جدہ:سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین علاقائی صورتحال، اس کے بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثرات اور مملکت کی داخلی و خارجی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے حوثی دہشت گرد ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات اور دعوؤں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ یہ الزامات حقائق سے عاری ہیں اور ان کا مقصد خطے کے تنازع کو ہوا دینا ہے۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں کی سرگرمیوں نے یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب نے یمن کے عوام اور ان کی آئینی حکومت کی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ بین الاقوامی قانون اور1982کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق بحری سلامتی اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
کابینہ نے اجلاس کے آغاز میں ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو لبنان کے صدر جوزف عون کی جانب سے موصول ہونے والی ٹیلیفون کال کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر لبنان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کے کردار اور لبنان کے لیے مملکت کے مسلسل حمایتی مؤقف کو سراہا۔
سعودی کابینہ نے کویت، بحرین اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت ان ممالک کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی ہے۔ اجلاس میں ایران کے مبینہ حملوں اور بین الاقوامی قانون و ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر عسکری کشیدگی کا خاتمہ کریں تاکہ خطے کے ممالک اور عوام کا امن و استحکام برقرار رہے۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے2026کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم سمیت مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سعودی عرب کی فعال شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے”تیسرے رضاکارانہ قومی جائزے”کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب مملکت کی مسلسل پیش رفت نمایاں ہے، جس میں آبی سلامتی، قابلِ تجدید توانائی، صحت کی سہولیات، ڈیجیٹل گورننس، صنعتی ترقی اور جامع معاشی نمو جیسے شعبے شامل ہیں۔
کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے شہری ایجنڈے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کے موضوعات پر بھی غور کیا اور پائیدار شہروں کی تعمیر، رہائشی ملکیت میں اضافے، عوامی مقامات کی توسیع، جدید ٹرانسپورٹ نظام اور سماجی شمولیت کے فروغ میں سعودی عرب کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔
اجلاس کے اختتام پر قومی معیشت سے متعلق مختلف رپورٹس اور اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے معاشی اصلاحات اور حکومتی پالیسیوں کو اقتصادی استحکام کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سالانہ افراطِ زر کی شرح1.8فیصد پر برقرار ہے، جو کئی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

