چائم مالسپن:ایمان، خدمت اور اسرائیل کی کہانی
علیاہ ریٹرن سینٹر، فوجی تجربات، انسانی خدمت اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات پر ایک تفصیلی گفتگو
اسرائیل میں زندگی، مذہبی عقیدے، فوجی خدمت اور انسانی ہمدردی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے براہِ راست ان لوگوں کی بات سننا ضروری ہے جن کی زندگیاں ان تجربات سے جڑی ہوئی ہیں۔ Beyond the Lines کی خصوصی گفتگو میں چائم مالسپن نے اپنی زندگی، اسرائیل سے اپنے تعلق، علیاہ ریٹرن سینٹر اور فیث فل گلیلیئنز کے ساتھ اپنی وابستگی کے بارے میں بات کی۔ یہ مکالمہ ان کے ذاتی تجربات اور مذہبی و سیاسی نقطۂ نظر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چائم مالسپن کی گفتگو میں ایک ایسا شخص سامنے آتا ہے جو اپنے مذہبی عقیدے کو عملی خدمت، فوجی ذمہ داری اور اسرائیل کے حق میں عوامی آگاہی کی کوششوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، ان کی سرگرمیوں میں نئے تارکینِ وطن کی مدد، ضرورت مند خاندانوں کی معاونت، عربی اور عبرانی بولنے والی مقامی آبادیوں کے ساتھ رابطہ اور اسرائیل کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے تصورات کا جواب دینا شامل ہے۔
علیاہ ریٹرن سینٹر اور انسانی خدمت کا پہلو
گفتگو کے ابتدائی حصے میں مالسپن نے علیاہ ریٹرن سینٹر سے اپنی وابستگی اور اس کے تحت جاری انسانی و سماجی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، نئے تارکینِ وطن کو اسرائیل میں زندگی شروع کرنے کے لیے صرف قانونی یا انتظامی معاونت ہی درکار نہیں ہوتی بلکہ خوراک، رہائش، تعلیم اور معاشرتی روابط جیسی بنیادی ضروریات بھی اہم ہوتی ہیں۔
ان کی بیان کردہ سرگرمیوں میں نئے آنے والے خاندانوں کے لیے عملی مدد، مقامی عرب اور یہودی برادریوں کے ساتھ رابطہ اور ایسے افراد کی معاونت شامل ہے جو علاقائی تنازعات کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ اس کام کو محض امدادی سرگرمی نہیں بلکہ کمیونٹی کی تعمیر، سماجی رابطوں اور باہمی اعتماد کے فروغ سے بھی جوڑتے ہیں۔
مالسپن کے مطابق، ان کے کام کا ایک دوسرا پہلو اسرائیل کے بارے میں عالمی سطح پر موجود غلط فہمیوں اور منفی بیانیوں کا جواب دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایسے افراد کی تربیت اور رہنمائی کو اہم سمجھتے ہیں جو مختلف ممالک میں اسرائیل کے بارے میں گفتگو اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
خاندانی ہجرت اور مذہبی وابستگی
مالسپن نے گفتگو میں اپنے خاندان کی اسرائیل آمد اور اس فیصلے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے بیان کے مطابق، ان کے خاندان کی علیاہ یعنی اسرائیل کی طرف یہودی ہجرت کا فیصلہ بائبل میں بیان کردہ وعدوں اور مذہبی عقیدے سے متاثر تھا۔ انہوں نے اپنے خاندان کی زندگی میں سونے کے سکوں سے متعلق ایک واقعے کا ذکر بھی کیا جسے وہ ایک روحانی اشارہ اور اپنی منزل کی جانب رہنمائی سمجھتے ہیں۔
ان کے لیے اسرائیل سے تعلق محض جغرافیائی یا قومی وابستگی نہیں بلکہ ایک مذہبی اور تاریخی رشتہ بھی ہے۔ وہ یہودی قوم کی سرزمینِ اسرائیل سے وابستگی کو بائبل کے عہد اور وعدوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں، اور علیاہ کو جسمانی ہجرت کے ساتھ ساتھ روحانی واپسی کا مفہوم بھی دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج میں خدمت اور سرنگوں کے خلاف کارروائیاں
انٹرویو کا ایک اہم حصہ مالسپن کے فوجی تجربے سے متعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسرائیلی فوج کے کامبیٹ انجینئر کور سے وابستہ رہے، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں تباہ کرنے سے متعلق کام شامل تھا۔ ان کے مطابق، حزب اللہ کی سرنگوں اور زیرِ زمین عسکری ڈھانچے کا مقابلہ کرنا اسرائیل کے دفاعی ماحول کا ایک اہم حصہ ہے۔
مالسپن نے اس تجربے کو اسرائیل کو درپیش مسلسل سکیورٹی خطرات کے تناظر میں بیان کیا۔ ان کے مطابق، زیرِ زمین سرنگوں کی تلاش اور انہیں ناکارہ بنانا ایک پیچیدہ فوجی ذمہ داری ہے جس میں تکنیکی مہارت، عملی منصوبہ بندی اور مسلسل چوکسی درکار ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو میں یہ تجربہ اسرائیل کے دفاعی خدشات اور غیر روایتی جنگی خطرات کی ایک مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
وہ مذہبی عقیدے اور دفاعی ذمہ داری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ایمان کا تقاضا صرف دعا یا روحانی وابستگی تک محدود نہیں بلکہ اپنی برادری اور معاشرے کی حفاظت کے لیے عملی کردار ادا کرنا بھی ہے۔
اسرائیل، عرب شہری اور تنازع کے بارے میں بیانیے
گفتگو کے دوران مالسپن نے اسرائیل کے بارے میں عالمی تنقید، نوآبادیاتی تسلط کے الزامات اور فلسطینیوں کے ساتھ تنازع سے متعلق عام مباحث پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایک نوآبادیاتی طاقت کے طور پر پیش کرنے والے بیانیے یہودی قوم کے تاریخی اور قدیم تعلق کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہودی اپنے آبائی وطن کے دفاع کے لیے کوشاں ہیں اور اس تاریخی پس منظر کو سمجھے بغیر موجودہ تنازع کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکتی۔
مالسپن نے اسرائیل کے عرب شہریوں کے حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹ ڈال سکتے ہیں، حکومت اور عدالتی نظام میں خدمات انجام دے سکتے ہیں اور ریاستی اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔ وہ ان حقوق کو اسرائیل کے اندرونی شہری نظام اور غزہ، یہودیہ اور سامریہ جیسے متنازع علاقوں کی صورتِ حال کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔
نسل پرستی اور نسل پرستانہ علیحدگی کے الزامات کے بارے میں بھی انہوں نے اختلافی مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ اسرائیل کے عرب شہریوں کے قانونی حقوق کو سامنے رکھ کر اس بحث کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ ان کا اپنا نقطۂ نظر ہے؛ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں مساوات، شہری حقوق اور ریاستی پالیسیوں سے متعلق یہ موضوع بین الاقوامی سطح پر مسلسل اختلاف اور بحث کا مرکز ہے۔
اس انٹرویو میں اسرائیل کے بارے میں تاریخی، قانونی اور سیاسی دعوے چائم مالسپن کے اپنے مؤقف کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان موضوعات پر مختلف فریقوں کے مؤقف اور بین الاقوامی مباحث بھی موجود ہیں۔
ایمان، دفاع اور عملی ذمہ داری
مالسپن نے بائبل کی مختلف مثالوں، بالخصوص نحمیاہ کے کردار اور چرواہوں و جنگجوؤں کی تمثیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ایمان کو عملی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ایمان کا مطلب خطرات سے آنکھیں بند کرنا یا غیر فعال رہنا نہیں بلکہ اپنی برادری کے تحفظ اور انصاف کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہے۔
ان کے نزدیک روحانی وابستگی اس وقت زیادہ بامعنی ہوتی ہے جب اسے عملی خدمت، حوصلے اور معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جائے۔ وہ مذہبی عقیدے کو اپنی قوم اور معاشرے کے دفاع کے لیے ایک اخلاقی محرک سمجھتے ہیں۔
مسیحی صیہونیت اور بین المذاہب احترام
گفتگو میں مسیحی صیہونیت کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ مالسپن نے اس تصور کو اسرائیل اور یہودی قوم کے ساتھ مذہبی و بائبلی وابستگی کے طور پر بیان کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی حمایت کا مطلب عربوں یا فلسطینیوں سے نفرت نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، مسیحی صیہونیت کو دوسرے مذاہب اور قوموں کے خلاف دشمنی کے بجائے محبت، احترام اور مذہبی وعدوں سے وابستہ سمجھنا چاہیے۔
یہ مؤقف اس وسیع تر بحث سے جڑا ہے جس میں مذہبی عقیدے، قومی شناخت، اسرائیل کی حمایت اور فلسطینی عوام کے حقوق کے درمیان تعلق پر مختلف مذہبی و سیاسی حلقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مالسپن نے اپنے نقطۂ نظر میں ان موضوعات کو بین المذاہب احترام اور انسانی ہمدردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
حماس کے حملے، شہریوں کا تحفظ اور اخلاقی اصول
مالسپن نے حماس کی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے قتلِ عام، اغوا اور جنسی تشدد جیسے اقدامات کی مذمت کی۔ ان کے مطابق، شہریوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات کو مزاحمت کا نام دے کر اخلاقی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اس مؤقف کو مذہبی اور اخلاقی اصولوں سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنگ اور سیاسی جدوجہد میں بھی انسانی جان اور شہریوں کے تحفظ کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔
ان کے نزدیک دہشت گردی اور شہریوں کے خلاف تشدد کی مذمت کسی بھی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے بالاتر ہونی چاہیے۔ یہ انٹرویو اس موضوع پر ان کے ذاتی اور واضح مؤقف کو سامنے لاتا ہے۔
اشعیاہ19کی پیش گوئی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب
گفتگو کے اختتامی حصے میں مالسپن نے بائبل کی کتاب اشعیاہ کے باب19کا حوالہ دیا، جس میں مصر، اسور اور اسرائیل کے درمیان امن اور تعاون کی ایک تصویر پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، یہ مذہبی پیش گوئی انہیں اس امید سے وابستہ کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک دن دشمنی کی جگہ تعاون، معاشی شراکت اور سماجی ہم آہنگی لے سکتی ہے۔
وہ اس تصور کو محض مذہبی امید نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مثبت سمت کے طور پر دیکھتے ہیں، جس میں اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک باہمی احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ ان کے نزدیک پائیدار امن کے لیے مذہبی اختلافات سے آگے بڑھ کر عملی تعاون، انسانی روابط اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
عرب اور یہودی برادریوں کے درمیان مشترکہ سرگرمیاں
مالسپن نے ان پروگراموں کا بھی ذکر کیا جن میں عرب اور یہودی افراد ایک ساتھ دعا کرتے، رضاکارانہ خدمات انجام دیتے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ امن کی کوششیں صرف حکومتی مذاکرات یا سیاسی معاہدوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ مقامی سطح پر انسانوں کے درمیان تعلقات استوار کرنے سے بھی آگے بڑھتی ہیں۔
یہ سرگرمیاں اس تصور کی عکاسی کرتی ہیں کہ مختلف مذہبی اور قومی شناخت رکھنے والے افراد مشترکہ انسانی ضروریات اور سماجی ذمہ داریوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک باہمی احترام اور روزمرہ تعاون مشرقِ وسطیٰ میں مستقبل کی کسی بھی مفاہمت کے لیے اہم بنیاد بن سکتے ہیں۔
Beyond the Lines: خبروں کے پیچھے انسانوں کی کہانیاں
Beyond the Lines کے مطابق، کسی ملک، تنازع یا برادری کو سمجھنے کا آغاز ان لوگوں کو سننے سے ہوتا ہے جو ان حالات کا براہِ راست تجربہ رکھتے ہیں۔ اس کے انٹرویو سلسلے میں اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، ماہرین، پالیسی سازوں اور عام افراد کی آوازیں شامل کی جاتی ہیں تاکہ قارئین اور ناظرین کو خبروں کے پیچھے موجود انسانی تجربات اور مختلف نقطۂ نظر تک رسائی حاصل ہو۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بعض گفتگوئیں آن لائن ہوں گی، جن کے ذریعے سرحدوں کے پار موجود افراد سے رابطہ کیا جائے گا، جبکہ بعض انٹرویوز موقع پر ریکارڈ کیے جائیں گے تاکہ مقامی تجربات، ذاتی کہانیاں اور زمینی حقائق براہِ راست سامنے آ سکیں۔ اس سلسلے کا مقصد سیاسی بیانات اور فوری خبروں سے آگے بڑھ کر ان لوگوں، فیصلوں اور حالات کو سمجھنا ہے جو سرخیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔
ایک مسلسل مکالمے کا آغاز
چائم مالسپن کے ساتھ یہ گفتگو Beyond the Lines کی جانب سے منصوبہ بند انٹرویو سلسلے کی پہلی نشست ہے۔ ادارے کے مطابق، آئندہ گفتگوؤں میں ان کی مزید ذاتی کہانیوں، کمیونٹی کی زندگی اور اسرائیل و وسیع تر خطے کو درپیش مسائل پر ان کے خیالات کو جگہ دی جائے گی۔ اس سلسلے کا مقصد براہِ راست مکالمے کے ذریعے سوچ سمجھ کر گفتگو، مختلف نقطۂ نظر کی تفہیم اور باہمی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔
چائم مالسپن کی گفتگو اسرائیل میں مذہبی وابستگی، فوجی تجربے، انسانی خدمت اور عوامی بیانیے کے باہمی تعلق کی ایک ذاتی تصویر پیش کرتی ہے۔ ان کے خیالات سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن یہ مکالمہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں؛ ان لوگوں کی کہانیاں بھی سننا ضروری ہیں جو اس خطے کی تاریخ، تنازعات اور روزمرہ زندگی کے درمیان اپنا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
مکمل انٹرویو اور متعلقہ ادارے
چائم مالسپن کے ساتھ مکمل گفتگو یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے علیاہ ریٹرن سینٹر اور فیث فل گلیلیئنز کی ویب سائٹس بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
