• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی عوام شکر گزار ہوں گے امریکہ کا⁦2⁩کروڑ ڈالر انعام امریکی شہریوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی الرٹ ایران کی جوہری پیشکش، ہیگستھ کا⁦350⁩ارب ڈالر کا مطالبہ عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع اداریہ⁦:⁩کیا ہر گھر سے ممدانی نکلے گا؟ کانگریس کا ہاتھ سے نکلنا، حکومت سے محرومی نہیں زندگی تو اک طلوعِ مسلسل کا نام ہے
ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی عوام شکر گزار ہوں گے امریکہ کا⁦2⁩کروڑ ڈالر انعام امریکی شہریوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی الرٹ ایران کی جوہری پیشکش، ہیگستھ کا⁦350⁩ارب ڈالر کا مطالبہ عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع اداریہ⁦:⁩کیا ہر گھر سے ممدانی نکلے گا؟ کانگریس کا ہاتھ سے نکلنا، حکومت سے محرومی نہیں زندگی تو اک طلوعِ مسلسل کا نام ہے
Home » عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع
کراس پوسٹ

عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 7, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
امریکی سیاست⁦|⁩مشی گن⁦|⁩سیاسی تقرری

عبدالسید کی پہلی تقرری پر تنازع، برینڈا عبداللہ کے اسرائیل مخالف بیانات زیرِ بحث

مشی گن کے نومنتخب سینیٹر نے مصری نژاد امریکی وکیل کو اپنی عبوری ٹیم کی ڈائریکٹر مقرر کیا؛ ماضی میں صہیونیوں کے امریکی سیاست پر کنٹرول سے متعلق ان کے بیان اور اسرائیل پر الزامات دوبارہ زیرِ بحث آگئے۔

امریکی ریاست مشی گن سے نومنتخب ڈیموکریٹ سینیٹر عبدالسید کی جانب سے اپنی عبوری ٹیم کی سربراہ کے طور پر برینڈا عبداللہ کی تقرری نے سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ برینڈا عبداللہ مصری نژاد امریکی قانون دان، پروفیسر اور سابق لابنگ ماہر ہیں۔ ماضی میں وہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جبکہ⁦2024⁩میں کملا ہیرس کی صدارتی مہم کے دوران عرب اور مسلم برادریوں سے رابطے کی ذمہ داری بھی سنبھال چکی ہیں۔

امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق عبدالسید نے انہیں اپنی ٹرانزیشن ٹیم کی ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کے بعد برینڈا عبداللہ کے ماضی کے بعض بیانات دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جن میں انہوں نے امریکی سیاست میں صہیونی اثرورسوخ کے حوالے سے ایسا بیان دیا تھا جسے ناقدین یہودیوں کے عالمی معاملات پر کنٹرول سے متعلق ایک قدیم سام دشمن سازشی تصور کی بازگشت قرار دیتے ہیں۔

برینڈا عبداللہ نے یونیورسٹی آف مشی گن میں اسلاموفوبیا اور قانون کے موضوع پر ایک کورس بھی متعارف کرایا تھا۔ تاہم ان کے ماضی کے سیاسی بیانات اور اسرائیل سے متعلق مؤقف نے ان کی نئی ذمہ داری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

2002 کا متنازع بیان

برینڈا عبداللہ نے⁦2002⁩میں امریکن مسلم کونسل کی ایک کانفرنس کے موقع پر نیویارک سن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صہیونیوں کی امریکی سیاست میں مضبوط آواز ہے اور ان کے بقول وہ اس کے ایک بڑے حصے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

صہیونی اثرورسوخ سے متعلق بیان اور اسرائیل پر الزامات

نیویارک سن کو⁦2002⁩میں دیے گئے انٹرویو میں برینڈا عبداللہ نے اس وقت کے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ارل ہلیارڈ کی پرائمری انتخابات میں شکست کو امریکی سیاست میں یہودی اثرورسوخ کی مثال قرار دیا تھا۔ ہلیارڈ فلسطینیوں کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کرنے والی ایک قرارداد کی مخالفت کرچکے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کی حمایت کرنے والے گروپوں نے ان کے خلاف انتخابی مہم میں بھاری رقوم خرچ کی تھیں۔

واشنگٹن فری بیکن نے⁦2024⁩میں کملا ہیرس کی انتخابی مہم میں برینڈا عبداللہ کی شمولیت کے وقت ان کے اس بیان کو دوبارہ رپورٹ کیا تھا۔ ہیرس کی مہم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ بیان اب ان کے موجودہ خیالات کی عکاسی نہیں کرتا۔

نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق برینڈا عبداللہ نے اسرائیل پر نسلی تطہیر اور دہشت گردی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ کملا ہیرس کی مہم نے ان بیانات کے بارے میں بھی کہا تھا کہ عبداللہ اب ان خیالات سے اتفاق نہیں کرتیں۔

عبدالسید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی اسرائیل اور امریکی پالیسی پر اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دباؤ کے نتیجے میں ایران کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اتحادی امریکی رقم استعمال کرکے امریکہ کو ایسی جنگوں میں دھکیلتا ہے جن میں اسے شریک نہیں ہونا چاہیے تو اسے حقیقی اتحادی نہیں کہا جاسکتا۔

خاندانی روابط اور امریکن مسلم کونسل کا پس منظر

نیویارک سن کی رپورٹ کے مطابق برینڈا عبداللہ کی والدہ مونا عبداللہ نے بھی اپنی بیٹی کے⁦2002⁩کے بیان سے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی اندھی حمایت کر رہے ہیں۔

مونا عبداللہ نے مشی گن میں عبدالسید کے والد محمد کے ساتھ بھی کام کیا تھا، جو جزوقتی امام اور انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی نومبر⁦2001⁩کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد مونا عبداللہ نے محمد کو فورڈ فیکٹری کے کارکنوں سے خطاب کی دعوت دی تھی۔ اس نشست کا مقصد اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنا اور حملوں کے بعد مسلمانوں سے متعلق پیدا ہونے والی تشویش اور غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔

برینڈا عبداللہ مسلم ایڈووکیٹس سمیت دیگر اسلامی وکالتی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرچکی ہیں۔ مسلم ایڈووکیٹس ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جسے جارج سوروس اور دیگر لبرل ارب پتی شخصیات کی مالی معاونت حاصل رہی ہے۔ اس تنظیم کا اعلان کردہ مقصد تعصب اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنا ہے۔

ان کی والدہ مونا عبداللہ نے امریکن مسلم کونسل کی این آربر شاخ قائم کی تھی۔ اس تنظیم کو⁦2003⁩میں اسپیس شٹل کولمبیا کے حادثے کے بارے میں ایک بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تنظیم نے اس حادثے کو اسرائیل کے خلاف خدائی انتقام قرار دیا تھا اور اس کی وجہ مشن میں پہلے اسرائیلی خلا باز کی موجودگی کو بتایا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق تنظیم کے ایک بورڈ رکن کی جانب سے حماس کی حمایت کے اظہار کے بعد ہیلری کلنٹن نے⁦2000⁩کے سینیٹ انتخابی دور میں اس تنظیم سے ملنے والے عطیات واپس کردیے تھے۔ اس واقعے پر ڈیموکریٹ جماعت کے بعض ارکانِ کانگریس، جن میں نیویارک کے رکنِ کانگریس جیری نیڈلر بھی شامل تھے، نے تنظیم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

نائن الیون، مسلم برادری اور امریکی سیاست

برینڈا عبداللہ اور عبدالسید دونوں نے نائن الیون کے حملوں کے بعد مسلمانوں کو درپیش ردعمل اور مشکلات کو اپنے بیانات میں نمایاں کیا ہے۔ برینڈا عبداللہ نے⁦2017⁩میں کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد سیاسی طور پر باخبر اور متحرک رہنے کا معاملہ محض انتخاب نہیں رہا تھا، بلکہ امریکی مسلمانوں سمیت سب پر باخبر اور فعال شہری بننے کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔

نائن الیون کی برسی کے موقع پر عبدالسید نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ⁦11⁩ستمبر کو ہلاک ہونے والوں کے غم میں شریک ہیں، تاہم اگلے روز وہ تقریباً دس لاکھ انسانی جانوں، لاکھوں زخمیوں اور تین ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر بھی افسوس کا اظہار کریں گے، جو ان کے بقول امریکہ کے نام پر کی گئی کارروائیوں کا نتیجہ تھی۔

سی این این کے لیے نائن الیون کی برسی پر لکھے گئے ایک مضمون میں عبدالسید نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کے بعد مسلمانوں اور عربوں کی صحت بھی متاثر ہوئی، کیونکہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں ان کی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا۔

عبدالسید کی انتخابی مہم اور متنازع روابط

انتخابی مہم کے دوران عبدالسید کو بعض ایسے کارکنوں اور کمیونٹی رہنماؤں سے روابط پر بھی تنقید کا سامنا رہا جن پر سام دشمن سازشی نظریات پھیلانے یا حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی تعریف کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

انہوں نے سوشلسٹ سوشل میڈیا شخصیت حسن پائیکر کے ساتھ متعدد انتخابی اجتماعات میں شرکت کی۔ حسن پائیکر ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نائن الیون حملوں کا مستحق تھا اور اسرائیل حماس سے بھی بدتر ہے۔ عبدالسید نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ڈیئربورن سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی رہنما اسامہ سبلانی کے ساتھ بھی تین اجتماعات میں شرکت کی۔ سبلانی حماس اور حزب اللہ کو آزادی کی جنگ لڑنے والے گروپ قرار دے چکے ہیں۔

عبدالسید کی بہن ایمان عبدالہادی نے⁦7⁩اکتوبر⁦2023⁩کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو ایک نعمت قرار دیا تھا۔ واشنگٹن فری بیکن کے مطابق عبدالہادی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کی والدہ اور مصر میں موجود رشتہ دار طویل عرصے سے اخوان المسلمون کے ارکان رہے ہیں۔

عبدالسید نے انتخابی مہم کے دوران بارہا کہا تھا کہ ان کے پاس امریکہ اور مصر دونوں کی شہریت ہے، تاہم ان کی مہم نے واشنگٹن فری بیکن کو بتایا تھا کہ وہ کبھی دوہری شہریت کے حامل نہیں رہے۔

تقرری کے سیاسی مضمرات

برینڈا عبداللہ کی تقرری نے عبدالسید کے ماضی کے بیانات، اسرائیل سے متعلق ان کے مؤقف اور انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے روابط کو دوبارہ بحث میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم ان کی تقرری بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ نومنتخب سینیٹر اپنی انتخابی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کی عبوری ٹیم کا آئندہ کردار اور پالیسی ترجیحات ہی اس حوالے سے زیادہ واضح تصویر پیش کرسکیں گی۔

عبدالسید، برینڈا عبداللہ، امریکی سیاست، مشی گن، امریکی سینیٹ، اسرائیل، صہیونی اثرورسوخ، سام دشمنی، کملا ہیرس، مسلم امریکی، حماس، حزب اللہ، نائن الیون، عبوری ٹیم
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاداریہ⁦:⁩کیا ہر گھر سے ممدانی نکلے گا؟
Next Article ایران کی جوہری پیشکش، ہیگستھ کا⁦350⁩ارب ڈالر کا مطالبہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کراس پوسٹ

باپ کی اچھائی اور برائی

اکتوبر 29, 2026
کراس پوسٹ

بیانیوں کا قبرستان

اکتوبر 20, 2026
کراس پوسٹ

لبنان کی تقسیم

اکتوبر 19, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی عوام شکر گزار ہوں گے

نومبر 7, 2026

امریکہ کا⁦2⁩کروڑ ڈالر انعام

نومبر 7, 2026

امریکی شہریوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی الرٹ

نومبر 7, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.