امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ امریکی حملے خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے، جبکہ دعویٰ کیا کہ ایران کو اس تنازع میں بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کی عسکری صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ انہوں نے کہا،”وہ عظیم لوگ اور سچے محب وطن تھے، ہم نے آج رات ایک بار پھر ایران پر بھرپور حملہ کیا۔”ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارروائیاں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کی گئیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران تقریباً اپنی تمام فوجی صلاحیت کھو چکا ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس اب صرف چند میزائل، محدود تعداد میں ڈرون اور معمولی پیداواری صلاحیت باقی رہ گئی ہے، جو زیادہ مؤثر نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا،”ہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں، ایران کسی چیز پر قابض نہیں، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔”دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو دنیا پر دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
فلپائن روانگی سے قبل، جہاں وہ آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایران یا وہاں کے بعض عناصر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرکے اسے عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا، تاہم دیگر ممالک کو بھی اس ذمہ داری میں شریک ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے سازوسامان یا مالی تعاون فراہم کرنا چاہیے۔
سفارتی حل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن یہ عمل حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے اور ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کی ایران مکمل پابندی کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت(ایم او یو)کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا رہا تو ایسے کسی بھی معاہدے کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ نے ماضی میں بھی ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار رہے گا۔

