اسرائیلی انتخابات میں قطری فنڈنگ کے الزامات:عرب ووٹرز کی غیرمعمولی شرکت پر سوالات
بیرونی مداخلت کے شبہات، شن بیٹ کی تحقیقات اور حکومت سازی کے پیچیدہ امکانات
اسرائیلی صحافی امیت سیگل کے اس تجزیے میں27اکتوبر2026کے انتخابات میں عرب ووٹرز کی غیرمعمولی شرکت، مبینہ قطری مالی معاونت اور اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ مضمون ان کے روزنامہ نیوز لیٹر It’s Noon in Israel سے ماخوذ ہے، جسے واشنگٹن فری بیکن نے اپنے قارئین کے لیے شائع کیا۔
غیرمعمولی ووٹر ٹرن آؤٹ اور بیرونی مداخلت کا شبہ
جمعرات،29اکتوبر کو امیت سیگل لکھتے ہیں کہ ایک روز پہلے تک ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ2026اسرائیلی انتخابی تاریخ میں عرب ووٹرز کی غیرمعمولی شرکت کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ تاہم، تازہ اطلاعات کے بعد ان کے مطابق یہ سال بیرونی مداخلت کے الزامات کے حوالے سے بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین، جسٹس نوعم سولبرگ نے اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیٹ کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ان کے خط میں، جو جمعرات کی صبح منظرعام پر آیا، غیرملکی عناصر کی جانب سے اسرائیل کے مفادات کے خلاف مبینہ طور پر بیرونی مالی وسائل کے ذریعے انتخابی عمل پر نامناسب اثرانداز ہونے کے سنگین شبہات کا ذکر کیا گیا۔
سیگل کے مطابق، چینل12کی رپورٹ میں کہا گیا کہ شن بیٹ کو شبہ ہے کہ قطری رقم عرب ووٹرز کی شرکت بڑھانے کے لیے منتقل کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے جزوی طور پر ایسے ذرائع استعمال ہوئے جو ماضی میں دہشت گردی کے لیے مالی رقوم منتقل کرنے کے سلسلے میں استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ان الزامات کی حتمی حیثیت تحقیقات کے نتائج سے ہی واضح ہو سکے گی۔
عرب علاقوں میں ووٹنگ میں نمایاں اضافہ
سیگل تسلیم کرتے ہیں کہ عرب قصبوں میں بڑھتے ہوئے جرائم، جوائنٹ لسٹ کی دوبارہ یکجہتی اور موجودہ حکومت کے خلاف عمومی ناراضی نے عرب ووٹرز کی زیادہ شرکت میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق ایک ہی انتخاب میں ووٹر ٹرن آؤٹ کی کم ترین سطح سے بلند ترین سطح تک پہنچنے کا فرق غیرمعمولی تھا۔
وہ مثال دیتے ہیں کہ اسرائیل کے بڑے عرب شہروں میں شامل ام الفحم میں ووٹر ٹرن آؤٹ2022کے38.3فیصد سے بڑھ کر2026میں75.7فیصد ہو گیا، یعنی تقریباً37.4فیصد پوائنٹس کا اضافہ۔ سیگل کے مطابق، بہت سے انتخابی اندازوں میں عرب ووٹرز کی شرکت60فیصد کی درمیانی سطح تک پہنچنے کی توقع کی گئی تھی، جبکہ جوائنٹ لسٹ کے اپنے داخلی اندازے میں یہ شرح61فیصد تھی اور اس کا اعلان کردہ ہدف70فیصد تھا۔
مضمون میں اس اضافے کو تحقیقات کے لیے ایک اہم سوال قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عرب شہریوں کی بڑی تعداد کا حکومت کے خلاف ووٹ دینا ان کا جمہوری حق ہے۔ سیگل کے مطابق، کسی مخصوص کمیونٹی کی ووٹنگ میں اضافے کی جانچ پڑتال کو اس کمیونٹی کے مساوی شہری حقوق سے متصادم نہیں سمجھنا چاہیے؛ البتہ کسی بیرونی مالی مداخلت کا الزام بھی شواہد کی بنیاد پر ہی ثابت ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو مخالف اتحاد اور قطر سے متعلق الزامات
سیگل کے مطابق، عرب جماعتوں کے رہنماؤں اور لیکوڈ کے کم از کم ایک سینئر رہنما نے عرب ووٹرز کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کا سہرا اوتزما یہودیت کے رہنما اتمار بن گویر کو بھی دیا۔ ان کے بقول، اس انتخاب کا ایک سیاسی تضاد یہ تھا کہ بن گویر کی سیاست نے ایسے ووٹرز کو متحرک کیا جو حکومت کی پالیسیوں سے ناراض تھے۔
اس کے بعد قطر کی مبینہ مالی معاونت سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ سیگل لکھتے ہیں کہ اگر قطر نے واقعی بنیامین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں پر بھاری رقم خرچ کی، تو یہ ان بائیں بازو کے کارکنوں کے سابقہ الزامات سے متضاد صورت حال ہوگی جو نیتن یاہو کو خلیجی ریاست کے زیراثر قرار دیتے رہے ہیں۔ وہ اس تضاد کو طنزیہ انداز میں بیان کرتے ہیں، تاہم قطری فنڈنگ کے الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
جوائنٹ لسٹ اور رعام کے سیاسی اثرات
سیگل کے مطابق، نیتن یاہو کے لیے اس تنازعے سے سیاسی فائدہ پیدا ہو سکتا ہے، اگرچہ وہ قطری رقوم کے براہِ راست وصول کنندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ان کے تجزیے میں جوائنٹ لسٹ کے بعض ارکان کے سابقہ بیانات اور7اکتوبر کے حملوں کے بارے میں بعض امیدواروں کے رویے کو اسرائیلی عوام میں اس اتحاد کی ساکھ کے لیے پہلے ہی ایک مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ انتخابی رات جوائنٹ لسٹ کے ایک رکن نے اپنی کامیابی فلسطینیوں کے نام کی اور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر نسل کشی کا الزام لگایا۔ سیگل کے مطابق، پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں کی جانب سے فلسطینی قومی ترانہ ’’بلادی، بلادی‘‘ گانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات کی سیاسی تشریح مصنف کے تجزیے کا حصہ ہے۔
سیگل کا کہنا ہے کہ نسبتاً معتدل عرب جماعت رعام بھی قطری فنڈنگ سے متعلق سوالات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، نقدی کے لفافوں کے ساتھ پکڑے جانے والے شخص کا تعلق ’’سیا 48‘‘ نامی فلاحی ادارے کے ایک سینئر عہدیدار سے بتایا گیا ہے، جسے وہ رعام کے پس منظر میں کام کرنے والی تنظیم قرار دیتے ہیں۔ اس الزام کی تفصیلات اور ذمہ داری کا تعین بھی متعلقہ تحقیقات سے مشروط ہے۔
مضمون میں نیگیو کے عرب علاقوں میں ووٹنگ کے اضافے کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ حورہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ2022کے49فیصد سے بڑھ کر2026میں79.1فیصد بتایا گیا، جبکہ رہط میں یہ شرح60.6فیصد سے بڑھ کر82فیصد تک پہنچ گئی۔ مصنف ان اعداد کو قطری فنڈنگ کے مبینہ اثرات کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہیں، تاہم صرف ٹرن آؤٹ میں اضافہ کسی بیرونی مالی مداخلت کا ثبوت نہیں ہے۔
حکومت سازی:اتحاد یا نئے انتخابات؟
سیگل کے مطابق، یاشار پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ کی انتخابی حکمت عملی کے دو بنیادی مقاصد تھے:لیکوڈ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا اور رعام کی مدد سے پارلیمان میں61نشستوں کی اکثریت تک پہنچنا۔ ان کے تجزیے میں، قطری فنڈنگ کے الزامات نے عرب جماعتوں پر انحصار کرتے ہوئے حکومت بنانے کے امکان کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
مضمون کے مطابق، نیتن یاہو مخالف اتحاد کے پاس تبدیلی کے حامی بلاک کی48نشستیں اور عرب جماعتوں کی19نشستیں ملا کر کنیسٹ کے اسپیکر کو تبدیل کرنے اور قانون سازی کے طریقۂ کار پر اثرانداز ہونے کے لیے عددی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ تاہم، سیگل کے خیال میں، موجودہ تنازعے کے بعد اس راستے کو اختیار کرنے کی سیاسی قیمت بڑھ گئی ہے۔
مصنف کے مطابق، انتخابات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیے جانے کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے، خصوصاً وقت کی کمی کے باعث۔ ان کے تجزیے میں، اس صورت حال کے بعد دو بڑے راستے باقی رہ جاتے ہیں:ایک وسیع تر قومی اتحاد کی حکومت یا نئے انتخابات۔ ان دونوں صورتوں میں انتخابی نتائج کے کسی حصے کو کالعدم قرار دینے کی ضرورت لازماً پیش نہیں آئے گی۔
نئے انتخابات کا امکان اور نیتن یاہو کے اختیارات
سیگل لکھتے ہیں کہ نئے انتخابات نیتن یاہو کے لیے ایک قابلِ غور راستہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، وہ غیرمتوقع انتخابی کامیابی کے بعد مہم شروع کر سکتے ہیں، جبکہ وہ چھوٹی جماعتیں جن کے باعث ان کے بلاک کے ووٹ تقسیم ہوئے، آئندہ انتخاب میں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ وہ یہ بھی قیاس کرتے ہیں کہ عرب ووٹرز کی شرکت میں حالیہ اضافہ دوبارہ اسی سطح پر برقرار رہنا یقینی نہیں۔
تاہم، سیگل خود خبردار کرتے ہیں کہ لیکوڈ کو اپنی انتخابی حکمت عملی کے بارے میں حد سے زیادہ پُراعتماد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر عرب ووٹرز کی شرکت2022کی سطح تک بھی گر جائے تو نیتن یاہو کا سیاسی بلاک پھر بھی61نشستوں کی اکثریت سے کم رہ سکتا ہے، اگرچہ اکثریت کے حصول کے قریب پہنچنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ مصنف کا سیاسی تجزیہ ہے، انتخابی نتیجے کی ضمانت نہیں۔
نیتن یاہو نئے انتخابات کا فیصلہ کرنے سے پہلے دوسرے امکانات بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ سیگل کے مطابق، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور یسرائیل بیتینو کے رہنما ایوگدور لائبرمین کی عرب جماعتوں پر انحصار نہ کرنے کی یقین دہانیوں نے حکومت سازی کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مضمون میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو ان میں سے کسی ایک یا دونوں کو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں، یا گادی آئزنکوٹ کو اپنی شرائط پر قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔
سیگل کے تجزیے کے مطابق، آئندہ سیاسی راستے کا فیصلہ بالآخر نیتن یاہو کے ہاتھ میں ہوگا، تاہم مذاکرات، تحقیقات اور مختلف جماعتوں کے مؤقف اس فیصلے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
امیت سیگل کا تعارف
امیت سیگل اسرائیلی چینل12نیوز کے چیف سیاسی مبصر اور اسرائیل ہیوم کے سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ وہ چینل12کے پروگرام ’’مِیٹ دی پریس‘‘ کے میزبان بھی ہیں۔ ان کی کتابوں میں اسرائیلی سیاست کی تاریخ پر ایک کتاب شامل ہے، جو عبرانی، روسی اور عربی زبانوں میں شائع ہوئی، جبکہ ان کی انگریزی کتاب کا عنوان A Call at 4 AM ہے۔
نوٹ برائے اشاعت: اسHTMLمیں تصاویر کے لیے عارضی فائل نام استعمال کیے گئے ہیں۔ اشاعت سے پہلے اصل تصویریURLsفراہم کریں یا انہیں درست میڈیا لائبریریURLsسے تبدیل کریں۔
