امریکی ایوانِ نمائندگان نے1.15ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق یہ بل212کے مقابلے میں216ووٹوں سے منظور ہوا۔ بجٹ میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
بل کی حمایت ریپبلکن اراکین کی اکثریت اور6ڈیموکریٹس نے کی۔ اس کے تحت امریکی وزیرِ دفاع پینٹاگون کے ایگزیکٹو ایجنٹ کی نامزدگی کریں گے۔
دوسری جانب کانگریس کے رکن تھامس میسی نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو اسرائیل کے ساتھ ضم نہیں کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر کانگریس سے تقریباً87ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کی تھی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی فنڈز مختص کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اب تک37.5ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جس میں30ستمبر تک کے متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکی فوج پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے، دفاعی بجٹ میں کمی ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پینٹاگون کو مکمل فنڈنگ کی ضرورت ہے۔

