واشنگٹن:اسرائیل لبنان مذاکرات کا نیا دور ستمبر میں متوقع ہے، ایک امریکی عہدیدار کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور ستمبر کے آغاز میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
امریکی عہدیدار نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے واشنگٹن کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس راستے میں درپیش مشکلات سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران لبنان اور اسرائیل نے سرحدی علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی ذمہ داری کسی تیسرے فریق کو سونپنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کی سرحد سے متعلق سکیورٹی امور کے تناظر میں زیرِ بحث آیا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نے لبنانی وفد کے ساتھ الگ سے بھی مذاکرات کیے، جن میں لبنان کی تعمیرِ نو کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تعمیرِ نو سے متعلق بات چیت کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا گیا ہے۔
امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ حزب اللہ اب بھی لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکراتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے نے پیر کی شب اطلاع دی تھی کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنے کا عمل دونوں جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مؤخر کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق لبنانی فریق نے مستقبل قریب میں مذاکرات کا نیا دور منعقد کرنے سے انکار کیا ہے۔ لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے ان علاقوں میں اپنی موجودگی میں توسیع کی ہے جہاں سے اسے پسپائی اختیار کرنا تھی۔
دوسری جانب اسرائیل نے لبنانی فوج کی سرگرمیوں کے حوالے سے امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ لبنانی فوج کی بعض نقل و حرکت حزب اللہ کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے6اگست کو روم میں امریکی سرپرستی میں براہِ راست مذاکرات کے ساتویں دور کا اختتام کیا تھا۔ مذاکرات میں26جون کو طے پانے والے ’’فریم ورک فارمولے‘‘ پر عمل درآمد سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
مذاکرات کے اس دور میں اسرائیلی فوج کی آئندہ پسپائی کے علاقوں کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاہم مذاکرات کا نیا دور ستمبر کے آغاز میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے یا اپنے ہتھیار چھوڑنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر رکھا ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل کو اب بھی اہم سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

