• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » بازارِ فریب⁦:⁩خواہش، صارف اور انسانی آزادی
تازہ ترین

بازارِ فریب⁦:⁩خواہش، صارف اور انسانی آزادی

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
نیو یارک اُردو⁦|⁩نقطۂ نظر

بازارِ فریب

خواہش، صارف اور انسانی آزادی

ت ر

تاشفین رضوان

تحریر و آرٹ⁦|⁩بصری فنکار و مجسمہ ساز


جرمن مفکرین میکس ہورک ہائمر اور تھیوڈور ڈبلیو اڈورنو کی کتاب Dialectic of Enlightenment: Philosophical Fragments کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے⁦:⁩کیا ہم واقعی آزاد انسان ہیں، یا آہستہ آہستہ ایسی منڈی کی مصنوعات میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں ہماری پسند، خواہشات اور خوشیوں تک کو تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے؟

بظاہر ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں انتخاب کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ہم اپنی پسند کے کپڑے خرید سکتے ہیں، اپنی مرضی کا فون منتخب کر سکتے ہیں، مختلف طرزِ زندگی اپنا سکتے ہیں اور اپنی کامیابی کی تعریف خود کر سکتے ہیں۔ لیکن ذرا ٹھہر کر دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان انتخابوں کے پیچھے بھی ایسی قوتیں سرگرم ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا پسندیدہ ہے، کیا جدید ہے، کیا قابلِ حصول ہے اور کامیاب دکھائی دینے کے لیے ہمارے پاس کیا کچھ ہونا چاہیے۔

یوں زندگی ایک مسلسل مقابلے میں بدل جاتی ہے۔ ہم کچھ حاصل کرتے ہیں، چند لمحوں کے لیے خوش ہوتے ہیں، پھر کسی نئی خواہش کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں۔ منزل قریب آنے کے بجائے مزید دور ہوتی جاتی ہے، اور ہم یہ سوال کرنا بھول جاتے ہیں کہ آخر اس دوڑ کا اختتام کہاں ہے۔

ایک شاپنگ مال اور لمبی قطار

ایک شام میں شاپنگ مال کے باہر کھڑا لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک نئے موبائل فون کی خریداری کے لیے طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ لوگوں کے چہروں پر جوش تھا، نگاہوں میں چمک تھی اور ہر شخص یوں بے تاب دکھائی دیتا تھا جیسے کوئی غیر معمولی کامیابی اس کی منتظر ہو۔

کمپنی کا اعلان تھا:

’’لیمٹڈ ایڈیشن ختم ہونے والا ہے!‘‘

اس ایک جملے نے خریداری کو محض ایک تجارتی عمل سے بڑھا کر فوری حصول کی دوڑ میں بدل دیا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی قیمتی موقع ہاتھ سے نکلنے والا ہو، جیسے اس فون کو حاصل کر لینا کسی بڑی خوشی یا کامیابی کے حصول کے برابر ہو۔

میں ان چہروں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا⁦:⁩کیا یہ لوگ واقعی اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنے جا رہے ہیں، یا انہیں ایک ایسی ضرورت کا احساس دلایا گیا ہے جو شاید اس سے پہلے ان کی زندگی میں موجود ہی نہیں تھی؟

اسی دوران ایک نوجوان نے اپنے دوست سے کہا:

’’دیکھو، میں نے نیا فون لے لیا ہے، نیا ماڈل!‘‘

دوست نے تحسین آمیز لہجے میں جواب دیا:

’’واہ⁦!⁩کمال کر دیا، تم تو سب سے آگے نکل گئے۔‘‘

میں نے دل ہی دل میں سوچا⁦:⁩آخر کس دوڑ میں آگے؟

کیا انسان کی قدر اس کے فون کے ماڈل سے طے ہوتی ہے؟ کیا کسی شے کا مالک بن جانا ہمیں دوسروں سے برتر بنا دیتا ہے؟ اور اگر ہماری شناخت ان اشیا سے وابستہ ہو جائے جنہیں ہم خریدتے ہیں، تو پھر ہماری اپنی ذات کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

چند ماہ بعد یہی فون پرانا قرار دے دیا جائے گا۔ ایک نیا ماڈل آئے گا، اس کے ساتھ ایک نئی تشہیری مہم شروع ہوگی، اور حصول کی یہی خواہش دوبارہ بیدار کر دی جائے گی۔ کل جو شے جدیدیت اور کامیابی کی علامت تھی، آج معمولی دکھائی دینے لگے گی۔

بازار کا یہ چکر محض اشیا کی خرید و فروخت تک محدود نہیں۔ یہ خواہش پیدا کرتا ہے، اسے ضرورت کا نام دیتا ہے، اس کی تکمیل کا راستہ فروخت کرتا ہے اور پھر ہماری توجہ ایک نئی کمی کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ یوں ایک خواہش کی تکمیل دوسری خواہش کی ابتدا بن جاتی ہے۔

شاید اس دوڑ کا اصل مسئلہ چیزوں کی کمی نہیں، بلکہ یہ مسلسل احساس ہے کہ ہمارے پاس ابھی کچھ کم ہے، ہم ابھی مکمل نہیں ہوئے اور ہمیں مزید کچھ حاصل کرنا ہے۔

بازار ہماری خواہشات کیسے تشکیل دیتا ہے؟

ہورک ہائمر اور اڈورنو اپنی مشترکہ تصنیف Dialectic of Enlightenment: Philosophical Fragments میں جدید تہذیب اور روشن خیالی کے عقلی تضادات کا جائزہ اس طرح لیتے ہیں کہ جس ترقی اور آزادی کے دعوے رکھنے والا معاشرہ انسان کو نئی ضرورتوں کا تابع بنا سکتا ہے۔

کتاب کا باب “The Culture Industry: Enlightenment as Mass Deception” اس امر پر تنقید کرتا ہے کہ ثقافت اور تفریح بھی صنعتی پیداوار، معیاری تشکیل اور تجارتی مفادات کے تابع ہو سکتی ہیں۔

آج کے صارف کو اس فکری تناظر میں دیکھا جائے تو اشتہارات کا کردار محض کسی شے کی خصوصیات بیان کرنے تک محدود نہیں رہتا۔ وہ ہماری خود شناسی، احساسِ محرومی اور سماجی حیثیت کے تصورات پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہمیں بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید ہم اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک ہمارے پاس جدید ترین فون، مہنگے کپڑے، معروف برانڈ کی مصنوعات یا کامیابی کی کوئی نمایاں علامت موجود نہ ہو۔

بازار صرف چیزیں فروخت نہیں کرتا؛ وہ ان کے ساتھ وابستہ معنی بھی فروخت کرتا ہے۔

ایک فون رابطے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ سماجی مرتبے کی علامت بن جاتا ہے۔ لباس جسم ڈھانپنے کی ضرورت سے آگے بڑھ کر شناخت اور قبولیت کا پیمانہ بن سکتا ہے، جب کہ گھر رہائش کے بجائے کامیابی کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہم چیزیں کیوں خریدتے ہیں۔ انسانی زندگی میں ضروریات بھی ہیں، آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کی خواہش بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری حقیقی ضروریات کہاں ختم ہوتی ہیں اور وہ مصنوعی خواہشات کہاں سے شروع ہوتی ہیں جنہیں تشہیر، سماجی موازنے اور منافع کی منطق مسلسل تقویت دیتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے انتخاب کر رہے ہیں، لیکن ہمارے انتخاب کا ماحول اس انداز سے ترتیب دیا جا سکتا ہے کہ بعض چیزیں ناگزیر، بعض خواہشات فطری اور بعض طرزِ زندگی کامیابی کی واحد صورت دکھائی دینے لگیں۔

یہی بازارِ فریب کی پیچیدہ صورت ہے۔ فریب ہمیشہ جھوٹ بولنے سے پیدا نہیں ہوتا؛ کبھی حقیقت اور خواہش کے درمیان ایسا باریک پردہ حائل ہو جاتا ہے کہ ہم خود بھی دونوں میں فرق نہیں کر پاتے۔

ہجوم کی نفسیات اور گم ہوتی ہوئی انفرادیت

یہ صورتِ حال مجھے جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کی فکر، خصوصاً ان کی تصنیف Thus Spoke Zarathustra، کی طرف لے جاتی ہے۔ نطشے کے ہاں فرد کی خود تخلیقی قوت، مروجہ اقدار پر سوال اٹھانے اور اپنی زندگی کو خود معنی دینے کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی فکر محض ہجوم سے الگ ہونے کی دعوت نہیں؛ اس میں خود شناسی، اپنی اقدار کی ازسرِنو جانچ اور اپنی صلاحیتوں کی تخلیقی تشکیل کا سوال بھی شامل ہے۔

انسان کے لیے ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معیار خود متعین کرنے کے بجائے معاشرے کے طے کردہ معیار کو قبول کر لے۔ وہ وہی چاہنے لگتا ہے جو دوسرے چاہتے ہیں، وہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جسے اکثریت کامیابی سمجھتی ہے، اور اپنی خوشی کا اندازہ بھی دوسروں کی منظوری سے لگانے لگتا ہے۔

یوں ہجوم محض لوگوں کا مجموعہ نہیں رہتا؛ وہ ایک ایسا پیمانہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے فرد اپنی قدر متعین کرتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کسی شخص کے پاس مہنگی گاڑی، جدید فون اور آسائشوں سے بھرا گھر ہو، لیکن اسے اپنی ذات کے ساتھ چند لمحے سکون سے گزارنا دشوار لگے، تو کیا اسے کامیاب کہا جا سکتا ہے؟ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کے پاس محدود وسائل ہوں، لیکن وہ اپنی فکر، تخلیقی صلاحیت اور انسانی رشتوں میں آزادی محسوس کرتا ہو، تو کیا وہ لازماً ناکام ہے؟

یہ سوال دولت کی نفی نہیں کرتا، نہ ہی محرومی کو کسی مثالی زندگی میں تبدیل کرتا ہے۔ مادی وسائل انسانی وقار، تحفظ اور امکانات کے لیے اہم ہیں۔ لیکن دولت کو انسانی قدر کا واحد پیمانہ بنا دینا ایک بنیادی غلطی ہے۔

میرے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کامیابی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر کامیابی کا مطلب صرف دوسروں سے آگے نکلنا، زیادہ جمع کرنا اور اپنی حیثیت کا مسلسل اظہار کرنا رہ جائے، تو انسان اپنی زندگی کو ایک ایسے مقابلے کے حوالے کر دیتا ہے جس کے قواعد بھی اس نے خود طے نہیں کیے ہوتے۔

اس صورت میں خواہشیں ذاتی دریافت کے بجائے دوسروں کی خواہشوں کا عکس بن جاتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی تخلیق کرنے کے بجائے پہلے سے مقرر راستوں پر چلنے لگتا ہے، اور اس کی انفرادیت اسی وقت تک قابلِ قبول رہتی ہے جب تک وہ معاشرتی منظوری کے دائرے میں رہتی ہے۔

فن، تخلیق اور آزادی

ایک تخلیق کار کی حیثیت سے میں اس مسئلے کو صرف بازار یا صارفیت کی تنقید کے طور پر نہیں دیکھتا۔ میرے لیے یہ تخلیق، خود شناسی اور آزادی کا سوال بھی ہے۔

جب میں کینوس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں تو میرے لیے سب سے اہم بات یہ نہیں ہوتی کہ کون سا انداز مقبول ہے، کون سا فن زیادہ فروخت ہو رہا ہے یا لوگ کس قسم کی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں ایک نقطے سے آغاز کرتا ہوں، پھر ایک لکیر کو آگے بڑھنے دیتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لکیر کہاں تک جائے گی، کس چہرے میں ڈھلے گی، کس شکل کو توڑے گی یا میرے اندر کی کون سی کیفیت کو ظاہر کرے گی۔

میں اس عمل میں اپنی داخلی کیفیت، وجدان اور تخیل کے ساتھ مکالمہ کرتا ہوں۔ میرے لیے تخلیق کا بنیادی حسن یہی ہے کہ اس کی منزل پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی۔ کبھی فن پارہ مجھے وہاں لے جاتا ہے جہاں پہنچنے کا میں نے ابتدا میں تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

یہ غیر یقینی محض فنی تجربہ نہیں؛ یہ آزادی بھی ہے۔ یہاں میں کسی پہلے سے مقرر معیار کی نقل کرنے کے بجائے اپنے اندر موجود امکانات کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

فن ہمیں صرف دیکھنے کے لیے کوئی شے نہیں دیتا؛ وہ ہمارے دیکھنے کا انداز بھی بدل سکتا ہے۔

فن کی یہی خودمختاری اسے محض ایک قابلِ فروخت شے سے آگے لے جاتی ہے۔ ایک فن پارہ بازار میں قیمت رکھ سکتا ہے، کسی مجموعے کا حصہ بن سکتا ہے اور معاشی قدر حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس کی معنوی اہمیت کو صرف ان پیمانوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں انسانی تجربے، اضطراب، یادداشت، احتجاج اور امید کی ایسی پرتیں بھی موجود ہو سکتی ہیں جنہیں محض قیمت کی بنیاد پر نہ سمجھا جا سکتا ہے، نہ ہی ان کی مکمل قدر متعین کی جا سکتی ہے۔

تاہم، میں یہ نہیں سمجھتا کہ تخلیق کار کو بازار سے مکمل طور پر الگ ہو جانا چاہیے۔ فنکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ اسے معاشی تحفظ، اپنے کام کی قدر اور اپنے فن کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع درکار ہوتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بازار فن پارے کی قیمت لگانے سے آگے بڑھ کر تخلیق کار کی سوچ، اس کے تجربے اور اس کی آزادی کا فیصلہ کرنے لگے۔

اگر تخلیق کار صرف وہی بنانے لگے جو فوراً فروخت ہو سکے، اور ہر نئے تجربے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ منڈی اسے قبول کرے گی یا نہیں، تو اس کے لیے اپنے تخیل کے نامعلوم راستوں پر چلنا مشکل ہو سکتا ہے۔

میرے نزدیک فن کا کام صرف دیوار کو خوب صورت بنانا نہیں۔ کبھی اس کا کام ہمارے اندر چھپے تضادات کو نمایاں کرنا، اجتماعی بے حسی کو توڑنا اور ان حقیقتوں کو سامنے لانا ہوتا ہے جنہیں ہم روز دیکھتے ہوئے بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔

فن ہمیں صرف دیکھنے کے لیے کوئی شے نہیں دیتا؛ وہ ہمارے دیکھنے کا انداز بھی بدل سکتا ہے۔

اصل دولت کیا ہے؟

بازار کی منطق ہمیں مسلسل یہ باور کراتی ہے کہ ہمارے پاس موجود چیزیں کافی نہیں۔ لیکن انسانی زندگی کی بعض اہم ترین قدریں ایسی بھی ہیں جنہیں کسی قیمت، برانڈ یا اشتہار میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔

میرا ماننا ہے کہ انسان کی شناخت صرف اس کی ملکیت میں نہیں، بلکہ اس کی فکر، عمل اور دوسروں کے ساتھ اس کے رویے میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ترقی کا تصور زیادہ خریدنے، زیادہ جمع کرنے اور دوسروں سے آگے نکلنے تک محدود ہو جائے، تو ممکن ہے کہ ہم مادی طور پر آگے بڑھتے ہوئے بھی فکری اور انسانی سطح پر اپنی سمت کھو دیں۔

ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں انسان کو محض صارف نہ سمجھا جائے، جہاں محنت کرنے والے کی عزت صرف اس کی آمدنی سے مشروط نہ ہو، جہاں فن کو محض سرمایہ کاری کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اور جہاں کامیابی کا مطلب دوسروں سے برتر ہونا ہی نہیں، بلکہ اپنی انسانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی ہو۔

میں کسی ایسی دنیا کا خواب نہیں دیکھتا جہاں انسانی ضروریات کو نظرانداز کر دیا جائے یا مادی آسائشوں کو غیر اہم قرار دے دیا جائے۔ میں ایسی دنیا چاہتا ہوں جہاں ضرورت اور مصنوعی خواہش کے درمیان فرق سمجھنے کی آزادی ہو، جہاں انسان اپنی زندگی کے فیصلے شعوری طور پر کر سکے، اور جہاں معیشت انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان اپنی پوری زندگی معیشت کے تقاضوں کے تابع بنا دے۔

یہ فرق معمولی نہیں۔ ایک صورت میں انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار سے تعلق رکھتا ہے؛ دوسری صورت میں اس کی شناخت، خوشی اور خود اعتمادی بازار کی منظوری کی محتاج ہو جاتی ہے۔

آخری سوال⁦:⁩کیا ہماری خواہشات واقعی ہماری ہیں؟

شاید اصل آزادی یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات پر سوال اٹھا سکیں اور انہیں اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔

کیونکہ انسان کی آزادی کا امتحان صرف اس میں نہیں کہ وہ کیا خرید سکتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ کس چیز کو خریدنے سے انکار کر سکتا ہے۔
تاشفین رضوان
بصری فنکار و مجسمہ ساز

تاشفین رضوان صارفیت، انسانی آزادی، بازارِ فریب، تاشفین رضوان، فلسفہ، میکس ہورک ہائمر، تھیوڈور اڈورنو، فریڈرک نطشے، فن اور تخلیق، صارف معاشرہ، مصنوعی خواہشات
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنیٹلی اے بیکر اور پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل
Next Article اقلیتی بچیوں کا تحفظ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.