واشنگٹن،8اگست2026:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی امن معاہدے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ٹرمپ انتظامیہ نے ’’ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیریٹی‘‘ (TRIPP) کو عملی شکل دینے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایک سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان کی میزبانی کی تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے ایک تاریخی مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔
روبیو کے مطابق اس اعلامیے نے جنوبی قفقاز میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع کے خاتمے کی بنیاد رکھی اور ’’ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیریٹی‘‘ یعنیTRIPPکے نام سے ایک نئے علاقائی رابطہ منصوبے کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ12ماہ کے دوران امریکہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر اس امن وعدے کو عملی پیش رفت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ان کے مطابقTRIPPایک کثیرالمقاصد ٹرانزٹ روٹ ہے، جو ریلوے، سڑکوں، توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے میں مدد دے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس منصوبے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ آرمینیا میں ریلوے کے لیے انجینئرنگ سروے جاری ہیں، جبکہ آذربائیجان آرمینیا سے رابطے کے لیے ہائی وے اور ریلوے کی تعمیر تقریباً مکمل کرنے کے مرحلے میں ہے۔
روبیو نے کہا کہ امن نے امریکہ، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پیدا کیے ہیں، جس سے تینوں ممالک کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ٹرانس کیسپین انٹرپرائز فنڈ‘‘ بھی اب باقاعدہ طور پر کام کر رہا ہے۔ فنڈ کے لیے نئے منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قیادت میں201ملین ڈالر کی امریکی حکومتی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے، جس کا مقصد جنوبی قفقاز اور وسطی ایشیا میں ٹرانس کیسپین تجارتی راستے، جسے ’’مڈل کوریڈور‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
روبیو کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بنیادی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ امن اور خوشحالی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے بقولTRIPPمحض ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ٹرانس کیسپین تجارتی راستے کا ایک اہم رابطہ ہے، جو امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے تجارتی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی مثال بھی بن سکتا ہے کہ طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کے بعد اقتصادی تعاون کس طرح امن کو مستحکم اور پائیدار بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر اس بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو گزشتہ ایک سال کے دوران دکھائی گئی جرات اور دوراندیشی پر مبارکباد دی اور کہا کہ امریکہ جنوبی قفقاز میں پائیدار اور دیرپا امن کی جانب مزید پیش رفت کا منتظر ہے۔

