ایران پر ممکنہ نئے حملے:ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مبینہ بات چیت، ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال کی اطلاعات
فوجی تیاریوں، انتخابی تاریخوں اور سفارتی رابطوں کے درمیان نئی کشیدگی؛ تاہم کسی تازہ حملے کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک نئی مشترکہ فوجی کارروائی کے امکان پر بات چیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان رابطوں میں ایران کی جوہری صلاحیتوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی مبینہ بحالی پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
Axios کی13اکتوبر2026کی رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر تبادلۂ خیال کیا۔ بعد ازاں دی یروشلم پوسٹ سمیت اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی ان رابطوں کی تفصیلات شائع کیں۔ ان رپورٹس کے مطابق، زیرِبحث ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں۔
تاہم، دونوں حکومتوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور ان اطلاعات کے بعض پہلوؤں پر اختلافات کے باعث یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نئی جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات ممکنہ منصوبہ بندی اور مشاورت کی نشاندہی کرتی ہیں، نہ کہ کسی حتمی صدارتی حکم کی۔
اسرائیل کے انتخابی عمل کی مقررہ تاریخ، جس کا رپورٹس میں ذکر ہے
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کی تاریخ
وہ غیر جوہری بم جس کے ممکنہ استعمال پر غور کی رپورٹ سامنے آئی
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کیا بات ہوئی؟
Axios نے امریکی اور اسرائیلی حکام سمیت ایسے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا جنہیں ان گفتگوؤں کا علم تھا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان پر بات اٹھائی۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایران کی جوہری سرگرمیوں اور صلاحیتوں کی بحالی سے متعلق خدشات کو ممکنہ کارروائی کے جواز کے طور پر پیش کیا۔
اس کے باوجود، اسرائیلی سلامتی کے بعض حکام سے منسوب اطلاعات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا دستیاب انٹیلی جنس فوری طور پر ایک بڑی فوجی کارروائی کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس اختلاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے بارے میں خطرے کے جائزے، کارروائی کے وقت اور ممکنہ نتائج پر فیصلہ سازی پیچیدہ ہے۔
ان مبینہ رابطوں کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسرائیل میں27اکتوبر اور امریکہ میں3نومبر کو انتخابات مقرر ہیں۔ اگر نئی فوجی کارروائی شروع ہوتی ہے تو اس کے سلامتی، معیشت، توانائی کی قیمتوں اور دونوں ممالک کے داخلی سیاسی ماحول پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان:انتخابات سے پہلے حملہ نہیں
8 اکتوبر کو ٹرمپ نے عوامی طور پر کہا کہ امریکہ3نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ Axios کی رپورٹ کے مطابق، صدر کے اس بیان کے باوجود پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ(CENTCOM)کو ایران میں ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاریوں کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
فوجی منصوبہ بندی اور سیاسی منظوری دو الگ مراحل ہیں۔ فوجی کمانڈز ممکنہ ہنگامی صورتِ حال کے لیے منصوبے تیار کر سکتی ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صدر نے کارروائی کا حکم دے دیا ہے یا اس کے لیے تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔
اہم فرق:تیاری اور منظوری
ممکنہ اہداف کی فہرست، فوجی تیاریوں کی تکمیل اور اتحادیوں کے ساتھ رابطے کسی آپریشن کے امکانات کی نشاندہی کر سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود حملہ شروع کرنے کی حتمی منظوری نہیں ہوتی۔
Axios کی7اکتوبر کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجی تیاریوں کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی اور ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اس رپورٹ میں توانائی کی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور جوہری اہداف پر بڑے حملوں کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا۔
’مدر آف آل بمز‘: کیا امریکہ ایران میں اس کا استعمال کر سکتا ہے؟
ایک الگ رپورٹ میںCNNکے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے لیے تیار کردہ منصوبوں میں GBU-43/B Massive Ordnance Air Blast، یعنیMOAB، کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہے۔ اسے میڈیا میں عام طور پر “مدر آف آل بمز” کہا جاتا ہے۔
15 اکتوبر کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق،CNNنے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی کی تنصیبات اور جوہری مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔ رائٹرز نے واضح کیا کہ وہCNNکی اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
GBU-43/B MOAB کیا ہے؟
MOAB امریکہ کا ایک بہت بڑا غیر جوہری فضائی بم ہے، جسے وسیع علاقے میں شدید دھماکہ خیز اثر پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ اسے اپریل2017میں افغانستان میں جنگی کارروائی کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔ یہ جوہری ہتھیار نہیں ہے، لیکن اس کا بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز اثر اسے امریکی روایتی اسلحے کے نمایاں ہتھیاروں میں شامل کرتا ہے۔
اس بم کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹ کے اہم پہلوؤں میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا اس کی صلاحیت کسی مخصوص زیرِزمین جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے موزوں ہوگی۔ بڑے دھماکے کی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زیرِزمین یا محفوظ ہدف لازماً تباہ ہو جائے گا۔ کسی ہتھیار کی عملی افادیت کا انحصار ہدف کی ساخت، گہرائی، حفاظتی انتظامات اور دیگر عسکری عوامل پر ہوتا ہے۔
اسرائیل میں انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ
رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی دفاعی افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع ہوئی تو تہران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اسرائیلی حکام کو انتخابات کے انعقاد میں تاخیر یا انہیں ملتوی کرنے کے امکان پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی چینل12سے منسوب رپورٹ کے مطابق، سلامتی کے حکام نے ایران کے جوہری خطرے کے جائزے میں ایسی بڑی تبدیلی کی نشاندہی نہیں کی تھی جو آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایک بڑی مشترکہ کارروائی کو ناگزیر ثابت کرے۔ اس طرح فوجی کارروائی کے وقت، انٹیلی جنس کی تشریح اور ممکنہ ایرانی ردعمل کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔
تاہم، انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ ایک رپورٹ میں بیان کردہ ممکنہ صورتِ حال ہے؛ اسے کسی حتمی فیصلے یا سرکاری اعلان کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
ایران کی میزائل صلاحیتیں اور جوہری پروگرام
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران گزشتہ فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہونے والی اپنی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض اطلاعات میں مختلف مقامات پر میزائل تجربات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی اہمیت اس لیے ہے کہ واشنگٹن اور یروشلم کو خدشہ ہے کہ طویل وقفہ ایران کو اپنی فوجی تنصیبات اور دفاعی پروگراموں کی بحالی کا موقع دے سکتا ہے۔
اس کے باوجود، کسی مخصوص جوہری سرگرمی، تنصیب کی بحالی یا میزائل تجربے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے قابلِ اعتماد اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ جوہری خطرے کا اندازہ صرف سیاسی بیانات پر نہیں بلکہ انٹیلی جنس، تکنیکی شواہد اور بین الاقوامی نگرانی کی معلومات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
کیا امریکہ اسرائیل کو اکیلے حملہ کرنے پر آمادہ کر رہا تھا؟
یروشلم پوسٹ میں10اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک الگ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے ماضی میں اسرائیل کو ایران کے خلاف یک طرفہ حملے کرنے کی ترغیب دی تھی، بجائے اس کے کہ امریکہ براہِ راست مشترکہ کارروائی میں شریک ہو۔ بعد ازاں امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس بیان کی تردید کی۔ اس لیے یہ معاملہ بھی متنازع رپورٹ کے طور پر ہی پیش کیا جانا چاہیے۔
ان اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے طریقۂ کار، ذمہ داری کی تقسیم اور سیاسی نتائج کے بارے میں مشاورت جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، مگر ہر رپورٹ کی تفصیلات پر اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
سفارت کاری یا نئی جنگ؟
ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی فوجی سرگرمیوں پر امریکہ اور اسرائیل کے خدشات کے باوجود سفارتی رابطوں کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق، قطر کے ثالث ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر جواب کے منتظر ہیں۔ تاہم، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری معاملات، پابندیوں اور سلامتی سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا دباؤ، پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے یا دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جائے۔ کسی بھی فیصلے کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج، عالمی توانائی کی منڈیوں اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
نتیجہ:فوجی منصوبہ بندی، مگر حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مبینہ بات چیت، امریکی فوجی تیاریوں اور ’مدر آف آل بمز‘ کے ممکنہ استعمال سے متعلق اطلاعات ایران کے بحران میں ایک نئے مرحلے کے خدشات کو نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم، میڈیا رپورٹس، حکام کے بیانات اور فوجی منصوبہ بندی کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
فی الحال بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن فوجی دباؤ اور سفارت کاری کے موجودہ راستے پر قائم رہے گا، یا ایران کے خلاف نئی کارروائی کی منظوری دے گا۔ اس فیصلے کے اثرات خطے کی سلامتی، انتخابی عمل، توانائی کی قیمتوں اور امریکہ و ایران کے مستقبل کے تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
