پشاور کا سانحہ:بچوں کی حفاظت کے لیے اب عملی اقدامات ناگزیر ہیں
پشاور میں اسکول کی عمارت منہدم ہونے سے کم از کم33بچوں اور ایک استاد کی ہلاکت پاکستان کو ایک تلخ سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرنی چاہیے:ہمارے اسکولوں کی حفاظت کو حقیقی قومی ترجیح بنانے سے پہلے مزید کتنے بچوں کو اپنی جانیں گنوانا ہوں گی؟
دیر کالونی کے الخیر اسکول میں جاں بحق ہونے والے بچے ایک معمول کی صبح کلاسیں لینے آئے تھے۔ ان کے والدین نے انہیں اس امید کے ساتھ اسکول بھیجا تھا کہ وہ سبق پڑھ کر، کتابیں اٹھائے، اپنی کہانیاں سناتے اور دن بھر کے واقعات پر باتیں کرتے ہوئے گھر واپس آئیں گے۔ لیکن اس کے بجائے خاندانوں کو ایک تباہ شدہ عمارت کے باہر کھڑے ہو کر اپنے بچوں کی تلاش میں ملبہ ہٹاتے امدادی کارکنوں کو دیکھنا پڑا۔
ان والدین کے لیے اس نقصان کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ملک کے لیے یہ لمحہ سنجیدہ غوروفکر اور فوری اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے14بچے جاں بحق ہوئے۔ دو روز بعد باغبانپورہ میں ایک اور اسکول کی چھت گرنے سے آٹھ سالہ بچہ جان سے گیا۔ اب پشاور نے ایک اور تباہ کن نقصان دیکھا ہے۔
یہ واقعات محض بدقسمت حادثات نہیں جن پر افسوس کرکے انہیں بھلا دیا جائے۔ یہ عمارتوں کی حفاظت، نگرانی کے نظام اور بچوں کے تحفظ کے ذمہ دار افراد کی جواب دہی کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں۔
تعزیت ضروری ہے۔ مرحوم بچوں کے لیے دعا اور سوگوار خاندانوں کی مدد بھی اتنی ہی اہم ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی چیز جواب دہی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اگر ملک ایک اور اسکول سانحے کے بعد بھی صرف افسوس کے بیانات، تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام اور مستقبل میں اقدامات کے وعدوں تک محدود رہا تو وہ پشاور کے سانحے سے سب سے اہم سبق سیکھنے میں ناکام ہو جائے گا۔
کیا اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا؟
پولیس کے ابتدائی نتائج کے مطابق الخیر اسکول کی عمارت میں ساختی کمزوریاں تھیں اور اس کی چھت ناقص طریقے سے تعمیر کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق عمارت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تھا اور چھت کا سلیب اس وزن کو برداشت نہیں کر سکا۔ اطلاعات کے مطابق چھت گرنے سے کئی منزلوں پر موجود کلاس روم بھی منہدم ہو گئے اور بچے ملبے تلے دب گئے۔
اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تفتیش کاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عمارت کے ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیں اور یہ معلوم کریں کہ آیا غفلت اس تباہی کا سبب بنی۔
ذمہ داری کا تعین کرنے سے پہلے ان نتائج کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ تاہم، یہ ابتدائی معلومات پہلے ہی ایک ایسے وسیع تر مسئلے کی نشان دہی کرتی ہیں جسے صرف ایک فرد کے خلاف مقدمہ چلانے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے بہت سے علاقوں میں تعلیمی ادارے ایسی عمارتوں میں کام کرتے ہیں جنہیں اصل میں بڑی تعداد میں طلبہ کے لیے تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔ رہائشی مکانات کو اسکولوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، اضافی منزلیں بنا دی جاتی ہیں اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جگہ دینے کے لیے عارضی کلاس روم قائم کر دیے جاتے ہیں۔ گنجان آباد محلوں میں زیادہ بچوں کو داخل کرنے کا دباؤ بعض اوقات عمارت کے استحکام، ہنگامی راستوں اور عمارت کی موزونیت جیسے سوالات پر غالب آ جاتا ہے۔
رہائشی عمارت میں قائم ہر اسکول لازماً غیر محفوظ نہیں ہوتا۔ لیکن کسی بھی ادارے کو اس وقت تک بچوں کے داخلے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس کی عمارت مطلوبہ حفاظتی معیار پر پوری اترتی ہے۔
جو عمارت ایک خاندان کے رہنے کے لیے موزوں ہو، ضروری نہیں کہ وہ اسکول کے لیے بھی مناسب ہو۔ عمارت میں موجود افراد کی تعداد، ساخت پر پڑنے والا وزن، چھت کی حالت اور ہنگامی صورت حال میں بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی صلاحیت—ان سب کا ماہرین سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ کوئی ایسی پرتعیش سہولتیں نہیں جن کا تعلق صرف مہنگے اداروں سے ہو۔ یہ ہر اس جگہ کی بنیادی ضروریات ہیں جہاں بچے اپنے دن کا ایک بڑا حصہ گزارتے ہیں۔
اسکول کی رجسٹریشن کس بات کی ضمانت ہے؟
پشاور کے واقعے سے متعلق سب سے تشویش ناک سوالات میں سے ایک نگرانی اور ضابطہ بندی کے نظام سے متعلق ہے۔ اطلاعات کے مطابق الخیر اسکول متعلقہ نجی اسکول اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ تھا، تاہم بتایا گیا ہے کہ اس کے معائنے کے دوران تکنیکی ماہرین موجود نہیں تھے۔
اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو اس سے نظام کی مؤثریت پر ایک سنگین سوال اٹھتا ہے:کسی اسکول کو سرکاری رجسٹریشن کیسے دی جا سکتی ہے، اگر اس کی عمارت کی ساختی سلامتی کا مناسب جائزہ ہی نہ لیا گیا ہو؟
رجسٹریشن محض انتظامی منظوری سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ اسے اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ ادارہ محفوظ طریقے سے کام کرنے کے لیے ضروری تقاضے پورے کرتا ہے۔ اگر عمارت کا کبھی کسی مستند ماہر سے مناسب معائنہ ہی نہ ہوا ہو تو سرٹیفکیٹ کی کوئی حقیقی اہمیت نہیں رہتی۔
تفتیش کاروں کو معلوم کرنا چاہیے کہ آیا اسکول کے پاس عمارت کی ضروری منظوری موجود تھی، کیا اس میں تبدیلیاں باقاعدہ اجازت سے کی گئی تھیں اور کیا احاطے کا مناسب حفاظتی معائنہ ہوا تھا۔ انہیں یہ بھی جانچنا چاہیے کہ آیا عمارت کے بارے میں پہلے کوئی خدشات ظاہر کیے گئے تھے اور اگر ایسا تھا تو حکام نے کیا کارروائی کی۔
تحقیقات میں اسکول انتظامیہ کے ساتھ متعلقہ نگران اور بلدیاتی اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر مالک نے جان بوجھ کر حفاظتی تقاضوں کو نظرانداز کیا تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر سرکاری اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
تحقیقات کا مقصد کسی ایک فرد کو آسان ہدف بنا کر معاملہ بند کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد ذمہ داری کی پوری زنجیر کا تعین کرنا اور ان ناکامیوں کی نشان دہی کرنا ہے جن کے باعث بچوں کو ممکنہ طور پر خطرناک عمارت میں رہنے دیا گیا۔
اس وسیع تر جائزے کے بغیر یہی کمزوریاں دوسرے مقامات پر بھی برقرار رہ سکتی ہیں۔
کمیٹیاں بنیں تو عملی اقدامات بھی ہوں
خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی اداروں کے حفاظتی آڈٹ کا اعلان کیا ہے، جبکہ عمارت گرنے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی سرکاری اور نجی اسکولوں کے معائنے اور غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف کارروائی مضبوط بنانے کے لیے قانونی اقدامات پر زور دیا ہے۔
یہ اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہوگا۔
پاکستان میں ایسے بہت سے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سانحے کے فوراً بعد سرکاری ردعمل سامنے آیا، پھر کئی ہفتوں تک بحث جاری رہی، مگر نمایاں تبدیلی دکھائی نہ دی۔ کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، رپورٹوں کا وعدہ کیا جاتا ہے اور سخت کارروائی کا اعلان ہوتا ہے۔ اس کے باوجود عوام کو اکثر یہ واضح نہیں بتایا جاتا کہ تحقیقات میں کیا سامنے آیا، کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور آئندہ واقعے کو روکنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے۔
پشاور کو اس طرزِ عمل کی ایک اور مثال نہیں بننا چاہیے۔
صوبائی حکام کو تحقیقاتی نتائج شائع کرنے چاہییں اور واضح کرنا چاہیے کہ ان کے بعد کون سے اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔ جس تعلیمی عمارت کو ساختی اعتبار سے خطرناک قرار دیا جائے، اسے اس وقت تک بند رکھا جائے جب تک مستند انجینئر اس کے محفوظ ہونے کی تصدیق نہ کر دیں۔ جہاں مرمت ممکن ہو، وہاں دوبارہ کھولنے کی اجازت مالک یا انتظامیہ کی یقین دہانیوں پر نہیں بلکہ حفاظتی معیار پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد دی جانی چاہیے۔
حفاظتی آڈٹ صرف رجسٹرڈ نجی اسکولوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ سرکاری اسکولوں، ٹیوشن سینٹروں اور رہائشی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ حکام کو یہ بھی جانچنا چاہیے کہ آیا عمارتوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں یا انہیں منظور شدہ گنجائش سے زیادہ بھرا گیا ہے جو خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ لاہور میں ہونے والی اموات ظاہر کرتی ہیں کہ پنجاب کو بھی اسی نوعیت کے خطرات درپیش ہیں۔ دوسرے صوبوں کو بھی اپنے ضابطہ جاتی نظاموں کا جائزہ لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ کسی نئے سانحے کا انتظار کیا جائے جو موجودہ کمزوریوں کو بے نقاب کرے۔
ملک گیر اسکول سیفٹی پروگرام کے تحت عمارت کی منظوری، تعلیمی رجسٹریشن اور باقاعدہ ساختی سرٹیفکیشن کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ معائنے مستند ماہرین کریں، ان کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور مناسب وقفوں سے انہیں دہرایا جائے۔ والدین، اساتذہ اور مقامی رہائشیوں کے لیے بھی ایسا واضح طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے ذریعے وہ ممکنہ خطرات کی اطلاع دے سکیں۔
جہاں خلاف ورزی جان بوجھ کر کی گئی ہو، وہاں مؤثر سزائیں دی جانی چاہییں۔ اگر سرکاری اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریاں نظرانداز کی ہوں تو شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
سہولت سے پہلے حفاظت
حفاظتی معیار نافذ کرنے کے لیے وسائل، منصوبہ بندی اور محکمہ ہائے تعلیم، مقامی حکومتوں اور عمارتوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون درکار ہوگا۔ کم آمدنی والے علاقوں میں بچوں کو تعلیم دینے والے بعض اسکولوں کو ساختی خامیوں کی اصلاح کے لیے تکنیکی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ذمہ داری سے کام کرنے والے اسکول منتظمین کو ان معیاروں کے بارے میں واضح رہنمائی بھی ملنی چاہیے جن پر عمل کرنا ان کے لیے لازم ہے۔
لیکن مدد فراہم کرنے کے عمل کو کبھی بھی اس جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کہ بچوں کو ایسی عمارتوں میں رہنے دیا جائے جو فوری خطرہ بن چکی ہوں۔
اگر کوئی اسکول اپنے طلبہ کو محفوظ جگہ فراہم نہیں کر سکتا تو حکام کو، جہاں ممکن ہو، متبادل انتظام کرنا چاہیے۔ غیر محفوظ عمارت بند کرنے سے تعلیم میں خلل پڑ سکتا ہے، لیکن بچوں کو وہاں رہنے دینا ان کی جان لے سکتا ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ حفاظتی مسئلے کو حل کیا جائے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بچوں کی تعلیم غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔
ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق الخیر اسکول تک پہنچنے میں امدادی کارکنوں کو دشواری پیش آئی کیونکہ عمارت ایک تنگ گلی میں واقع تھی۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہنگامی رسائی، انخلا کے انتظامات اور آگ لگنے، عمارت گرنے یا کسی دوسرے سنگین واقعے کے دوران اسکول کی فوری ردعمل کی صلاحیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
حفاظت کا آغاز ایمبولینس پہنچنے پر نہیں ہوتا۔ اس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب عمارت کو استعمال کی منظوری دی جاتی ہے، اس کی حالت کا معائنہ کیا جاتا ہے اور اسکول یہ طے کرتا ہے کہ وہ کتنے بچوں کو محفوظ طریقے سے جگہ دے سکتا ہے۔
والدین کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے انجینئر، عمارتوں کے انسپکٹر یا قانونی ماہر بننے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا محفوظ ہے یا نہیں۔ یہ ذمہ داری ان اداروں کی ہے جنہیں بچوں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
غم کو ذمہ داری میں بدلنا ہوگا
پشاور میں اپنے بچوں کو کھونے والے خاندان محض ہمدردی سے بڑھ کر مدد کے مستحق ہیں۔ انہیں قابلِ اعتماد تحقیقات، جہاں غلطی یا جرم ثابت ہو وہاں انصاف، اور اس ناقابلِ تصور صدمے سے گزرنے کے دوران عملی معاونت ملنی چاہیے۔ زخمی بچوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو تنہا اس بوجھ کا سامنا نہ کرنے دیا جائے۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عوامی اعتماد اس بات پر منحصر ہوگا کہ خبریں ختم ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ سانحے کے فوراً بعد اعلانات کرنا آسان ہے۔ مسلسل نگرانی، شفاف رپورٹنگ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے مستقل عزم درکار ہوتا ہے۔
پاکستان کے بچے اس کا مستقبل ہیں، لیکن یہ جملہ سرکاری تقاریر میں دہرایا جانے والا محض ایک مانوس فقرہ نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا تحفظ محفوظ کلاس رومز، مؤثر نگرانی اور ایسے ضابطہ جاتی نظام میں سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے جو ہر تنبیہ کو سنجیدگی سے لے۔
کسی اسکول مالک کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عمارت کی ساختی گنجائش سے بڑھ کر اضافی منزلیں یا حد سے زیادہ بھرے ہوئے کلاس روم قائم کر دے۔ کسی سرکاری اہلکار کو بھی ضروری معائنے مکمل کیے بغیر عمارت کی منظوری دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ اور کسی تحقیقاتی کمیٹی کو یہ بتائے بغیر اپنی کارروائی ختم نہیں کرنی چاہیے کہ کیا غلط ہوا اور دوسرے مقامات پر اسی ناکامی کو کیسے روکا جائے گا۔
لاہور کے پہلے واقعات کے بعد پشاور میں ہونے والی اموات ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونی چاہییں۔ ملک کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں بچوں کے کلاس روم میں داخل ہونے سے پہلے اسکول کی حفاظت کی تصدیق کی جائے، نہ کہ چھت گرنے کے بعد تحقیقات شروع ہوں۔
تعزیت کے بیانات مزید آئیں گے۔ مرحوم بچوں کے لیے دعائیں ہوں گی اور غم زدہ خاندانوں کو تسلی دی جائے گی۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد یہ سب مناسب اور ضروری ہے، لیکن یہ صرف ابتدا ہے۔
تعزیت سے آگے بڑھ کر عمل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے بچے ایک اور ادھورا وعدہ برداشت نہیں کر سکتے۔
