ٹرمپ کی شکست:غرور، جنگ اور اتحادیوں سے دوری
امریکی عوام کا فیصلہ، ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کا جائزہ
امریکی سیاست میں عوامی فیصلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابی نتائج صرف حکومتوں کی کارکردگی نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور عالمی تعلقات پر بھی عوامی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات کے پس منظر میں بھی یہی عوامل نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
امریکہ اور پاکستان کے درمیان وقت کا تقریباً دس گھنٹے کا فرق ہے۔ رات کو میں ابتدائی نتائج دیکھ کر سو گیا۔ سوچا کہ رات کو جاگ کر کیا کرنا ہے، صبح اٹھ کر نتیجہ دیکھ لوں گا، جب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہوگی۔ بہرحال، صبح اٹھ کر دیکھا تو جہاں امریکی عوام خوشی سے ناچ رہے ہیں، وہیں پاکستانی بھی پھولے نہیں سما رہے۔
امریکی عوام نے تو ایران جنگ اور مہنگائی کے خلاف ووٹ دیا ہے، جبکہ پاکستانی عوام کو ان مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستان میں مہنگائی اس وقت ہوتی ہے جب پیپلز پارٹی یا نواز لیگ میں سے کوئی ایک یا دونوں اپوزیشن میں ہوں۔ اب چونکہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں، اس لیے نہ کوئی مہنگائی ہے اور نہ ہی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کی شکست کے اسباب
ٹرمپ کی شکست کی وجہ اس کی اپنی پالیسیاں ہیں، جن میں پہلے نمبر پر غیر ملکی اشیا پر ٹیرف بڑھانا ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں۔ دوسرا ایران پر حملہ، جس کی وجہ سے تیل، گیس اور فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
2024ء کی انتخابی مہم میں صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس گروسری اسٹورز کے باہر کھڑے ہو کر عوام کو بتاتے تھے کہ بائیڈن دور میں اشیا کی قیمتیں کس قدر بڑھ گئی ہیں اور عوام بہت پریشان ہیں۔ ان کا وعدہ تھا کہ میں اقتدار میں آتے ہی24گھنٹوں میں نہ صرف قیمتیں کم کر دوں گا بلکہ روس یوکرین جنگ بھی رکوا دوں گا اور کوئی نئی جنگ شروع نہیں کروں گا۔
ٹرمپ کی سیاست کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ انتخابی مہم میں مہنگائی اور جنگیں ختم کرنے کے وعدے کیے گئے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی مسائل نے ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
نرگسیت اور تنہا فیصلوں کی سیاست
ٹرمپ کی شکست کی ایک وجہ اس کا حد سے زیادہ نرگسیت پسند ہونا بھی ہے۔ وہ ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اگر کوئی پراپرٹی ڈیلر مہینے میں دو پلاٹ بھی بیچ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو دنیا کا عقل مند ترین شخص سمجھنے لگتا ہے۔ یہی حال ٹرمپ کا ہے۔ اس نے تمام فیصلے تن تنہا کیے اور اپنے مشیروں کی بھی نہیں سنی۔
اس کا خیال ہے کہ جتنا وہ دنیا کو سمجھتا ہے، اتنا کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے مشیروں نے ٹیرف نہ لگانے کی تجویز دی تھی، جسے اس نے رد کر دیا اور نام نہاد ’’لبریشن ڈے‘‘ منایا۔ پھر ایک سال بعد سپریم کورٹ نے بھی ٹیرف کو مسترد کر دیا تھا، لیکن ٹرمپ نے اس فیصلے کو بھی تسلیم نہ کیا۔
عدالتیں جو فیصلے ٹرمپ کے حق میں کرتی ہیں، وہ درست ہیں اور جو فیصلے اس کے خلاف ہوں، اس کے نزدیک وہ فیصلے ہی غلط ہیں۔
ٹرمپ کا طرزِ حکمرانی مشاورت کے بجائے اپنی ذات پر غیر معمولی اعتماد اور تنہا فیصلوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہی طرزِ سیاست بالآخر اس کے لیے سیاسی بوجھ بن سکتا ہے۔
عالمی نظام اور اتحادیوں سے ٹرمپ کی دوری
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے جو عالمی نظام (World Order) تشکیل دیا تھا، اس پر ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں اتفاق کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، لیکن ٹرمپ نے اس نظام کو بھی اپنی نرگسیت کی بھینٹ چڑھا دیا۔
دنیا میں امریکہ کی طاقت کا ایک بڑا سبب اس کے اتحادی تھے۔ اگر آپ کے اتحادی طاقتور ہیں تو آپ بھی طاقتور ہیں، لیکن ٹرمپ نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر ہر اتحادی کے ساتھ نفرت آمیز سلوک کیا اور ان پر بھاری ٹیرف عائد کیے۔
ٹرمپ کو دنیا میں صرف تین ہی حکمران پسند ہیں:صدر پوٹن، صدر شی اور صدر کم جونگ اُن، جو آمرانہ طرزِ حکمرانی کے لیے معروف ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی انہی جیسا بننے کی کوشش کرتے رہے۔ جو صدر کی چاپلوسی نہیں کرتا، اسے دھتکار دیا جاتا ہے، چاہے وہ اپنی پارٹی کا رہنما ہو یا کوئی عالمی سربراہ۔
مودی سے لے کر یورپی رہنماؤں، جاپانی، کوریائی، آسٹریلوی اور کینیڈین قیادت تک، ٹرمپ نے متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جسے سفارتی آداب اور اتحادی تعلقات کے منافی سمجھا گیا۔
امریکہ کی عالمی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں اور معیشت میں نہیں، بلکہ اس کے اتحادیوں کے اعتماد اور مشترکہ عالمی نظام میں بھی پوشیدہ ہے۔
ایران جنگ اور اتحادیوں کو نظرانداز کرنے کی قیمت
ماضی میں امریکی صدور کسی بھی غیر ملکی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس اور پھر اپنے اتحادیوں سے مشاورت کرتے تھے اور متفقہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو نظرانداز کر دیا۔
ایران پر حملے کے معاملے میں کانگریس سے مشاورت تو دور کی بات، ٹرمپ نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کیا۔ اس کے بعد جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو طعنے دینے شروع کر دیے کہ وہ اس کی مدد نہیں کر رہے۔
یہ صورتحال امریکی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں سے تعاون اور حمایت کی توقع رکھتا ہے، دوسری طرف ان سے مشاورت کیے بغیر ایسے فیصلے کرتا ہے جن کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔
امریکہ کی عالمی قیادت کا امتحان
ٹرمپ کی سیاست کا اصل سوال صرف انتخابی کامیابی یا شکست کا نہیں، بلکہ امریکہ کے عالمی کردار کا بھی ہے۔ معاشی فیصلے، ایران کے ساتھ جنگ، اتحادیوں سے کشیدگی اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نے امریکی قیادت کے اس تصور کو چیلنج کیا ہے جس کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد رکھی گئی تھی۔ امریکہ کی طاقت کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ وہ کتنی فوجی یا معاشی قوت رکھتا ہے، بلکہ اس پر بھی ہے کہ دنیا اس کی قیادت پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔
