• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » میساچوسٹس میں ایک مذہب کے لیے ریاستی کمیشن مذہبی آزادی سے لاحق خطرات
امریکہ

میساچوسٹس میں ایک مذہب کے لیے ریاستی کمیشن مذہبی آزادی سے لاحق خطرات

تحریر: فرحانہ خورشید
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 10, 2026Updated:اگست 10, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

ایک مسلم امریکی خاتون کی حیثیت سے میں ریاستی سینیٹ کے بل⁦S.2134⁩کی مخالفت اس لیے نہیں کرتی کہ میں مذہبی آزادی کے خلاف ہوں، بلکہ اس لیے کرتی ہوں کہ میں مذہبی آزادی کو بے حد عزیز سمجھتی ہوں۔ امریکہ میں ہر مذہب کے لیے سب سے مضبوط تحفظ یہ اصول ہے کہ حکومت کسی مذہب کو نہ ترجیح دے اور نہ کسی مذہب کے خلاف امتیاز روا رکھے۔ یہی اصول ایک ہی آئین کے تحت مختلف عقائد رکھنے والے لوگوں کو آزادانہ طور پر اپنی مذہبی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

امریکی آئین کی پہلی ترمیم ایک غیر معمولی وعدے سے شروع ہوتی ہے⁦:⁩حکومت نہ تو کسی مذہب کو سرکاری حیثیت دے گی اور نہ ہی اس کے آزادانہ عمل میں مداخلت کرے گی۔ یہ دونوں تحفظات ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ مذہبی آزادی اسی وقت پائیدار رہتی ہے جب ریاست مذہب کے معاملے میں غیر جانب دار رہے۔ لیکن جب حکومت کسی مخصوص مذہب کی بنیاد پر سرکاری ادارے قائم کرنا شروع کرتی ہے، چاہے اس کے مقاصد کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں، ریاستی غیر جانب داری بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔

ریاستی سینیٹر جیمی ایلڈرج کی جانب سے پیش کیا گیا سینیٹ بل نمبر⁦2134⁩، جس کا عنوان ’’کامن ویلتھ میں امریکی مسلمانوں کے شہری حقوق اور شمولیت کے فروغ کا ایکٹ‘‘ ہے، امریکی مسلمانوں کے شہری حقوق، سماجی شمولیت اور شہری سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دینے کے لیے⁦11⁩رکنی مستقل ریاستی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

اس بل کے مقاصد بظاہر نیک نیتی پر مبنی ہیں۔ تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا آئینی سوال کہیں زیادہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے⁦:⁩کیا ریاست کو کسی ایک مذہب کی بنیاد پر مستقل سرکاری ادارہ قائم کرنا چاہیے؟

بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ریاستی حکومت میں مسلمانوں کی آواز سنی جائے۔ لیکن مسلمان پہلے ہی وہی آئینی حقوق رکھتے ہیں جو دوسرے تمام امریکی شہریوں کو حاصل ہیں۔ وہ ووٹ دے سکتے ہیں، اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، حکومت سے مطالبات کر سکتے ہیں، وکالتی اور سماجی تنظیمیں قائم کر سکتے ہیں، عوامی سطح پر اظہارِ خیال کر سکتے ہیں اور ملک کی شہری زندگی میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں۔

حکومت کو مسلمانوں کی آواز سننے کے لیے مستقل مذہبی کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے اسے کیتھولک، یہودی، ہندو، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں یا ایونجیلیکل مسیحیوں کے لیے الگ مستقل مذہبی کمیشن قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔

ایک بل سے کہیں بڑا آئینی سوال

اصل مسئلہ صرف اس ایک بل تک محدود نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا میساچوسٹس ایسی نظیر قائم کرے گا جس کے تحت ریاست کو انفرادی مذاہب کی نمائندگی کرنے والے سرکاری ادارے قائم کرنے کا اختیار حاصل ہو؟

اگر ایک مذہب کو مستقل ریاستی کمیشن ملتا ہے تو پھر کون سا اصول دوسرے مذاہب کے لیے ایسے ہی ادارے کے قیام کو روکے گا؟

یا تو ہر مذہبی برادری اپنے لیے سرکاری طور پر تسلیم شدہ ادارے کا مطالبہ کرے گی، جس سے چرچ اور ریاست کے درمیان آئینی حد مزید دھندلی ہوگی، یا پھر حکومت خود فیصلہ کرے گی کہ کون سے مذاہب ایسے سرکاری اعتراف کے مستحق ہیں اور کون سے نہیں۔

ان دونوں میں سے کوئی بھی نتیجہ مذہبی آزادی کو مضبوط نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں صورتیں مساوی سلوک کے اصول کو کمزور کرتی ہیں۔

ایک ذاتی تشویش

میری تشویش محض آئینی یا نظریاتی نہیں، بلکہ ذاتی بھی ہے۔

ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے میں جانتی ہوں کہ اسلام کوئی یکساں یا یک رنگ مذہبی روایت نہیں۔ مسلمان مذہبی عقائد، عبادات، خاندانی قوانین، خواتین کے کردار اور شریعت کی تشریح سمیت متعدد معاملات پر ایک دوسرے سے گہرے اختلافات رکھتے ہیں۔

مسلمانوں کا کوئی ایک متفقہ نقطۂ نظر نہیں ہے۔ چنانچہ حکومت کی جانب سے قائم کیا جانے والا کوئی کمیشن میساچوسٹس کی مسلم برادریوں کے اندر موجود اس تنوع کی حقیقی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی نمائندگی تو بہت دور کی بات ہے۔

یہ بات اس لیے اہم ہے کہ ریاستی کمیشن صرف مشورے نہیں دیتے بلکہ انہیں ایک خاص سطح کی سرکاری حیثیت اور قانونی جواز بھی حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کے ذریعے قائم کیا گیا ادارہ لازماً سرکاری اختیار کا تاثر پیدا کرتا ہے۔

بہت سے مسلمان، جن میں خواتین، اصلاح پسند سوچ رکھنے والے مسلمان اور سیکولر مسلمان بھی شامل ہیں، بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ آیا ایسا کمیشن واقعی ان کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے یا اسلام کی کسی ایک تشریح کو دوسری تشریحات پر سرکاری طور پر فوقیت دیتا ہے۔

حکومت کو کبھی بھی اس مقام پر نہیں آنا چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کسی مذہب کی ’’حقیقی‘‘ نمائندگی کون کرتا ہے۔ یہ ایک مذہبی اور فکری سوال ہے، حکومتی سوال نہیں۔

مذہبی علامت سے آگے کا معاملہ

اس بل کے اثرات محض علامتی نہیں ہوں گے۔ تعلیم، خاندانی معاملات، مذہبی سہولتوں یا شہری حقوق سے متعلق عوامی پالیسی مستقبل میں کسی مخصوص مذہب کی بنیاد پر قائم ادارے سے مشاورت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تشکیل پانے لگ سکتی ہے۔

اگرچہ ایسے کمیشن کی سفارشات قانونی طور پر لازم نہ بھی ہوں، اس کا وجود ہی ایک مذہب کو ریاستی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں ایک رسمی مقام فراہم کرتا ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں۔

یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث آئین میں ریاست کی جانب سے مذہب کے قیام یا سرکاری سرپرستی کے خلاف اصول شامل کیا گیا۔

امریکہ کے بانیوں نے یہ سمجھا تھا کہ مذہب اس وقت زیادہ مضبوط اور آزاد رہتا ہے جب وہ ریاستی طاقت سے آزاد ہو، اور حکومت اس وقت بہتر انداز میں کام کرتی ہے جب وہ مذہبی معاملات میں الجھنے سے گریز کرے۔

تاریخ بار بار یہ دکھاتی ہے کہ جب حکومتیں مذہبی نمائندگی کو منظم، سرکاری یا باقاعدہ طور پر تسلیم کرنا شروع کرتی ہیں تو بالآخر مذہب اور حکومت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

میساچوسٹس کو، شاید کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ، اس تاریخی سبق کو سمجھنا چاہیے۔ اس ریاست کی نوآبادیاتی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مذہب میں حکومتی مداخلت اکثر آزادی کے بجائے اخراج اور امتیاز کو جنم دیتی ہے۔

بعد کی نسلوں میں امریکہ نے اس غلطی کی اصلاح مساوی تحفظ اور مذہبی غیر جانب داری کو آئینی اصولوں کے طور پر قبول کرکے کی۔ آج ہمیں ان اصولوں کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔

یہ اسلام کے بارے میں نہیں، ریاست کے بارے میں ہے

یہ بحث اسلام کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس سوال کے بارے میں بھی نہیں کہ کیا مسلمانوں کو احترام اور تحفظ ملنا چاہیے۔ یقیناً ملنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ہر دوسری مذہبی برادری کو ملنا چاہیے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو کسی بھی مذہب کی بنیاد پر مستقل سرکاری ادارے قائم کرنے چاہییں؟

ایک مسلم امریکی کی حیثیت سے میں یہ نہیں چاہتی کہ میری ریاست میرے مذہب کو سرکاری طور پر بلند کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ ریاست میرے مذہب کو اپنے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھے۔

وہی آئین جو مجھے حجاب پہننے یا نہ پہننے، مسجد جانے اور اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کا حق دیتا ہے، حکومت کو مذہب کی سرکاری توثیق کرنے سے بھی روکتا ہے۔ یہ تحفظات کسی ایک مذہب کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہر امریکی کے برابر حقوق ہیں۔

میساچوسٹس کو سینیٹ بل⁦S.2134⁩مسترد کر دینا چاہیے۔

مذہبی آزادی کی طاقت کبھی بھی مخصوص مذاہب کے لیے سرکاری ادارے قائم کرنے پر منحصر نہیں رہی۔ اس کی اصل طاقت اس اصول میں ہے کہ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے اور ریاست ہر مذہب کے معاملے میں غیر جانب دار رہے۔

یہ اصول صدیوں سے میساچوسٹس اور پورے امریکہ کی آزادیِ مذہب کی بنیاد رہا ہے۔ ہمیں اسے کمزور کرنے کے بجائے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔

فرحانہ خورشید، صدر⁦NEBAF⁩اور امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل⁦(AMMWEC)⁩کی بورڈ ممبر ہیں۔⁦AMMWEC⁩خواتین کی قیادت کو بااختیار بنانے اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

اصل مضمون: ViewsNewsNow.com

AMMWEC آئینی حقوق آزادی مذہب امریکہ امریکی آئین امریکی مسلمان بین المذاہب ہم آہنگی پہلی ترمیم چرچ اور ریاست ریاستی سینیٹ بل S.2134 شہری حقوق فرحانہ خورشید مذہب اور ریاست مذہبی آزادی مذہبی غیر جانب داری مسلم امریکی مسلم خواتین میساچوسٹس
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleایک سال میں امن سے اقتصادی شراکت داری تک،⁦TRIPP⁩منصوبے پر اہم پیش رفت
Next Article قومی اقلیتی دن، صدر اور وزیراعظم کا مذہبی آزادی پر زور
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.