• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ایران پر نئے امریکی اسرائیلی حملوں کا امکان
خصوصی رپورٹ

ایران پر نئے امریکی اسرائیلی حملوں کا امکان

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 15, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
مشرقِ وسطیٰ⁦|⁩امریکہ⁦|⁩اسرائیل⁦|⁩ایران

ایران پر ممکنہ نئے حملے⁦:⁩ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مبینہ بات چیت، ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال کی اطلاعات

فوجی تیاریوں، انتخابی تاریخوں اور سفارتی رابطوں کے درمیان نئی کشیدگی؛ تاہم کسی تازہ حملے کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک نئی مشترکہ فوجی کارروائی کے امکان پر بات چیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان رابطوں میں ایران کی جوہری صلاحیتوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی مبینہ بحالی پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

Axios کی⁦13⁩اکتوبر⁦2026⁩کی رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر تبادلۂ خیال کیا۔ بعد ازاں دی یروشلم پوسٹ سمیت اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی ان رابطوں کی تفصیلات شائع کیں۔ ان رپورٹس کے مطابق، زیرِبحث ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں۔

تاہم، دونوں حکومتوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور ان اطلاعات کے بعض پہلوؤں پر اختلافات کے باعث یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نئی جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات ممکنہ منصوبہ بندی اور مشاورت کی نشاندہی کرتی ہیں، نہ کہ کسی حتمی صدارتی حکم کی۔

27 اکتوبر
اسرائیل کے انتخابی عمل کی مقررہ تاریخ، جس کا رپورٹس میں ذکر ہے
3 نومبر
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کی تاریخ
GBU-43/B
وہ غیر جوہری بم جس کے ممکنہ استعمال پر غور کی رپورٹ سامنے آئی

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کیا بات ہوئی؟

Axios نے امریکی اور اسرائیلی حکام سمیت ایسے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا جنہیں ان گفتگوؤں کا علم تھا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان پر بات اٹھائی۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایران کی جوہری سرگرمیوں اور صلاحیتوں کی بحالی سے متعلق خدشات کو ممکنہ کارروائی کے جواز کے طور پر پیش کیا۔

اس کے باوجود، اسرائیلی سلامتی کے بعض حکام سے منسوب اطلاعات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا دستیاب انٹیلی جنس فوری طور پر ایک بڑی فوجی کارروائی کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس اختلاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے بارے میں خطرے کے جائزے، کارروائی کے وقت اور ممکنہ نتائج پر فیصلہ سازی پیچیدہ ہے۔

ان مبینہ رابطوں کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسرائیل میں⁦27⁩اکتوبر اور امریکہ میں⁦3⁩نومبر کو انتخابات مقرر ہیں۔ اگر نئی فوجی کارروائی شروع ہوتی ہے تو اس کے سلامتی، معیشت، توانائی کی قیمتوں اور دونوں ممالک کے داخلی سیاسی ماحول پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کا بیان⁦:⁩انتخابات سے پہلے حملہ نہیں

8 اکتوبر کو ٹرمپ نے عوامی طور پر کہا کہ امریکہ⁦3⁩نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ Axios کی رپورٹ کے مطابق، صدر کے اس بیان کے باوجود پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ⁦(CENTCOM)⁩کو ایران میں ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاریوں کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

فوجی منصوبہ بندی اور سیاسی منظوری دو الگ مراحل ہیں۔ فوجی کمانڈز ممکنہ ہنگامی صورتِ حال کے لیے منصوبے تیار کر سکتی ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صدر نے کارروائی کا حکم دے دیا ہے یا اس کے لیے تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔

اہم فرق⁦:⁩تیاری اور منظوری

ممکنہ اہداف کی فہرست، فوجی تیاریوں کی تکمیل اور اتحادیوں کے ساتھ رابطے کسی آپریشن کے امکانات کی نشاندہی کر سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود حملہ شروع کرنے کی حتمی منظوری نہیں ہوتی۔

Axios کی⁦7⁩اکتوبر کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجی تیاریوں کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی اور ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اس رپورٹ میں توانائی کی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور جوہری اہداف پر بڑے حملوں کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا۔

’مدر آف آل بمز‘: کیا امریکہ ایران میں اس کا استعمال کر سکتا ہے؟

ایک الگ رپورٹ میں⁦CNN⁩کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے لیے تیار کردہ منصوبوں میں GBU-43/B Massive Ordnance Air Blast، یعنی⁦MOAB⁩، کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہے۔ اسے میڈیا میں عام طور پر “مدر آف آل بمز” کہا جاتا ہے۔

15 اکتوبر کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق،⁦CNN⁩نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی کی تنصیبات اور جوہری مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔ رائٹرز نے واضح کیا کہ وہ⁦CNN⁩کی اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

’مدر آف آل بمز‘ کے ممکنہ استعمال کی رپورٹ سامنے آئی ہے، لیکن یہ کسی منظور شدہ حملے یا اس ہتھیار کے استعمال کے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کرتی۔

GBU-43/B MOAB کیا ہے؟

MOAB امریکہ کا ایک بہت بڑا غیر جوہری فضائی بم ہے، جسے وسیع علاقے میں شدید دھماکہ خیز اثر پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ اسے اپریل⁦2017⁩میں افغانستان میں جنگی کارروائی کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔ یہ جوہری ہتھیار نہیں ہے، لیکن اس کا بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز اثر اسے امریکی روایتی اسلحے کے نمایاں ہتھیاروں میں شامل کرتا ہے۔

اس بم کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹ کے اہم پہلوؤں میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا اس کی صلاحیت کسی مخصوص زیرِزمین جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے موزوں ہوگی۔ بڑے دھماکے کی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زیرِزمین یا محفوظ ہدف لازماً تباہ ہو جائے گا۔ کسی ہتھیار کی عملی افادیت کا انحصار ہدف کی ساخت، گہرائی، حفاظتی انتظامات اور دیگر عسکری عوامل پر ہوتا ہے۔

اسرائیل میں انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی دفاعی افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع ہوئی تو تہران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اسرائیلی حکام کو انتخابات کے انعقاد میں تاخیر یا انہیں ملتوی کرنے کے امکان پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی چینل⁦12⁩سے منسوب رپورٹ کے مطابق، سلامتی کے حکام نے ایران کے جوہری خطرے کے جائزے میں ایسی بڑی تبدیلی کی نشاندہی نہیں کی تھی جو آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایک بڑی مشترکہ کارروائی کو ناگزیر ثابت کرے۔ اس طرح فوجی کارروائی کے وقت، انٹیلی جنس کی تشریح اور ممکنہ ایرانی ردعمل کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔

تاہم، انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ ایک رپورٹ میں بیان کردہ ممکنہ صورتِ حال ہے؛ اسے کسی حتمی فیصلے یا سرکاری اعلان کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

ایران کی میزائل صلاحیتیں اور جوہری پروگرام

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران گزشتہ فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہونے والی اپنی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض اطلاعات میں مختلف مقامات پر میزائل تجربات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی اہمیت اس لیے ہے کہ واشنگٹن اور یروشلم کو خدشہ ہے کہ طویل وقفہ ایران کو اپنی فوجی تنصیبات اور دفاعی پروگراموں کی بحالی کا موقع دے سکتا ہے۔

اس کے باوجود، کسی مخصوص جوہری سرگرمی، تنصیب کی بحالی یا میزائل تجربے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے قابلِ اعتماد اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ جوہری خطرے کا اندازہ صرف سیاسی بیانات پر نہیں بلکہ انٹیلی جنس، تکنیکی شواہد اور بین الاقوامی نگرانی کی معلومات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

کیا امریکہ اسرائیل کو اکیلے حملہ کرنے پر آمادہ کر رہا تھا؟

یروشلم پوسٹ میں⁦10⁩اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک الگ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے ماضی میں اسرائیل کو ایران کے خلاف یک طرفہ حملے کرنے کی ترغیب دی تھی، بجائے اس کے کہ امریکہ براہِ راست مشترکہ کارروائی میں شریک ہو۔ بعد ازاں امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس بیان کی تردید کی۔ اس لیے یہ معاملہ بھی متنازع رپورٹ کے طور پر ہی پیش کیا جانا چاہیے۔

ان اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے طریقۂ کار، ذمہ داری کی تقسیم اور سیاسی نتائج کے بارے میں مشاورت جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، مگر ہر رپورٹ کی تفصیلات پر اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

سفارت کاری یا نئی جنگ؟

ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی فوجی سرگرمیوں پر امریکہ اور اسرائیل کے خدشات کے باوجود سفارتی رابطوں کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق، قطر کے ثالث ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر جواب کے منتظر ہیں۔ تاہم، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری معاملات، پابندیوں اور سلامتی سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا دباؤ، پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے یا دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جائے۔ کسی بھی فیصلے کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج، عالمی توانائی کی منڈیوں اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

نتیجہ⁦:⁩فوجی منصوبہ بندی، مگر حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مبینہ بات چیت، امریکی فوجی تیاریوں اور ’مدر آف آل بمز‘ کے ممکنہ استعمال سے متعلق اطلاعات ایران کے بحران میں ایک نئے مرحلے کے خدشات کو نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم، میڈیا رپورٹس، حکام کے بیانات اور فوجی منصوبہ بندی کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔

فی الحال بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن فوجی دباؤ اور سفارت کاری کے موجودہ راستے پر قائم رہے گا، یا ایران کے خلاف نئی کارروائی کی منظوری دے گا۔ اس فیصلے کے اثرات خطے کی سلامتی، انتخابی عمل، توانائی کی قیمتوں اور امریکہ و ایران کے مستقبل کے تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیویارک اُردو — عالمی امور، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سلامتی پر باخبر مکالمہ
GBU-43/B MOAB اسرائیل اسرائیلی انتخابات 2026 امریکہ امریکی انتخابات 2026 امریکی فوج ایران ایران پر ممکنہ حملہ ایران کا جوہری پروگرام بنیامین نیتن یاہو بیلسٹک میزائل ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری سینٹکام عالمی سلامتی مدر آف آل بمز مشرق وسطیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکامریڈ غلام محمد لغاری⁦:⁩ایک بیٹے کی یادداشت
Next Article امریکی انتخابات⁦:⁩جے ڈی وینس پُرامید
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.