امريكي وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران”معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے”۔ انھوں نے دھمکی دی کہ وہ”اس کی قیمت چکائے گا”۔ روبیو نے یہ موقف اپنایا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی شقوں کی پابندی کی، جبکہ تہران بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود معاہدوں سے انحراف کرتا رہا ہے۔
روبیو نے آج جمعرات کے روز”آسیان”کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ ایران جو قیمت چکائے گا وہ ہر رات اس وقت تک بڑھتی جائے گی جب تک وہ اپنے ہوش میں نہیں آ جاتا۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روبیو نے ایران کے طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ”وہ معاہدے کرتے ہیں اور پھر تقریباً فوراً ہی انہیں توڑ دیتے ہیں، یا ان کی شقوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، معاہدے کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے”۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا”لہٰذا وہ اب اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔ اور شاید اگلے چند دنوں میں جب انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے تو وہ اپنی رائے بدل لیں”۔
اسی سلسلے میں امريكي وزیر خارجہ نے ذکر کیا کہ ایران نے یمن میں حوثیوں کو دھوکا دیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ حوثی حملے روک دیں گے۔ نیز روبیو نے واضح کیا کہ جب حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی نقل و حرکت پر حملہ کیا تو ایران کی جانب سے انہیں”ورغلایا گیا”تھا۔
روبیو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ”حوثی، کافی حد تک، سمجھ دار تھے اور پورے تنازع کے دوران اس سے دور رہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب انہیں سعودی عرب اور اس کے جہازوں کو نشانہ بنا کر اس میں ورغلایا گیا ہے…مجھے امید ہے کہ وہ تناؤ میں کمی لائیں گے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں، صراحت کے ساتھ، کہ ایرانیوں نے حوثیوں کو دھوکا دیا اور انہیں اس معاملے میں دھکیل دیا”۔
اس کے علاوہ روبیو نے اعلان کیا کہ سعودی عرب ایک پُر امن ایٹمی پروگرام تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا”سعودی عرب ایک پُر امن ایٹمی پروگرام(تیار کرنے)کی کوشش کر رہا ہے”۔
امريكي وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان شراکت داری میں ایسی ضمانتیں شامل ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو روکیں گی۔
یوکرینی معاملے کے حوالے سے روبیو نے یوکرین میں جنگ کے بارے میں ایک قابل قبول معاہدے کے لیے نئی تجاویز تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنی بات کے دوران امريكي وزیر خارجہ نے امريكي چینی تعلقات کا بھی تذکرہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایشیا کے علاقے میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کی قیمت پر نہیں۔
روبیو نے کہا”ہم یہاں موجود ہیں، اور اس علاقے میں ہمارا واقعی وجود ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کو نہیں چھوڑیں گے…ہمیں چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں(امریکہ اور چین)ہیں…اور ان کے پاس سب سے بڑی افواج ہیں اور وہ دو ایٹمی طاقتیں ہیں، ہمیں چین کے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے اور انہیں جہاں تک ممکن ہو مثبت ہونا چاہیے، لیکن خطے میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی قیمت پر نہیں”۔

