امریکہ ایران تنازع چھ ماہ کے قریب:آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا سخت مؤقف، ایران کا مسترد
واشنگٹن،15اگست 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ایران تنازع کے تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے اور امریکی فوجی و معاشی دباؤ کے باعث تہران پر دباؤ برقرار ہے۔ آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے تحت واشنگٹن کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت برقرار رکھنا اور امریکی و اتحادی مفادات کا تحفظ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران نے ماضی میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور علاقائی استحکام کے لیے خطرات پیدا کیے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی اور اقتصادی دباؤ کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر واضح مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے14اگست کو نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے بعد امریکہ جلد آبنائے ہرمز کو عملاً امریکی اختیار میں رکھنے کا اعلان کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد، جسے انہوں نے بری طرح شکست خوردہ قرار دیا، امریکہ ’’بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے‘‘ کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے موجودہ امریکی بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جہاز اس وقت تک آبنائے سے گزر نہیں سکتا جب تک امریکہ اسے اجازت نہ دے۔
امریکی حکام کے مطابق سینٹرل کمانڈ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دفاعی امور کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کی گردش کے ذریعے یہ کارروائیاں طویل مدت تک جاری رکھی جا سکتی ہیں۔
ایران کی جانب سے امریکی اقدامات اور آبنائے پر اختیار کے دعووں کو مسترد کیا گیا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں اس کی بحری موجودگی اور آپریشنل صلاحیت اسے اہم تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت
ایران کی جانب سے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا معاملہ بھی تازہ کشیدگی کا سبب بنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مطابق ایران نے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی(ADNOC)سے وابستہ دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور دونوں واقعات پر قابو پا لیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ان کارروائیوں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ سعودی عرب نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعات اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایران تجارتی بحری آمدورفت کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں مسلسل امریکی موجودگی اسی تناظر میں ضروری ہے۔
غیر معمولی معاشی دباؤ
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایسے معاشی اقدامات نافذ کرے گا جو ان کے بقول کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
مزید اقدامات جلد متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ امریکی حکمت عملی میں معاشی تنہائی کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایرانی حکومت کی عسکری اور علاقائی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی عوام کے لیے توانائی اور پٹرول کی قیمتوں کو قابلِ برداشت رکھنا بھی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے ساتھ امریکی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن سے متعلق رپورٹس مسترد
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض رپورٹس کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا‘‘ قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز پر دوبارہ فوج میں شامل ہونے کی شرح بلند ہے، سمندر میں گرنے والے ایک اہلکار کو فوری طور پر بچا لیا گیا اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔
یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی خطے میں متوقع آمد سے امریکی بحری موجودگی اور آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تبدیلی طے شدہ تعیناتی کے تسلسل کا حصہ ہے۔
تزویراتی برتری برقرار رکھنے کا امریکی دعویٰ
امریکی انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تزویراتی پہل واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچنے، معاشی دباؤ میں اضافے اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کے تسلسل کو صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کی اہم کامیابیاں قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے عالمی تجارت اور توانائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے دیا جائے گا۔
امریکی پالیسی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک تہران اپنے موجودہ علاقائی طرزِ عمل میں تبدیلی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ تاہم تنازع کا مستقبل سفارتی کوششوں، بحری صورتحال اور خطے میں طاقت کے توازن سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہے۔

