ٹرمپ جنگ کی وجہ سے نہیں ہارے، وہ اس لیے ہارے کہ جنگ ختم نہیں کر سکے
ٹرمپ جنگ کی وجہ سے نہیں ہارے۔ وہ اس لیے ہارے کہ وہ اسے ختم نہیں کر سکے۔
امریکہ اس وقت کسی ایسے راستے پر محض بحث نہیں کر رہا جو اسے سیاسی اور اخلاقی کھائی کے کنارے تک لے جائے۔ وہ ایسے لوگوں کو منتخب کر رہا ہے جو اسے اسی سمت دھکیل رہے ہیں۔
نیویارک کے ووٹروں نے ابیر کواس کو ریاستی سینیٹ کے لیے منتخب کیا ہے۔ مصنفہ کے مطابق، یہ وہی خاتون ہیں جنہیں برسوں پہلے ایک ریلی میں حماس کے پرچم کی طرف سر ہلاتے ہوئے فلمایا گیا تھا، جبکہ وہاں مقررین انتفاضہ کے حق میں نعرے اور بیانات دے رہے تھے۔
مشی گن میں ووٹروں نے عبدالسید کے ساتھ سیاسی وابستگی کا اظہار کیا، جو مسلم برادرہڈ کی مذمت کرنے کا واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ تاہم مصنفہ ان کے خاندانی روابط پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ ان کے سسر طیب جوکاکو طویل عرصے تک ایسی تنظیموں کے مشاورتی بورڈز سے وابستہ رہے جنہیں وفاقی استغاثہ نے حماس کی مالی معاونت کے ایک بڑے مقدمے میں غیرملزم شریک سازش کاروں کے طور پر نامزد کیا تھا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی تنظیم کا کسی مقدمے میں غیرملزم شریک سازش کار کے طور پر نامزد ہونا، بذاتِ خود اس تنظیم یا اس سے وابستہ ہر فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ اسی طرح کسی امیدوار کے رشتہ دار کے ماضی کے ادارہ جاتی روابط کو امیدوار کی اپنی ذمہ داری یا مؤقف کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔
نیویارک میں میئر زہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کے بارے میں بھی رپورٹیں سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے انسٹاگرام پر ایسی پوسٹس پسند کیں جنہیں ناقدین نے7اکتوبر کے حملوں کی تحسین یا جواز کے طور پر دیکھا۔ ان پوسٹس میں حماس کے حملے کے مناظر اور اسے مزاحمت کے تناظر میں پیش کرنے والے پیغامات شامل تھے۔
اس معاملے پر ممدانی نے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ ان کی زندگی کی محبت ہیں، لیکن وہ ایک نجی شخصیت ہیں اور ان کی انتخابی مہم یا سٹی ہال میں کوئی باضابطہ عہدہ نہیں رکھتیں۔ ان کے دفتر نے بھی واضح کیا کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور7اکتوبر کے واقعات جنگی جرم تھے، جن کی انہوں نے غیرمشروط مذمت کی ہے۔
یہ بحث محض سیاسی اختلاف یا مختلف نظریات کے وجود تک محدود نہیں رہتی۔ جب کسی سیاسی شخصیت، امیدوار یا ان کے قریبی حلقے کے بیانات اور سرگرمیوں پر تشدد پسند تنظیموں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ووٹروں کو ان دعووں، دستیاب شواہد اور متعلقہ افراد کے جوابات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
خطرہ مستقبل میں نہیں، انتخابی عمل میں موجود ہے
مصنفہ کے نزدیک امریکہ کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کسی جنگ کے نتائج یا خارجہ پالیسی کی سمت پر اختلافات کا شکار ہے۔ ان کے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے انتخابی فیصلے ایسے سیاسی رجحانات کو جگہ دے رہے ہیں جن کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ان کا استدلال ہے کہ سیاسی امیدواروں کے بیانات، ان کے سابقہ روابط، ان کے قریبی حلقوں کی سرگرمیاں اور تشدد کے واقعات پر ان کے ردعمل کو محض انتخابی نعروں کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان امور کو شواہد اور متعلقہ افراد کے مؤقف کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔
