نیتن یاہو نے اسرائیل کی قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی جاری کر دی
پیشگی حملوں، دفاعی خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی طاقت کی حیثیت مستحکم کرنے پر زور
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل کی قومی سلامتی سے متعلق نئی حکمتِ عملی عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ7اکتوبر2023کے حملے کے بعد ہونے والی جنگ نے ملک کے روایتی سلامتی اصولوں پر نظرِثانی کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ ان کے مطابق نئی حکمتِ عملی میں خطرات کو صرف روکنے یا دفاع تک محدود رہنے کے بجائے ان کے ابھرنے سے پہلے کارروائی کرنے، داخلی محاذ کو مضبوط بنانے اور دفاعی شعبے میں زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے کو اہمیت دی گئی ہے۔
7 اکتوبر کے حملے اور جنگ کا پس منظر
نیتن یاہو کے بیان کے مطابق،7اکتوبر2023کے حملے نے اسرائیل کو ایک شدید جنگ لڑنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ سے یمن، لبنان اور ایران تک جاری فوجی کارروائیوں کے ذریعے اسرائیل نے ایک قریب الوقوع، وجودی نوعیت کے جوہری خطرے کو ٹالا اور ایران کے زیرِاثر محور کی جانب سے پیدا کردہ دباؤ کا خاتمہ کیا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی کابینہ نے سوچ سمجھ کر فیصلے کیے، اسرائیلی دفاعی افواج(آئی ڈی ایف)اور سکیورٹی اداروں نے بھرپور طاقت استعمال کی، جبکہ شہری آبادی نے بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
نیتن یاہو کے بیان کا مرکزی مؤقف: جنگ کے تجربات نے اسرائیل کی قومی سلامتی کے روایتی اصولوں کو اپ گریڈ کرنے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت پیدا کی ہے۔
قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کے بنیادی نکات
نیتن یاہو کے مطابق، جس جنگ کو انہوں نے ’’جنگِ نجات‘‘ قرار دیا، اس نے اسرائیل کی روایتی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلیوں کو ضروری بنا دیا ہے۔ نئی پالیسی کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
نئے علاقائی اور عالمی اتحادوں کے امکانات
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر نئے اتحاد قائم کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی نہ صرف فوجی دفاع اور خطرات کے مقابلے پر توجہ دیتی ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داری کے امکانات کو بھی اہمیت دیتی ہے۔
حکمتِ عملی کی تیاری
بیان کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی قومی سلامتی کونسل(این ایس سی)اور اس کے سربراہ شمویل بین عزرا کی معاونت سے تیار کی گئی۔
