جوئل پولاک:ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی عوام مستقبل میں شکر گزار ہوں گے
کیلیفورنیا پوسٹ کے رائے عامہ کے مدیر نے ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے انہیں قومی مفاد میں مشکل فیصلے قرار دیا۔
امریکی اخبار کیلیفورنیا پوسٹ کے رائے عامہ کے مدیر جوئل پولاک نے جمعے کے روز ایران جنگ سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے سیاسی اثرات کے باوجود امریکی عوام مستقبل میں ان اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کریں گے اور ان پر شکر گزار ہوں گے۔
پولاک نے فاکس نیوز کے پروگرام “Life, Liberty & Levin” میں گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ نے ایران کا سامنا کرنے اور امریکی سرحد کو محفوظ بنانے کے اپنے انتخابی وعدے پورے کیے ہیں، چاہے ان فیصلوں کے سیاسی نتائج ہی کیوں نہ سامنے آئے ہوں۔
جوئل پولاک کا مؤقف
“ٹرمپ پر یہ ذمہ داری عائد تھی، جسے انہوں نے سنجیدگی سے لیا، کہ وہ قومی مفاد میں اقدامات کریں۔ بعض اوقات صدر ہونے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ آپ کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔”
— جوئل پولاک، فاکس نیوز پروگرام میں گفتگو
ایران کا سامنا کرنے کی سیاسی قیمت
پولاک نے دلیل دی کہ سابقہ امریکی حکومتیں تہران کے خلاف سخت اقدامات سے اس لیے گریز کرتی رہی تھیں کہ ایران کا سامنا کرنے کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے تھے۔ ان کے مطابق یہی سیاسی قیمت ماضی کی انتظامیہ کو فیصلہ کن کارروائی سے روکتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے سیاسی اثرات فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں، تاہم طویل مدت میں امریکی عوام اس فیصلے کی قدر کریں گے۔ پولاک نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
“اسی لیے کسی نے ایران کا سامنا نہیں کیا، کیونکہ اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ لیکن طویل مدت میں امریکی عوام اس پر شکر گزار ہوں گے۔”
رونالڈ ریگن سے ٹرمپ کا موازنہ
پولاک نے ٹرمپ کو درپیش سیاسی مشکلات کا سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دور سے موازنہ بھی کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریگن کو اپنی صدارت کے چھٹے سال کے دوران سینیٹ کی آٹھ نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں انہیں وسیع پیمانے پر احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
تاہم پولاک نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کانگریس میں اکثریت کھو دینا بذاتِ خود کسی صدر کی کامیابی یا عظمت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ ان کے بقول ریگن اور ٹرمپ دونوں نے ایسے فیصلے کیے جو مشکل اور بعض اوقات سیاسی طور پر غیر مقبول تھے، لیکن ان کے نزدیک قومی مفاد کے لیے ضروری تھے۔
پولاک کا اختتامی مؤقف
“صرف کانگریس کھو دینے سے کوئی صدر عظیم نہیں بن جاتا۔ لیکن ریگن اور ٹرمپ دونوں نے ایسے کام کیے جو انتہائی مشکل اور بعض اوقات سیاسی طور پر غیر مقبول تھے، مگر بالکل ضروری تھے۔”
پولاک کے یہ بیانات ایران جنگ کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں اور ان کے سیاسی اثرات پر جاری امریکی بحث کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی صدر کے اقدامات کا جائزہ صرف فوری انتخابی نتائج کی بنیاد پر نہیں بلکہ طویل مدتی قومی مفاد کے تناظر میں بھی لیا جانا چاہیے۔
