تل ابیب — اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ کی پٹی میں قائم کیے گئے سکیورٹی زونز میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، کیونکہ ان کا مقصد اسرائیلی سرحدوں اور سرحدی آبادیوں کو سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ مؤقف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ بدھ کی شب ہونے والی گفتگو میں اختیار کیا۔ وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کاٹز نے شام، لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے کہا،”ہم نے کبھی امریکہ سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ ہماری سرحدوں پر ہماری جگہ کارروائی کرے۔”ٹرمپ کی فوجی انخلا کی تجویز
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے شام اور لبنان سے اسرائیلی فوج واپس بلانے کی تجویز دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیئس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ شام میں اسرائیلی فوج کی موجودگی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا،”شامی حکومت آپ کو وہاں نہیں چاہتی۔”شام میں اسرائیلی کارروائیاں
دسمبر2024میں سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں قائم بفر زون میں اپنی فوج تعینات کر دی تھی۔
اس کے بعد اسرائیلی فوج نے شام کے مختلف علاقوں میں متعدد فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں بھی کیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شام کے جنوبی حصے میں ایک غیر فوجی بفر زون قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
لبنان میں بھی فوجی موجودگی برقرار
اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان میں بھی تقریباً10کلومیٹر تک پھیلے ایک سکیورٹی زون میں تعینات ہے۔
اگرچہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے مارچ میں اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان فوجی جھڑپیں بڑھ گئیں۔
روم میں مذاکرات کا پانچواں دور
اسرائیلی اور لبنانی مذاکرات کاروں نے بدھ کے روز روم میں امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات کا پانچواں دور مکمل کیا۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اسرائیل جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون سے باہر واقع دو علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے پر غور کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اہم سکیورٹی زونز برقرار رکھے جائیں گے۔

