• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » اسرائیل کی ایلات۔اشکلون آئل پائپ لائن دوبارہ توجہ کا مرکز، خلیجی تیل، سعودی عرب اور ابراہام معاہدوں کے مستقبل پر نئی بحث
اسرائیل

اسرائیل کی ایلات۔اشکلون آئل پائپ لائن دوبارہ توجہ کا مرکز، خلیجی تیل، سعودی عرب اور ابراہام معاہدوں کے مستقبل پر نئی بحث

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 4, 2026Updated:اگست 10, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تل ابیب⁦:⁩مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خطرات کے تناظر میں اسرائیل کی تاریخی ایلات۔اشکلون آئل پائپ لائن ایک بار پھر علاقائی توانائی اور سفارتی مباحث کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ اسرائیلی حکام اس پائپ لائن کو خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے خام تیل کو یورپی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ایک متبادل زمینی راہداری کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے غیر محفوظ سمندری راستوں سے بچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس تجویز نے نہ صرف خطے میں توانائی کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے، یعنی ابراہم معاہدوں میں سعودی شمولیت، کی راہ ہموار کر سکتا ہے یا نہیں۔

تاریخی پس منظر

ایلات۔اشکلون پائپ لائن، جسے ٹرانس اسرائیل پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے، تقریباً⁦254⁩کلومیٹر طویل اور⁦42⁩انچ قطر کی پائپ لائن ہے جو بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ایلات کو بحیرہ روم کے ساحلی شہر اشکلون سے ملاتی ہے۔

یہ منصوبہ⁦1960⁩کی دہائی کے اواخر میں اُس وقت کے شاہِ ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ تعاون کے نتیجے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایرانی خام تیل کو ایلات کے راستے اسرائیل سے گزار کر یورپ بھیجنا تھا تاکہ نہر سویز پر انحصار کم کیا جا سکے۔⁦1979⁩کے ایرانی انقلاب کے بعد اسرائیل نے اس پائپ لائن کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا اور اب یہ ریاستی ادارے یورپ ایشیا پائپ لائن کمپنی⁦(EAPC)⁩کے زیر انتظام ہے۔

یہ پائپ لائن یومیہ تقریباً⁦12⁩لاکھ بیرل تیل ایلات سے اشکلون منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ مخالف سمت میں تقریباً⁦4⁩لاکھ بیرل یومیہ کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے ساتھ وسیع ذخیرہ گاہیں اور آئل ٹرمینلز بھی قائم ہیں۔

ماضی میں اس کا استعمال محدود رہا کیونکہ ایلات کے مرجانی چٹانوں اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات موجود رہے ہیں۔⁦2014⁩میں ایورونا نیچر ریزرو میں تیل رسنے کے واقعے کے بعد ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مخالفت مزید شدت اختیار کر گئی تھی۔

ابراہم معاہدوں کے بعد پہلی کوشش

2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے بعد یورپ ایشیا پائپ لائن کمپنی نے اماراتی خام تیل کو اسی راستے یورپ منتقل کرنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

اس منصوبے کو نہر سویز کے مقابلے میں کم لاگت اور کم وقت کا متبادل قرار دیا گیا، تاہم اسرائیل کے اندر ماحولیاتی خدشات اور ایلات بندرگاہ کی آپریشنل حدود کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

2026 میں منصوبہ دوبارہ زیر بحث

جولائی⁦2026⁩میں اسرائیل کے وزیر توانائی و انفراسٹرکچر ایلی کوہن نے اس منصوبے کو ایک نئے اور زیادہ وسیع تصور کے ساتھ دوبارہ پیش کیا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک اپنی تیل برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایک طرف ایران اور دوسری طرف حوثی حملے ان راستوں کو مسلسل خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

ایلی کوہن کے مطابق اگر سعودی عرب سے ایلات تک تقریباً⁦700⁩کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن تعمیر کر دی جائے تو سعودی خام تیل ایلات پہنچنے کے بعد موجودہ ایلات۔اشکلون پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم تک منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں سے اسے بحری جہازوں کے ذریعے براہِ راست یورپ بھیجا جا سکے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس تجویز پر امریکی حکام سے بھی بات چیت کی گئی ہے اور اسے خطے کی توانائی سلامتی کے لیے ایک مؤثر حل قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب کئی برسوں سے اپنی برآمدی راہداریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے پر انحصار کم ہو۔

سعودی عرب کے پاس پہلے ہی مشرق۔مغرب پائپ لائن موجود ہے جو خلیج سے تیل کو ینبع تک منتقل کرتی ہے، تاہم بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کے باعث یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔

اسرائیلی تجویز کے مطابق ایلات اور اشکلون کے ذریعے بحیرہ روم تک رسائی سعودی عرب کو یورپی منڈیوں تک نسبتاً مختصر اور محفوظ راستہ فراہم کر سکتی ہے، خصوصاً اگر خطے میں کسی بڑے بحران کے دوران سمندری گزرگاہیں متاثر ہوں۔

ماہرین کے مطابق ایسے مشترکہ انفراسٹرکچر منصوبے صرف معاشی فوائد تک محدود نہیں رہتے بلکہ متعلقہ ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی وابستگی، سرمایہ کاری، آمدنی اور سکیورٹی تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

ابراہم معاہدوں سے تعلق

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منصوبہ بظاہر توانائی کے شعبے سے متعلق ہے، لیکن اس کے سفارتی اثرات بھی انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔

ابراہم معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، تاہم سعودی عرب اب تک واضح طور پر کہتا آیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کا انحصار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب حقیقی پیش رفت پر ہے۔

ایلات۔اشکلون منصوبے میں سعودی شمولیت، خواہ صرف تجارتی بنیادوں پر ہی کیوں نہ ہو، عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ عملی تعاون یا غیر رسمی تعلقات کی ایک اہم شکل تصور کی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی حلقوں کا خیال ہے کہ توانائی کے شعبے میں مشترکہ مفادات مستقبل میں سیاسی تعلقات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق موجودہ علاقائی حالات، غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث اس امکان کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوگا۔

ماحولیاتی رکاوٹیں

اس منصوبے کو اسرائیل کے اندر بھی سخت ماحولیاتی مخالفت کا سامنا ہے۔

ایلات کی خلیج اپنی نایاب مرجانی چٹانوں، سمندری حیات اور سیاحتی اہمیت کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔ ماحولیاتی تنظیمیں خبردار کرتی رہی ہیں کہ تیل بردار جہازوں کی تعداد میں اضافہ یا کسی بھی قسم کا رساؤ اس حساس ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی وجہ سے مستقبل میں اس منصوبے پر پیش رفت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات، جدید انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی تحفظ کے نئے معیارات متعارف کرانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

مستقبل کے امکانات

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ایلات۔اشکلون پائپ لائن مکمل طور پر فعال ہے اور اسے بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے درمیان زمینی راہداری کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کسی نئی تعمیر کی ضرورت نہیں۔ اصل چیلنج سعودی عرب سے ایلات تک نئی پائپ لائن کی تعمیر اور اس سے بھی بڑھ کر دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اتفاقِ رائے ہے۔

تاحال سعودی عرب کی جانب سے اس منصوبے پر کسی باضابطہ منظوری، مذاکرات یا دلچسپی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب ریاض اپنی موجودہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کی استعداد بڑھانے اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ متبادل منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور توانائی کی ترسیل کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں تو ایلات۔اشکلون پائپ لائن دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی توانائی اور سفارت کاری کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار علاقائی سیاست، سعودی۔اسرائیل تعلقات اور فلسطینی تنازع میں پیش رفت پر ہوگا۔

آبنائے ہرمز ابراہیم معاہدے اسرائیل ایران ایلات اشکلون پائپ لائن ایلی کوہن بحیرہ احمر توانائی سفارت کاری تیل کی سلامتی خلیجی ممالک سعودی عرب یورپ ایشیا پائپ لائن کمپنی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleواشنگٹن کا سعودی عرب کے ساتھ بڑا داؤ
Next Article فیفا ورلڈ کپ⁦:⁩میچ فکسنگ ،سازش ہے یا سسٹم؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.