دمشق:شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے منگل کے روز ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔
بشار الاسد دسمبر2024میں باغی جنگجوؤں کے دمشق کے قریب پہنچنے کے بعد اپنے خاندان سمیت ماسکو فرار ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف فیصلہ شام کی عبوری حکومت کے دور میں سابق حکومت سے وابستہ شخصیات کے خلاف شروع کیے گئے مقدمات میں پہلا بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عبوری حکام نے رواں سال سابق حکومت کے بعض عہدیداروں کے خلاف موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں مقدمات کی کارروائی شروع کی تھی۔1965میں پیدا ہونے والے بشار الاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد2000میں شام کی صدارت سنبھالی تھی۔ ان کے دورِ حکومت کے ابتدائی برس عراق جنگ اور لبنان کے بحران سے متاثر رہے، تاہم ان کی حکمرانی کی سب سے نمایاں شناخت2011میں شروع ہونے والی شام کی خانہ جنگی بنی۔2011کی عرب بہار کے دوران شامی شہریوں نے جمہوری اصلاحات کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر احتجاج شروع کیا، جس کے خلاف حکومتی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا۔ احتجاجی تحریک بتدریج ایک تباہ کن خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی جس نے شام کو کئی برس تک شدید سیاسی اور انسانی بحران میں مبتلا رکھا۔
عدالت نے بشار الاسد کے دور کے ایک اہم عہدیدار عاطف نجیب کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ عاطف نجیب صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سربراہ رہے تھے، جہاں2011میں شام کی عوامی بغاوت نے جنم لیا تھا۔
عاطف نجیب بشار الاسد کے کزن بھی ہیں اور انہیں گزشتہ سال جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے انہیں قتل،15سال سے کم عمر بچوں کے دانستہ قتل اور ایسے تشدد کے الزامات میں مجرم قرار دیا جس کے نتیجے میں متاثرین کی موت واقع ہوئی۔
عدالت نے کہا کہ عاطف نجیب سے منسوب جرائم ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں اور اسی بنیاد پر انہیں ’’سخت ترین سزا‘‘ یعنی سزائے موت سنائی گئی ہے۔
بشار الاسد کی غیر موجودگی میں سنایا جانے والا یہ فیصلہ شام کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق حکمران خاندان اور ان کے دور کے اعلیٰ عہدیداروں کے احتساب کی کوششوں میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

