تل ابیب:اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری محاذ آرائی میں اسرائیل کی فی الحال شامل ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں اور موجودہ حالات میں تل ابیب براہِ راست جنگ سے باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔
منگل کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سموٹرچ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان محدود نوعیت کی محاذ آرائی اسرائیل کے لیے بہترین صورتحال ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت کو کمزور کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے معاشی دباؤ سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا باعث بنے گی، جس سے تہران کی معاشی اور عسکری صلاحیت متاثر ہوگی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اردن میں امریکی افواج پر ایرانی حملوں کے باوجود اسرائیل نے اب تک براہِ راست عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے، تاہم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واضح کر چکے ہیں کہ اگر اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی پیشکش کی تھی، تاہم واشنگٹن نے محاذ آرائی کے مزید پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت صرف اسی صورت میں ہوگی جب ایران اسرائیلی سرزمین پر حملہ کرے۔
دوسری جانب اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے گزشتہ سال جون میں12روزہ جنگ کے بعد ہزاروں سینٹری فیوجز کو”کوہِ پیکیکس”کے اندر واقع گہری سرنگوں میں منتقل کر دیا تھا تاکہ اپنے جوہری پروگرام کی بحالی کا عمل جاری رکھا جا سکے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اس حوالے سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات امریکہ کے ساتھ بھی شیئر کر دی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی مفاہمت کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پورے خطے میں تناؤ برقرار ہے۔

