ایلیٹ امریکی اداروں کی غیر جانب داری پر سوال:سیاسی عطیات کا تنازع
نیویارک ٹائمز، فیڈرل ریزرو، ہارورڈ اور کولمبیا سے وابستہ افراد کی انتخابی مالی معاونت نے صحافت، تعلیم اور مالیاتی اداروں کی سیاسی غیر جانب داری پر بحث چھیڑ دی۔
امریکی جمہوریت میں سیاسی عطیات شہریوں کا قانونی حق ہیں۔ کسی صحافی، استاد، ماہرِ معاشیات یا سرکاری ادارے کے ملازم کو اپنی سیاسی رائے رکھنے اور اپنی پسند کے امیدوار کی مالی حمایت کرنے سے محض اس کے پیشے کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب یہی افراد ایسے اداروں سے وابستہ ہوں جن کی ساکھ غیر جانب داری، پیشہ ورانہ دیانت اور سیاسی آزادی کے دعوے پر قائم ہو، تو ان کے انتخابی عطیات ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں:کیا اداروں کے ضابطے اور ان کے ملازمین کے سیاسی طرزِ عمل میں مطابقت موجود ہے؟
امریکی ویب سائٹ واشنگٹن فری بیکن کے صحافی آرا اسٹول کی3نومبر2026کو شائع ہونے والی رپورٹ نے اسی سوال کو مرکزِ بحث بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز، فیڈرل ریزرو، ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ متعدد افراد نے ڈیموکریٹک امیدواروں اور سیاسی تنظیموں کو ہزاروں، بلکہ بعض صورتوں میں لاکھوں ڈالر کے عطیات دیے۔ ان میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جنہیں رپورٹ بائیں بازو کے سخت گیر سیاسی دھارے سے وابستہ قرار دیتی ہے۔
یہ معاملہ محض اس بات کا نہیں کہ کس شخص نے کس امیدوار کو چندہ دیا۔ اصل سوال ادارہ جاتی اعتبار، پیشہ ورانہ ضابطوں اور اس اعتماد کا ہے جس پر آزاد صحافت، اعلیٰ تعلیم اور مرکزی مالیاتی ادارے اپنی ساکھ قائم کرتے ہیں۔
کولمبیا سے وابستہ ایک عطیہ دہندہ کی سیاسی تنظیم کو دی گئی رقم
کولمبیا کے ماحولیاتی ادارے سے وابستہ مشیر کا ڈیموکریٹک کانگریشنل کمیٹی کو عطیہ
کولمبیا ٹیچرز کالج کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کا عبدل السید کی مہم کو عطیہ
نیویارک ٹائمز:اخلاقی ضابطہ اور سیاسی عطیات کا تضاد
اس پوری بحث میں نیویارک ٹائمز کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ادارہ طویل عرصے سے صحافتی غیر جانب داری اور اخلاقی اصولوں کو اپنی شناخت کا بنیادی حصہ قرار دیتا آیا ہے۔ اس کے اخلاقی صحافت سے متعلق ضابطے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ادارے کے ملازمین کسی سیاسی امیدوار کو رقم نہیں دے سکتے اور نہ ہی کسی انتخابی مہم کے لیے چندہ جمع کر سکتے ہیں۔ ضابطے کے مطابق کسی ملازم کا سیاسی عطیہ اس غلط تاثر کو جنم دے سکتا ہے کہ اخبار کسی خاص امیدوار یا جماعت کا فریق ہے۔
نیویارک ٹائمز کے اخلاقی صحافت کے ضابطے کا مفہوم
واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کے رپورٹر اور گرافکس ایڈیٹر ہیری اسٹیونز نے ڈیموکریٹک کانگریسی امیدوار بیتھ میسی کو ایک ہزار ڈالر عطیہ دیا۔ اخبار کی ویب سائٹ پر اسٹیونز کے تعارف میں ان کا یہ بیان بھی موجود ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے اور نہ ہی سیاسی عطیات دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بظاہر تضاد پر اسٹیونز اور اخبار کے ترجمان سے مؤقف طلب کیا گیا، لیکن فوری جواب نہیں ملا۔
یہاں معاملہ صرف ایک ہزار ڈالر کا نہیں، بلکہ ایک ادارے کے اپنے تحریری اصولوں کی پابندی کا ہے۔ جب صحافتی ادارہ اپنے ملازمین کے سیاسی عطیات کو اپنے غیر جانب دارانہ تشخص کے لیے خطرہ قرار دے، تو پھر اس ضابطے کی خلاف ورزی کے کسی ممکنہ معاملے کی وضاحت اور جانچ بھی اسی معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔
بریڈ لینڈر کی انتخابی مہم کو عطیات
رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کے سافٹ ویئر انجینئر مائیکل ہوفمین نے ڈیموکریٹک امیدوار بریڈ لینڈر کی مہم کو $500، جبکہ اخبار کے ڈیٹا اینالسٹ ایرک اسٹون نے $250 عطیہ دیا۔
بریڈ لینڈر نے زوہران ممدانی کی حمایت سے ڈیموکریٹک پرائمری میں موجودہ رکنِ کانگریس ڈین گولڈمین کو چیلنج کیا تھا۔ واشنگٹن فری بیکن کے مطابق اس مہم میں گولڈمین پر اسرائیل مخالف مؤقف اختیار نہ کرنے کے حوالے سے تنقید بھی مرکزی سیاسی نکتہ تھی۔
پیٹر کیپنیوز کے سینکڑوں عطیات
نیویارک ٹائمز کے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے مرثیہ و تعزیتی مضامین کے ایڈیٹر پیٹر کیپنیوز نے ڈیموکریٹک امیدواروں اور سیاسی کمیٹیوں کو سینکڑوں عطیات دیے۔ رپورٹ کے مطابق بعض انتخابی ریکارڈز میں ان کے آجر کے طور پر نیویارک ٹائمز کا نام درج ہے، جبکہ دیگر ریکارڈز میں انہیں غیر ملازم ظاہر کیا گیا ہے۔
23 مارچ2025کو انہوں نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی کو $100 عطیہ دیا، جس کے ریکارڈ میں نیویارک ٹائمز کو ان کا آجر درج کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق وہ اکتوبر2025میں اخبار سے الگ ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی عطیات پر باضابطہ طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ تفصیلات ایک اہم امتیاز کی متقاضی ہیں:کسی سابق ملازم کے عطیات کو لازماً ادارے کی موجودہ سیاسی پالیسی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم جہاں ریکارڈ میں ملازمت کی حیثیت مختلف درج ہو، وہاں تاریخوں اور ملازمت کے تعلق کی وضاحت ضروری ہے۔
فیڈرل ریزرو:مرکزی مالیاتی ادارے کے ملازمین کی سیاسی سرگرمی
امریکی فیڈرل ریزرو کی ساکھ اس کے مالیاتی فیصلوں اور سیاسی دباؤ سے آزاد رہنے کی صلاحیت سے جڑی ہے۔ شرحِ سود، افراطِ زر اور معیشت سے متعلق اس کے فیصلے براہِ راست امریکی عوام، کاروباری اداروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس ادارے سے وابستہ افراد کی سیاسی سرگرمیوں کا ذکر بھی عوامی بحث میں حساسیت پیدا کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی دن اپنے ایک بیان میں فیڈرل ریزرو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں اوباما اور بائیڈن دور سے وابستہ افراد موجود ہیں، جو ان کے بقول درست فیصلے نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے بلند شرحِ سود کو متوازن بجٹ کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔ یہ صدر کا سیاسی مؤقف تھا، نہ کہ فیڈرل ریزرو کے ملازمین کی سیاسی ترجیحات سے متعلق کسی آزادانہ تحقیقات کا نتیجہ۔
واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ میں فیڈرل ریزرو سے وابستہ چند افراد کے انتخابی عطیات کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں:
عبد السید کی مہم کو3ہزار ڈالر
رپورٹ کے مطابق فیڈرل ریزرو کے ملازم عرفان مرتضیٰ نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کی انتخابی مہم کو دو عطیات دیے، جن کی مجموعی رقم $3,000 تھی۔
نیویارک فیڈ کے ماہرِ معاشیات کے عطیات
نیویارک فیڈ کے ماہرِ معاشیات کیشَو ڈوگرا نے کانگریسی امیدوار کلیئر ویلڈیز کی مہم کو $1,750 اور ڈاریالیزا اویلا چیویلیئر کی مہم کو بھی $1,750 عطیہ دیا۔
ٹیکساس کے امیدوار کو دو ہزار ڈالر
نیویارک فیڈ سے وابستہ ایک اور ملازم ڈولف ہاس نے ٹیکساس کے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کی مہم کو $2,000 دیے۔
انفرادی ملازمین کے سیاسی عطیات بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ فیڈرل ریزرو بطور ادارہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہے۔ مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ایسے ادارے میں پیشہ ورانہ غیر جانب داری کے تقاضوں، ملازمین کے مفادات اور عوامی اعتماد کو کس طرح الگ رکھا جاتا ہے۔ ادارے کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے فیصلوں اور عملے کی ذاتی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان واضح حد برقرار رہے۔
کولمبیا یونیورسٹی:بڑے عطیات اور نظریاتی وابستگیوں کا سوال
واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی سے منسلک افراد کی سیاسی مالی معاونت میں بعض نمایاں رقوم سامنے آئی ہیں۔ ان میں سب سے بڑا عطیہ ریچل ایل راس کے نام سے درج ہے، جنہوں نے انتخابی ریکارڈ میں اپنا آجر کولمبیا یونیورسٹی ظاہر کرتے ہوئے موومنٹ ووٹر پی اے سی کو $245,000 دیے۔ رپورٹ اس کمیٹی کو بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی سیاسی تنظیم قرار دیتی ہے اور اس کا تعلق ورکنگ فیملیز پارٹی سے وابستہ تنظیموں سے جوڑتی ہے۔
کولمبیا کے کلائمیٹ اسکول کی سینئر مشیر ارون ریڈلینر نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی کو $50,000 عطیہ دیا۔ اسی طرح کولمبیا ٹیچرز کالج میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آف پریکٹس امرا صبیح الرئیس نے عبدل السید کی مہم کو $10,000 دیے۔
ہارورڈ سے وابستہ افراد اور عبدل السید کی مہم
رپورٹ کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ صحتِ عامہ سے وابستہ پروفیسر میری باسیٹ نے عبدل السید کی سینیٹ مہم کو $5,000 عطیہ دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہارورڈ کی یہودی دشمنی سے متعلق ٹاسک فورس نے باسیٹ کے مرکز کو اسرائیل مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے تنقید کا موضوع بنایا تھا۔ یہ ایک حساس اور متنازع معاملہ ہے، اس لیے اس سے متعلق رائے اور الزامات کو اسی ٹاسک فورس اور رپورٹ کے حوالے سے سمجھنا ضروری ہے۔
ہارورڈ سے وابستہ ایک اور فرد فرح عزالدین نے بھی عبدل السید کی مہم کو $3,500 عطیہ دیا۔ جبکہ ہارورڈ کینیڈی اسکول کے فیلو انتونیو ویس نے بریڈ لینڈر کی انتخابی مہم کو $3,500 دیے۔
ان عطیات سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ بعض افراد سیاسی مہمات میں مالی طور پر حصہ لے رہے ہیں، لیکن انفرادی عطیات کی بنیاد پر کسی یونیورسٹی کے تدریسی یا تحقیقی ماحول کو یکساں سیاسی نظریے کا حامل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ادارے اختلافِ رائے، تعلیمی آزادی اور غیر جانب دارانہ تحقیق کے اصولوں کو کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
عبد السید کی مہم:مختلف اداروں سے مالی معاونت
اس رپورٹ میں عبدل السید کی انتخابی مہم کو کئی ایسے عطیات کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مختلف معتبر امریکی اداروں سے وابستہ افراد نے دیے۔ فیڈرل ریزرو، کولمبیا اور ہارورڈ سے منسلک عطیہ دہندگان کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بعض عطیات کی مجموعی مالیت قابلِ ذکر ہے۔
سیاسی امیدواروں کو عطیات دینے کا عمل جمہوری سیاست کا حصہ ہے، اور امیدواروں کی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف ہر شہری کا حق ہے۔ تاہم جب کسی امیدوار کے حامیوں میں اعلیٰ صحافتی، تعلیمی اور مالیاتی اداروں سے وابستہ افراد شامل ہوں تو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا ان کی سیاسی سرگرمیاں ان کے پیشہ ورانہ کردار یا اداروں کے ضابطوں سے متصادم تو نہیں۔
سیاسی عطیہ اور ادارے کی پالیسی ایک ہی چیز نہیں
اس پورے معاملے میں ایک بنیادی فرق نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ کسی ملازم کا ذاتی عطیہ اس کے آجر کے ادارہ جاتی مؤقف کا ثبوت نہیں ہوتا۔ امریکی انتخابی مالیات کے نظام میں شہریوں اور ملازمین کے سیاسی عطیات ایک قانونی سرگرمی ہیں، اور وفاقی انتخابی کمیشن کے ریکارڈ میں عطیہ دہندگان کا نام، رقم اور ان کی فراہم کردہ ملازمت کی معلومات درج ہو سکتی ہیں۔ یہ اندراج بذاتِ خود کسی ادارے کی سرکاری حمایت یا سیاسی وابستگی ثابت نہیں کرتا۔
لیکن نیویارک ٹائمز جیسا ادارہ اگر اپنے ملازمین کے سیاسی عطیات پر واضح پابندی رکھتا ہے تو اس کے لیے یہ معاملہ مختلف نوعیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہاں اصل سوال ملازم کے سیاسی حق سے زیادہ ادارے کے اپنے اخلاقی ضابطے کی پابندی اور اس پر یکساں عمل درآمد کا ہے۔ اسی طرح فیڈرل ریزرو، ہارورڈ اور کولمبیا کے معاملے میں بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ملازمین کی سرگرمیوں اور اداروں کی پالیسی کے درمیان کس نوعیت کا تعلق ہے۔
اس لیے اس رپورٹ کو صرف سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت کی فہرست سمجھنا کافی نہیں۔ اس کے ذریعے ایک وسیع تر بحث سامنے آتی ہے:کیا امریکہ کے طاقتور ادارے اپنے پیشہ ورانہ اصولوں کو سیاسی دباؤ، ذاتی نظریات اور انتخابی سرگرمیوں سے الگ رکھنے کے لیے کافی شفافیت دکھا رہے ہیں؟
اعتماد کا بحران اور جواب دہی کا تقاضا
کسی بھی جمہوری معاشرے میں صحافت کا اعتبار اس کے قارئین کے اعتماد سے، یونیورسٹیوں کا وقار علمی آزادی سے، اور مرکزی مالیاتی ادارے کی ساکھ اس کے غیر جانب دارانہ فیصلوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ان اداروں کے ملازمین کی سیاسی وابستگیوں اور ادارہ جاتی ضابطوں کے درمیان تضاد سامنے آئے تو اسے معمولی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم اس کا حل یہ بھی نہیں کہ چند افراد کے عطیات کی بنیاد پر پورے ادارے کو کسی جماعت کی سیاسی مشین قرار دے دیا جائے۔ ایسا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ادارہ جاتی فیصلوں، پالیسیوں، انتظامی ہدایات اور عملی کردار کا الگ سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ انفرادی سیاسی عطیات ایک اہم اشارہ ہو سکتے ہیں، مگر کسی پورے ادارے کی سیاسی سمت کا قطعی ثبوت نہیں۔
نیویارک ٹائمز کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اخلاقی ضابطے سے متعلق سوالات کا واضح جواب دے۔ یونیورسٹیوں کو اپنے علمی ماحول میں آزادانہ بحث اور اختلافِ رائے کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے، جبکہ فیڈرل ریزرو کو یہ اعتماد برقرار رکھنا ہوگا کہ اس کے مالیاتی فیصلے سیاسی وابستگیوں کے بجائے معاشی شواہد اور قانونی ذمہ داریوں کے تحت کیے جاتے ہیں۔
جمہوریت میں غیر جانب داری کا معیار
سیاسی عطیات دینا شہری آزادی ہے، مگر پیشہ ورانہ غیر جانب داری کا دعویٰ کرنے والے اداروں کے لیے اپنے اصولوں پر عمل درآمد بھی لازم ہے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ ان کے ملازمین کس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں یا چندہ دیتے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ادارے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ سے کس حد تک آزاد رہتے ہیں۔
امریکی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ صحافت، تعلیم اور مالیاتی اداروں سے شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کریں۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے نہ سیاسی وابستگی چھپائی جانی چاہیے اور نہ ہی انفرادی عطیات کو پورے ادارے کا جرم یا مؤقف بنا کر پیش کیا جانا چاہیے۔ غیر جانب داری کا اصل معیار شفاف قواعد، یکساں احتساب اور قابلِ جانچ عملی رویہ ہے۔
رپورٹ میں درج نمایاں عطیات — خلاصہ
نیویارک ٹائمز: ہیری اسٹیونز — 1,000 ڈالر؛ مائیکل ہوفمین — 500 ڈالر؛ ایرک اسٹون — 250 ڈالر؛ پیٹر کیپنیوز — ڈیموکریٹک امیدواروں اور کمیٹیوں کو متعدد عطیات، جن میں ایک100ڈالر کا عطیہ بھی شامل ہے۔
فیڈرل ریزرو اور نیویارک فیڈ: عرفان مرتضیٰ — عبدل السید کو مجموعی طور پر3,000ڈالر؛ کیشَو ڈوگرا — کلیئر ویلڈیز اور ڈاریالیزا اویلا چیویلیئر کو1,750، 1,750 ڈالر؛ ڈولف ہاس — جیمز ٹالاریکو کو2,000ڈالر۔
کولمبیا: ریچل ایل راس — موومنٹ ووٹر پی اے سی کو245,000ڈالر؛ ارون ریڈلینر — ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی کو50,000ڈالر؛ امرا صبیح الرئیس — عبدل السید کو10,000ڈالر۔
ہارورڈ سے وابستہ افراد: میری باسیٹ — عبدل السید کو5,000ڈالر؛ فرح عزالدین — عبدل السید کو3,500ڈالر؛ انتونیو ویس — بریڈ لینڈر کو3,500ڈالر۔
ادارتی وضاحت:اس رائے مضمون میں عطیات کی تفصیلات واشنگٹن فری بیکن کی3نومبر2026کی رپورٹ کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ سیاسی رجحانات سے متعلق اصطلاحات اور اداروں کے بارے میں الزامات اصل رپورٹ سے منسوب ہیں۔
