ایک مسلم امریکی خاتون کی حیثیت سے میں ریاستی سینیٹ کے بلS.2134کی مخالفت اس لیے نہیں کرتی کہ میں مذہبی آزادی کے خلاف ہوں، بلکہ اس لیے کرتی ہوں کہ میں مذہبی آزادی کو بے حد عزیز سمجھتی ہوں۔ امریکہ میں ہر مذہب کے لیے سب سے مضبوط تحفظ یہ اصول ہے کہ حکومت کسی مذہب کو نہ ترجیح دے اور نہ کسی مذہب کے خلاف امتیاز روا رکھے۔ یہی اصول ایک ہی آئین کے تحت مختلف عقائد رکھنے والے لوگوں کو آزادانہ طور پر اپنی مذہبی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
امریکی آئین کی پہلی ترمیم ایک غیر معمولی وعدے سے شروع ہوتی ہے:حکومت نہ تو کسی مذہب کو سرکاری حیثیت دے گی اور نہ ہی اس کے آزادانہ عمل میں مداخلت کرے گی۔ یہ دونوں تحفظات ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ مذہبی آزادی اسی وقت پائیدار رہتی ہے جب ریاست مذہب کے معاملے میں غیر جانب دار رہے۔ لیکن جب حکومت کسی مخصوص مذہب کی بنیاد پر سرکاری ادارے قائم کرنا شروع کرتی ہے، چاہے اس کے مقاصد کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں، ریاستی غیر جانب داری بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔
ریاستی سینیٹر جیمی ایلڈرج کی جانب سے پیش کیا گیا سینیٹ بل نمبر2134، جس کا عنوان ’’کامن ویلتھ میں امریکی مسلمانوں کے شہری حقوق اور شمولیت کے فروغ کا ایکٹ‘‘ ہے، امریکی مسلمانوں کے شہری حقوق، سماجی شمولیت اور شہری سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دینے کے لیے11رکنی مستقل ریاستی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔
اس بل کے مقاصد بظاہر نیک نیتی پر مبنی ہیں۔ تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا آئینی سوال کہیں زیادہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے:کیا ریاست کو کسی ایک مذہب کی بنیاد پر مستقل سرکاری ادارہ قائم کرنا چاہیے؟
بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ریاستی حکومت میں مسلمانوں کی آواز سنی جائے۔ لیکن مسلمان پہلے ہی وہی آئینی حقوق رکھتے ہیں جو دوسرے تمام امریکی شہریوں کو حاصل ہیں۔ وہ ووٹ دے سکتے ہیں، اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، حکومت سے مطالبات کر سکتے ہیں، وکالتی اور سماجی تنظیمیں قائم کر سکتے ہیں، عوامی سطح پر اظہارِ خیال کر سکتے ہیں اور ملک کی شہری زندگی میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں۔
حکومت کو مسلمانوں کی آواز سننے کے لیے مستقل مذہبی کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے اسے کیتھولک، یہودی، ہندو، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں یا ایونجیلیکل مسیحیوں کے لیے الگ مستقل مذہبی کمیشن قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔
ایک بل سے کہیں بڑا آئینی سوال
اصل مسئلہ صرف اس ایک بل تک محدود نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا میساچوسٹس ایسی نظیر قائم کرے گا جس کے تحت ریاست کو انفرادی مذاہب کی نمائندگی کرنے والے سرکاری ادارے قائم کرنے کا اختیار حاصل ہو؟
اگر ایک مذہب کو مستقل ریاستی کمیشن ملتا ہے تو پھر کون سا اصول دوسرے مذاہب کے لیے ایسے ہی ادارے کے قیام کو روکے گا؟
یا تو ہر مذہبی برادری اپنے لیے سرکاری طور پر تسلیم شدہ ادارے کا مطالبہ کرے گی، جس سے چرچ اور ریاست کے درمیان آئینی حد مزید دھندلی ہوگی، یا پھر حکومت خود فیصلہ کرے گی کہ کون سے مذاہب ایسے سرکاری اعتراف کے مستحق ہیں اور کون سے نہیں۔
ان دونوں میں سے کوئی بھی نتیجہ مذہبی آزادی کو مضبوط نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں صورتیں مساوی سلوک کے اصول کو کمزور کرتی ہیں۔
ایک ذاتی تشویش
میری تشویش محض آئینی یا نظریاتی نہیں، بلکہ ذاتی بھی ہے۔
ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے میں جانتی ہوں کہ اسلام کوئی یکساں یا یک رنگ مذہبی روایت نہیں۔ مسلمان مذہبی عقائد، عبادات، خاندانی قوانین، خواتین کے کردار اور شریعت کی تشریح سمیت متعدد معاملات پر ایک دوسرے سے گہرے اختلافات رکھتے ہیں۔
مسلمانوں کا کوئی ایک متفقہ نقطۂ نظر نہیں ہے۔ چنانچہ حکومت کی جانب سے قائم کیا جانے والا کوئی کمیشن میساچوسٹس کی مسلم برادریوں کے اندر موجود اس تنوع کی حقیقی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی نمائندگی تو بہت دور کی بات ہے۔
یہ بات اس لیے اہم ہے کہ ریاستی کمیشن صرف مشورے نہیں دیتے بلکہ انہیں ایک خاص سطح کی سرکاری حیثیت اور قانونی جواز بھی حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کے ذریعے قائم کیا گیا ادارہ لازماً سرکاری اختیار کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
بہت سے مسلمان، جن میں خواتین، اصلاح پسند سوچ رکھنے والے مسلمان اور سیکولر مسلمان بھی شامل ہیں، بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ آیا ایسا کمیشن واقعی ان کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے یا اسلام کی کسی ایک تشریح کو دوسری تشریحات پر سرکاری طور پر فوقیت دیتا ہے۔
حکومت کو کبھی بھی اس مقام پر نہیں آنا چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کسی مذہب کی ’’حقیقی‘‘ نمائندگی کون کرتا ہے۔ یہ ایک مذہبی اور فکری سوال ہے، حکومتی سوال نہیں۔
مذہبی علامت سے آگے کا معاملہ
اس بل کے اثرات محض علامتی نہیں ہوں گے۔ تعلیم، خاندانی معاملات، مذہبی سہولتوں یا شہری حقوق سے متعلق عوامی پالیسی مستقبل میں کسی مخصوص مذہب کی بنیاد پر قائم ادارے سے مشاورت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تشکیل پانے لگ سکتی ہے۔
اگرچہ ایسے کمیشن کی سفارشات قانونی طور پر لازم نہ بھی ہوں، اس کا وجود ہی ایک مذہب کو ریاستی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں ایک رسمی مقام فراہم کرتا ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں۔
یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث آئین میں ریاست کی جانب سے مذہب کے قیام یا سرکاری سرپرستی کے خلاف اصول شامل کیا گیا۔
امریکہ کے بانیوں نے یہ سمجھا تھا کہ مذہب اس وقت زیادہ مضبوط اور آزاد رہتا ہے جب وہ ریاستی طاقت سے آزاد ہو، اور حکومت اس وقت بہتر انداز میں کام کرتی ہے جب وہ مذہبی معاملات میں الجھنے سے گریز کرے۔
تاریخ بار بار یہ دکھاتی ہے کہ جب حکومتیں مذہبی نمائندگی کو منظم، سرکاری یا باقاعدہ طور پر تسلیم کرنا شروع کرتی ہیں تو بالآخر مذہب اور حکومت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
میساچوسٹس کو، شاید کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ، اس تاریخی سبق کو سمجھنا چاہیے۔ اس ریاست کی نوآبادیاتی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مذہب میں حکومتی مداخلت اکثر آزادی کے بجائے اخراج اور امتیاز کو جنم دیتی ہے۔
بعد کی نسلوں میں امریکہ نے اس غلطی کی اصلاح مساوی تحفظ اور مذہبی غیر جانب داری کو آئینی اصولوں کے طور پر قبول کرکے کی۔ آج ہمیں ان اصولوں کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔
یہ اسلام کے بارے میں نہیں، ریاست کے بارے میں ہے
یہ بحث اسلام کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس سوال کے بارے میں بھی نہیں کہ کیا مسلمانوں کو احترام اور تحفظ ملنا چاہیے۔ یقیناً ملنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ہر دوسری مذہبی برادری کو ملنا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو کسی بھی مذہب کی بنیاد پر مستقل سرکاری ادارے قائم کرنے چاہییں؟
ایک مسلم امریکی کی حیثیت سے میں یہ نہیں چاہتی کہ میری ریاست میرے مذہب کو سرکاری طور پر بلند کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ ریاست میرے مذہب کو اپنے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھے۔
وہی آئین جو مجھے حجاب پہننے یا نہ پہننے، مسجد جانے اور اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کا حق دیتا ہے، حکومت کو مذہب کی سرکاری توثیق کرنے سے بھی روکتا ہے۔ یہ تحفظات کسی ایک مذہب کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہر امریکی کے برابر حقوق ہیں۔
میساچوسٹس کو سینیٹ بلS.2134مسترد کر دینا چاہیے۔
مذہبی آزادی کی طاقت کبھی بھی مخصوص مذاہب کے لیے سرکاری ادارے قائم کرنے پر منحصر نہیں رہی۔ اس کی اصل طاقت اس اصول میں ہے کہ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے اور ریاست ہر مذہب کے معاملے میں غیر جانب دار رہے۔
یہ اصول صدیوں سے میساچوسٹس اور پورے امریکہ کی آزادیِ مذہب کی بنیاد رہا ہے۔ ہمیں اسے کمزور کرنے کے بجائے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔

فرحانہ خورشید، صدرNEBAFاور امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل(AMMWEC)کی بورڈ ممبر ہیں۔AMMWECخواتین کی قیادت کو بااختیار بنانے اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔
اصل مضمون: ViewsNewsNow.com

