زندگی تو اک طلوعِ مسلسل کا نام ہے
تحریر:نبیلہ کیانی
زندگی کی تعمیرِ نو اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان اپنے دل و دماغ کو اپنی آواز سننے، اپنے امکانات پہچاننے اور اپنی راہ خود منتخب کرنے کی اجازت دے۔
اپنی ازدواجی زندگی کی ناخوشی سے لبالب بھری ایک خاتون کو برسوں بعد دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کا دماغ اس کی زندگی سے راہِ فرار اختیار کر گیا ہے۔ وہ زندگی جسے اس نے بھونچالوں سے بچائے رکھنے کی بھرپور کوشش کی تھی، اسے باضابطہ اور ترتیب سے رکھنے میں اپنی عمر لگا دی تھی، اسی زندگی سے اس کا دماغ کنارہ کش ہو گیا تھا۔ وہ کسی کو بھی نہیں جانتی تھی۔ وہ وقت سے آزاد ہو گئی تھی۔ دن کی روشنی بھی اس کے لیے اتنی ہی بے معنی تھی جتنی رات کی تاریکی۔
اسے ہر وقت صرف یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اس کی قیمتی اشیا چرا لی جائیں گی یا چرائی جا چکی ہیں اور کوئی ان چرائی ہوئی چیزوں کی بازیابی کے لیے اس کی مدد نہیں کر رہا۔ اسے چرانے والوں سے نفرت تو تھی ہی، مگر بازیابی میں مددگار نہ بننے والوں سے نفرت بے انتہا تھی۔ ہر ایک، جس میں اس کا شوہر اور بچے سرفہرست تھے، اس کی نظر میں مشکوک ٹھہرتے۔ گویا سب چور تھے۔ وہ اپنے ہی گھر میں یوں جی رہی تھی جیسے دشمنوں کے حصار میں ہو۔ نفرت، تلخی، گالی گلوچ اور مار دھاڑ زندگی کا چلن بن گئے تھے۔ شاید اب دنیا میں کوئی ایسا رشتہ ناطہ نہ بچا تھا جو رشتوں پر اس کا اعتماد بحال کر سکتا۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب اس کی باقی زندگی اسی نفرت اور تلخی کی چکی میں پستی رہ جائے گی۔
جب ذہن زندگی سے کنارہ کش ہو جائے
ایسے کیسز سے بطور ایک ماہرِ نفسیات میرا روز پالا پڑتا تھا۔ مجھ سے اپنی ازدواجی زندگی سے ناخوش اس خاتون کے گھر والے یہ توقع رکھ رہے تھے کہ میں اس کی ذہنی صحت بحال کرنے میں ان کی مدد کر پاؤں گی۔ وہ اسے زندگی کے اسی اسلوب میں واپس لانا چاہتے تھے جس سے اس کا دل و دماغ راہِ فرار اختیار کر چکا تھا۔ انسانی دماغ بھی عجب ہے۔ ایک دفعہ اپنے مالک کو دھتکار کر چلا جائے تو پھر واپسی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتی ہے۔
اس خاتون نے اپنے آپ کو اس بری طرح تباہ کر لیا تھا کہ اس کی دوبارہ تعمیر ناممکن ہو گئی تھی۔ وہ اب اس قابل بھی نہیں رہی تھی کہ جس دکھ بھری زندگی کے پنجے میں وہ تلملاتی رہی، اس کی داستان بھی کہہ سکے۔ اس طوقِ رسم و رواجِ جہاں کے بارے میں دکھ بھری، آہ و فغاں سے بھرپور کوئی گیت یا کوئی مرثیہ لکھ سکے۔ اب وہ ایک ہی جذبے کی گرفت میں تھی اور وہ جذبہ تھا نفرت۔ اسے سب سے زیادہ نفرت اپنے آپ سے تھی، جس کا اظہار وہ خود کو ہر طریقے سے نقصان پہنچا کر کرتی تھی۔
اسے ہر اس شخص سے پُرتشدد نفرت تھی جو اس کی صحت بہتر کرنے میں مددگار تھا:ڈاکٹر، نرس، ہسپتال کا باقی عملہ اور اس کے گھر والے۔ جو اس کی بہتری چاہتے تھے، وہ سب اس کے مجرم تھے۔ شاید اپنے بچے کھچے دل و دماغ سے وہ یہ سوچتی تھی کہ جب اس نے خود اپنا بھلا نہ کیا یا نہ کر سکی تو پھر کوئی اور بھی اس کا بھلا کیوں کرے یا چاہے؟
دماغ جب اس کے ساتھ تھا، اس وقت بھی وہ اسے نفرت اور تلخی سے بچا نہ سکا، اور اب تو وہ منفی اور زہریلے تجربوں کی یاد میں بری طرح دھنس چکی تھی۔ سوتے جاگتے اس کی آنکھیں، اس کا دل اور دماغ غصے اور نفرت سے معمور شعلے برساتے۔ ان شعلوں میں اس کا اپنا وجود بھی بھسم ہو رہا تھا۔ کیا کوئی اتنا بدقسمت ہو سکتا ہے!
کیا صرف دیوانگی ہی راہِ نجات ہے؟ کیا دیوانگی ہی بغاوت ہے؟
یہ وہ بدقسمتی تھی جو معاشرے کی طاقتوں نے اس کے اپنے ہاتھوں لکھوائی تھی۔ یہ وہ بدقسمتی تھی جسے کوشش کرتی تو لکھنے سے انکار بھی کر سکتی تھی۔ وہ کوشش کر سکتی تھی کہ اپنی ناخوش ازدواجی زندگی کی تکلیف اور گھٹن سے نجات کی راہ تلاش کرے۔ اپنے دل، دماغ اور روح کو اجازت دے سکتی تھی کہ وہ اس کے لیے خوشی کی کوئی راہ نکالیں۔ اگر یہ کر پاتی تو زندگی اس کے لیے گھاؤ نہ بنتی۔ کیا صرف دیوانگی ہی راہِ نجات ہے؟ کیا دیوانگی ہی بغاوت ہے؟
کبھی کبھی مجھے ان عورتوں کا خیال آتا جنہوں نے دیوانگی کے علاوہ بھی بغاوت کے راستے اختیار کیے۔ بغاوت کا اظہار کرنے کے لیے بھی گوناگوں راہیں کھلی ہیں۔
ایک عورت جس نے اپنی زندگی ازسرِنو تعمیر کی
یونہی سوچتے سوچتے مجھے اپنی ایک سہیلی کا خیال آیا جس نے اپنی زندگی کی تخلیقِ نو کی۔ اپنی شخصیت کو نئے ڈھنگ سے تعمیر کیا۔
میری یہ سہیلی ایک ذہین اور محنتی خاتون ہے۔ اس نے صرف اپنے بارے میں ہی نہیں سوچا تھا بلکہ ایسی طاقتوں کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی جو بدقسمت انسانوں اور خصوصاً عورتوں کی بھلائی میں مصروفِ کار ہیں۔ اس کی شخصیت میں ذاتی عیش و آرام کے خوابوں کی گنجائش نہ تھی۔ اپنے لڑکپن کے دور سے وہ معاشی اور فکری طور پر پس ماندہ ہم جماعت لڑکیوں کی مدد کے لیے ہر دم کمربستہ رہتی۔
اس کے لڑکپن کی ایک خواہش مجھے یاد آئی کہ وہ ہر قیمت پر مدر ٹریسا سے ملنا چاہتی تھی۔ چھوٹے سے شہر میں رہنے والی میری یہ سہیلی مدر ٹریسا کو اپنا ماڈل سمجھتی تھی۔ مدر ٹریسا کے کاموں کے بارے میں اس نے بے پناہ معلومات اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ میں اسے دیکھ کر سوچا کرتی کہ جس نے عین عالمِ شباب میں مدر ٹریسا کو اپنا ماڈل بنا لیا ہے، جانے وہ اپنی زندگی کو کیسے تعمیر کرے گی!کیسے ترتیب دے گی!
پھر اس کی شادی کی خبر آئی۔ اس خبر کے بعد ہم ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے سے بے خبر رہے۔ مجھے زندگی اور راہوں پر لے گئی، نفسیات دان ہو گئی۔
عورت کی خاموشی اور ضبط کی قیمت
مجھے زندگی اور راہوں پر لے گئی۔ نفسیات دان بن گئی۔ یہ نوکری مجھے روز ان عورتوں سے بھی ملاتی جو زندگی بھر اس کوشش میں رہیں کہ اپنے ہر کردار کو اچھی طرح نبھائیں۔ شاید کبھی کبھار ان کا دھیان اپنی ذات کی طرف بھی کھلتا ہوگا اور ان کا دل و دماغ کبھی تو کہتا ہوگا کہ میری بات بھی سن۔ لیکن نہ وہ دل کی سن سکیں، نہ دماغ کے کسی مشورے پر دھیان دیا ہوگا، نہ کبھی اپنی بات کہہ سکیں ہوں گی۔ اب ضبط کی ٹیسیں کیا کیا شکلیں اختیار کر رہی ہیں، ان صورتوں کی شکار ہر عمر کی عورتوں کا وارڈ بھرا ہوا ہے۔
طلاق کے دہانے پر ایک نیا فیصلہ
کئی سال بیت گئے۔ اچانک میری ملاقات اپنی اس دوست سے دوبارہ ہوئی جس کا ماڈل مدر ٹریسا ہوا کرتی تھی۔ وہ اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ امریکہ سے واپس وطن لوٹ آئی تھی۔ خاوند کے ساتھ کھٹ پٹ چل رہی تھی۔ بقول اس کے، اس کا خاوند ایک سیانا، دنیا دار آدمی تھا۔ اس کے لیے یہ زندگی بھی اور یہ دنیا بھی ایک کاروباری میدان تھا، جہاں اس نے ہر قیمت پر منافع کمانا تھا۔
وہ ایک وارث کی خواہش رکھتا تھا، لیکن قدرت کے فیصلے اس کی خواہش کے تابع نہ ہو سکے اور اب دولت کے زور پر وہ یہ فیصلہ اپنی خواہش کے حق میں کرنا چاہتا تھا۔ یہیں سے گھریلو زندگی فساد کی لپیٹ میں آگئی اور یہ فساد اتنا بڑھا کہ نوبت طلاق تک آپہنچی۔
میری دوست نے ٹھان لی تھی کہ وہ اب اپنی زندگی اپنی اقدار کے مطابق بسر کرے گی۔ اب اپنے دل کی سنے گی۔ معاشرتی زندگی کے تقاضوں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فرد کی زندگی کو روند ڈالیں۔
"میں اب وہ کرنا چاہتی ہوں جس میں میرا دل و دماغ شامل ہو۔”
میں اپنی اس پُرعزم دوست کو دیکھتی تو سوچتی کہ اس نے کم از کم اپنے آپ کو مینٹل ہسپتال کے خواتین وارڈ میں منتقل ہونے سے بچایا ہوا ہے۔ دنیا میں، اس سنسار میں، دکھ سکھ سب کے لیے ہیں۔ مگر میری یہ دوست رونے کی بجائے زندگی کو اپنے گیان سے بسر کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس کا دماغ اور دل اسے اپنی زندگی کی تعمیرِ نو میں مصروف کر رہے تھے۔ گاہے بگاہے ملاقات ہوتی تو دیکھتی کہ بیٹیوں کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے لیے نئی راہوں کی کھوج میں ہے۔
میں اس انتظار میں رہتی کہ کب میں اسے وہ زندگی جیتے دیکھوں گی جو وہ جینا چاہتی ہے۔ اپنی آنکھوں میں امنگوں کے دیے لیے وہ گرجتے طوفانوں سے ٹکرا رہی تھی۔ جو زندگی اس کے لیے کڑا بوجھ بن گئی تھی، اس سے نجات حاصل کرکے اپنی روح کے آنگن میں کھلے امکانات کے چمن کی آبیاری کر رہی تھی۔
محنت کی نئی معنویت اور روح کی آزادی
اس کی محنت اور کام کرنے کی عادت، جو دراصل اس لیے سکھائی گئی تھی کہ وہ ناری کا دھرم نبھاتے ہوئے ایک خاموش محنت کش کو لہو کے بیل کی مانند زندگی گزار سکے، اب اسی محنت اور کام کرنے کی عادت سے اس کے اپنے طرب کے سامان پیدا ہو رہے تھے۔ وہ اپنی باریک باریک ہتھکڑیوں میں جکڑی روح کو آزاد کرنے میں مصروفِ عمل تھی۔ لاشعور کے عفریتوں سے لڑ رہی تھی۔ شعور میں مستقبل کے خواب بسائے اپنے راستے پر رواں دواں تھی۔
کوشش کر رہی تھی کہ زندگی کے وہ دن جو بیت گئے، جو ضائع ہو گئے، کبھی یاد نہ آئیں۔
تھیٹر، طنز اور مزاح:بغاوت کا تخلیقی راستہ
پھر ایک دن مجھے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ کسی گاؤں میں اس کا لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہوا ڈرامہ پیش کیا جا رہا تھا۔
میں گئی تو دیکھا کہ دریوں پر عورتیں، مرد اور بچے چہروں پر مسکراہٹ لیے بیٹھے ہیں۔ انہی دریوں میں سے ایک دری پر میری یہ دوست اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈرامے کے مناظر پیش کر رہی تھی۔ ڈرامے میں رقص تھا، گیت تھے، موسیقی تھی، گیان سے بھرپور مکالمے تھے اور عوام سامعین تھے۔ گھٹن اور قلاش کے مارے انسانوں کو اس نے اپنے سامعین کے طور پر چنا تھا۔ وہ، جس نے لڑکپن میں مدر ٹریسا کو اپنا ماڈل بنا لیا تھا، اس نے عوام سے رابطہ رکھنے کی راہ چن لی تھی۔
وہ تھیٹر کے ذریعے عوام کو جہالت کے شکنجے سے آزاد کرانے کی کوشش میں مصروف ہو گئی تھی۔
اس کا لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہوا ڈرامہ دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ اس نے مزاح اور طنز کا آرٹ سیکھ لیا ہے۔ طنز و مزاح وہ قوت ہے جو عرصے سے پوجے جانے والے بتوں کو ڈھیر کر دیتی ہے۔ پوجنے والوں کے دل و دماغ میں بھک پیدا کرتی ہے۔ دل و دماغ کی کھڑکیوں پر سے جالے اتار کر انہیں تازہ ہوا کی گزرگاہ بناتی ہے۔ متعفن عادتوں اور سوچوں کی گھٹن سے آزاد کرتی ہے۔ انسان کی حسِ مزاح صدیوں سے تباہ کن طاقتوں کو سلیقے سے بیان کرتی آئی ہے۔
انسان کے ہنسنے کی قوت بھی بغاوت کا ایک اہم ہتھیار بن سکتی ہے۔
ایک قطرہ خون بہائے بغیر یہ زہریلی طاقتوں کا تریاق بنتی ہے، انسان کے ہنسنے کی قوت کو بغاوت کا اہم ہتھیار بنا دیتی ہے۔ اسی لیے ایک دور میں چرچ نے کامیڈی اور حسِ مزاح کو حرام قرار دیا تھا۔ حسِ مزاح اور کامیڈی انسان کے لیے عقل و فراست کی نئی دنیا کھول دیتے ہیں۔ ہنستے ہنستے ایک اور نقطۂ نظر اجاگر کر دیتے ہیں۔
امید، اعتماد اور امکانات کی تلاش
ذاتی زندگی میں بھوکے بیل کی طرح بھسم نہ ہونے والی میری یہ سہیلی اپنے لیے بھی امکانات دریافت کر رہی تھی۔ بے شمار لوگوں کی مدد کر رہی تھی کہ امکانات کی کھوج جاری رکھیں، امید قائم رکھیں، پُراعتماد رہیں اور ان طاقتوں کو شکست دینے کا عمل جاری رکھیں جو خوبصورتی بھسم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
اس کی شخصیت میں رنگ، چھب، روپ اور رس لوٹ آیا۔
زندگی تو اک طلوعِ مسلسل کا نام ہے۔
ہر نئی صبح اپنے ساتھ نئے امکانات، نئی راہیں اور نئی تعمیر کا امکان لے کر آتی ہے۔
