امریکی انتخابات:کانگریس اور گورنروں کی نشستوں پر فیصلہ کن مقابلہ
ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور ریاستی گورنروں کے انتخابات میں ووٹنگ جاری؛ کانگریس پر کنٹرول کے لیے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع۔
انتخابی دن — امریکی مشرقی وقت کے مطابق ابتدائی دوپہر
امریکہ میں2026کے وسط مدتی انتخابات کے لیے آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام435نشستوں، سینیٹ کی35نشستوں اور36ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
ابھی تک کسی انتخابی مقابلے میں کامیابی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
ابتدائی نتائج امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے، جب انڈیانا اور کینٹکی کی بعض پولنگ جگہوں پر ووٹنگ ختم ہوگی۔ اس کے بعد مشرقی اور وسطی ریاستوں میں پولنگ کے اختتام کے ساتھ مزید نتائج موصول ہوں گے۔ تاہم سخت مقابلوں اور ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی بڑی تعداد رکھنے والی ریاستوں میں مکمل گنتی میں کئی دن یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
انتخابی دن سے پہلے طاقت کا توازن
انتخابات کے آغاز پر ریپبلکن جماعت ایوانِ نمائندگان میں معمولی برتری رکھتی ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی اسے اکثریت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کئی نشستیں جیتنا ضروری ہوگا۔
ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی تقریباً نشستیں
سینیٹ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحادی آزاد ارکان
ملین سے زائد ووٹ ابتدائی ووٹنگ میں ڈالے جا چکے ہیں
انتخاب سے پہلے کی صورتِ حال
ریپبلکن نشستیں، تقریباً
ڈیموکریٹک نشستیں، تقریباً
انتخاب سے پہلے کی صورتِ حال
ریپبلکن
ڈیموکریٹس اور ان کے ساتھ ووٹ دینے والے دو آزاد ارکان
سینیٹ کی35نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں فلوریڈا اور اوہائیو کے خصوصی انتخابات بھی شامل ہیں۔ باقی نشستیں اس انتخابی دور میں ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کی جا رہیں۔ ابتدائی ووٹنگ میں57سے58ملین سے زیادہ ووٹ ڈالے جانے کے باعث اسے وسط مدتی انتخابات کی تاریخ میں ریکارڈ شرکت قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی نتائج:ابتدائی لائیو صورتِ حال
ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے پہلے بڑی خبر رساں تنظیموں کے انتخابی صفحات پر نشستوں کی موجودہ تقسیم اور نتائج کی پیش رفت دکھائی جا رہی ہے۔ تاہم دستیاب ابتدائی صورتِ حال میں ابھی کسی نشست پر کامیابی کا اعلان نہیں ہوا۔
ابھی تک کوئی نتیجہ حتمی نہیں
ڈیموکریٹس کی جیتی ہوئی نشستیں
ریپبلکن کی جیتی ہوئی نشستیں
اس انتخابی دور میں
ڈیموکریٹس اور اتحادی آزاد ارکان کی وہ نشستیں جو اس دور میں انتخاب کے لیے پیش نہیں
ریپبلکن کی وہ نشستیں جو اس دور میں انتخاب کے لیے پیش نہیں
انتخاب سے پہلے کی تقسیم
ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام مقابلے کی نشستیں
ریپبلکن کے زیرِ انتظام مقابلے کی نشستیں
سینیٹ کے اہم انتخابی محاذ
کُک پولیٹیکل رپورٹ اور دوسرے انتخابی جائزوں کے مطابق کئی ریاستوں میں سینیٹ کے مقابلے انتہائی سخت ہیں۔ ڈیموکریٹس کو اپنی موجودہ نشستیں محفوظ رکھنے کے ساتھ ریپبلکن جماعت کی کم از کم چار نشستیں جیتنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے الاسکا، آئیووا، کنساس، مین، اوہائیو اور ٹیکساس جیسے انتخابی محاذ خاص توجہ کا مرکز ہیں۔
ڈیموکریٹس کی جانب جھکاؤ
بعض جائزوں میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ برتری
دیگر ریاستوں میں بعض مقابلوں کو ریپبلکن جماعت کے لیے نسبتاً محفوظ یا اس کے حق میں جھکا ہوا قرار دیا گیا ہے۔ ان درجہ بندیوں کو انتخابی جائزوں کی پیش گوئی سمجھنا چاہیے، حتمی نتائج نہیں۔
ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول کن علاقوں سے طے ہوگا؟
ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول کا فیصلہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے چند درجن سخت مقابلوں والے حلقوں سے متوقع ہے۔ پنسلوانیا کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ وہاں متعدد انتخابی حلقوں میں مقابلہ قریب تصور کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے نتائج یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ ڈیموکریٹس معمولی نشستوں کے فرق سے ایوان کا کنٹرول حاصل کر پاتے ہیں یا ریپبلکن اپنی اکثریت برقرار رکھتے ہیں۔
لائیو نقشے اور انتخابی چارٹس کہاں دیکھیں؟
بڑی عالمی خبر رساں تنظیموں نے انتخابات کے لیے انٹرایکٹو نتائج کے صفحات اور نقشے فراہم کیے ہیں۔ ان صفحات پر ووٹوں کی گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ انتخابی مقابلوں کی صورتِ حال بھی تبدیل ہوتی رہے گی۔ عام طور پر ان میں درج ذیل معلومات شامل ہوتی ہیں:
- ایوانِ نمائندگان کے انتخابی اضلاع کے نقشے، جن میں ہر ضلع کی نشست کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
- سینیٹ اور گورنروں کے انتخابی نتائج کے لیے ریاستی نقشے، جہاں برتری یا کامیابی کے مطابق رنگ تبدیل ہوتے ہیں۔
- ایوانِ نمائندگان میں218اور سینیٹ میں51نشستوں کے اکثریتی اہداف تک پیش رفت دکھانے والے چارٹس۔
- وہ انتخابی مقابلے جن میں ایک جماعت دوسری جماعت کی نشست جیت سکتی ہے، اور باقی ماندہ ووٹوں کی متوقع شرح کے اعداد و شمار۔
ان انتخابات میں کیا داؤ پر لگا ہے؟
ان وسط مدتی انتخابات کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں امریکی کانگریس کا سیاسی کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے، حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے اور انتظامیہ کے اقدامات کی نگرانی کرنے کے زیادہ مواقع مل جائیں گے۔
دوسری جانب ریپبلکن جماعت اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران معیشت اور دیگر اہم قومی مسائل پر رائے عامہ کے جائزوں کو بھی ریپبلکن جماعت کے لیے ممکنہ چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ ان نتائج سے نہ صرف کانگریس کی آئندہ سیاسی سمت بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کے باقی دو برسوں میں قانون سازی اور حکومتی نگرانی کی نوعیت بھی متاثر ہوگی۔
نتائج کے لیے اگلے چند گھنٹے اہم
ووٹوں کی گنتی پولنگ ختم ہونے کے بعد شام سے آگے بڑھے گی اور اس کے نتائج رات بھر اور آنے والے دنوں میں سامنے آتے رہیں گے۔ خاص طور پر سخت مقابلوں، ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں اور عارضی ووٹوں کی جانچ کے باعث بعض نشستوں کا فیصلہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔
اس لیے ابتدائی برتری کو حتمی کامیابی تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں اور گورنروں کے انتخابات کی اصل تصویر مکمل گنتی اور باضابطہ نتائج کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
نوٹ:یہ انتخابی جائزہ3نومبر2026کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق ابتدائی دوپہر کی فراہم کردہ صورتِ حال پر مبنی ہے۔
