذ ہی کوئی پوچھتا ہے کہ جیل کی دیواروں کے باہر بڑے ہونے والے بچوں کا کیا بنتا ہے، اور ان کے کھوئے ہوئے برس انہیں کون لوٹائے گا۔
میں آج بھی کیوں بولتا ہوں
آخرکار میں نے اپنی جائے پیدائش چھوڑ دی اور امریکہ میں نئی زندگی بنائی۔ میں نے امریکی فوج میں خدمات انجام دیں، اپنا خاندان پالا، اور انسانی حقوق کے لیے کام جاری رکھا۔
آج میں ایک ایسا مسلمان ہوں جو کھل کر یہود دشمنی، مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں پر ظلم کی مخالفت کرتا ہے۔ اسی لیے میں وہی الفاظ سنتا ہوں جو کبھی میرے والد پر پھینکے گئے تھے۔ غدار۔ کافر۔ دین کا دشمن۔
میں جانتا ہوں یہ زبان کہاں لے جاتی ہے۔ جب کوئی معاشرہ مذہبی شناخت کو ہتھیار بننے دیتا ہے، جب مولوی یہ فیصلہ کرنے کا حق لے لیتے ہیں کہ کس کی انسانیت کی قدر ہے، جب حکومت اختلافِ رائے کو جرم بنا دیتی ہے، تو کیا ہوتا ہے، یہ میں جانتا ہوں۔
اسی لیے میں مسلم یہودی ہم آہنگی اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہوں۔ میرے والد نے مجھے سکھایا کہ جو مسلمان کسی مظلوم ہندو، مسیحی یا یہودی کا دفاع کرتا ہے، وہ کم مسلمان نہیں ہو جاتا۔ وہ اس یقین کو نبھا رہا ہوتا ہے کہ ہر انسانی جان قیمتی ہے۔
آج بھی وہی بچہ
اس برسی پر میں اپنے والد کو صرف ایک سیاسی شخصیت کے طور پر یاد نہیں کرنا چاہتا۔ میں اس باپ کو یاد کرنا چاہتا ہوں جس کی مجھے ضرورت تھی۔ وہ شخص جسے مجھے بڑا ہوتے دیکھنا تھا، اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے ملنا تھا، اور اپنے چاہنے والوں کے درمیان بوڑھا ہونا تھا۔
آج میری عمر اس عمر سے زیادہ ہے جس عمر میں وہ ہم سے بچھڑے تھے۔ میں نے سمندر پار کیے ہیں، اپنی لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں نے غیر معمولی مہربانی بھی دیکھی ہے اور بے رحم ظلم بھی۔
اور میرے اندر کا ایک حصہ آج بھی بارہ برس کا ہے۔ وہ ان کی میت کے پاس کھڑا ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بڑے بڑے آدمی ایک ایسے شخص کو ہتھکڑیاں کیوں لگا رہے ہیں جو اب مزاحمت بھی نہیں کر سکتا۔
تاریخ شاید انہیں کامریڈ غلام محمد لغاری کے نام سے یاد رکھے۔ ان کے چاہنے والے انہیں سندھ کا نیلسن منڈیلا کہتے ہیں۔ دنیا جدوجہد کو یاد رکھتی ہے۔ بچے اس باپ کو یاد رکھتے ہیں جو انہیں کبھی واپس نہیں ملا۔
بابا، انہوں نے آپ کے جانے کے بعد آپ کے جسم کو ہتھکڑیاں لگائیں۔ آپ کے نظریے کو وہ ہتھکڑی نہیں لگا سکے۔
آپ کا بیٹا آپ کو نہیں بھولا۔
مصنف کا تعارف
منصور لغاری امریکی آرمی نیشنل گارڈ کے سابق فوجی، عسکری امور کے ماہر اور دفاعی تجزیہ کار، انسانی حقوق کے کارکن، فلم ساز اور گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ کے بانی ہیں۔ سندھ میں پیدا ہونے والے منصور مذہبی آزادی، مسلم یہودی یکجہتی اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
یہ تحریر مصنف کی ذاتی یادداشتوں اور نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔
