• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان
امریکہ

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان

آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ اور ایرانی نظام کے خلاف سخت اقدامات جاری
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 15, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

امریکہ ایران تنازع چھ ماہ کے قریب⁦:⁩آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا سخت مؤقف، ایران کا مسترد

واشنگٹن،⁦15⁩اگست 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ایران تنازع کے تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے اور امریکی فوجی و معاشی دباؤ کے باعث تہران پر دباؤ برقرار ہے۔ آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے تحت واشنگٹن کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت برقرار رکھنا اور امریکی و اتحادی مفادات کا تحفظ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران نے ماضی میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور علاقائی استحکام کے لیے خطرات پیدا کیے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی اور اقتصادی دباؤ کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر واضح مؤقف

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے⁦14⁩اگست کو نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے بعد امریکہ جلد آبنائے ہرمز کو عملاً امریکی اختیار میں رکھنے کا اعلان کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد، جسے انہوں نے بری طرح شکست خوردہ قرار دیا، امریکہ ’’بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے‘‘ کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے موجودہ امریکی بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جہاز اس وقت تک آبنائے سے گزر نہیں سکتا جب تک امریکہ اسے اجازت نہ دے۔

امریکی حکام کے مطابق سینٹرل کمانڈ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دفاعی امور کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کی گردش کے ذریعے یہ کارروائیاں طویل مدت تک جاری رکھی جا سکتی ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکی اقدامات اور آبنائے پر اختیار کے دعووں کو مسترد کیا گیا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں اس کی بحری موجودگی اور آپریشنل صلاحیت اسے اہم تزویراتی برتری فراہم کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت

ایران کی جانب سے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا معاملہ بھی تازہ کشیدگی کا سبب بنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے مطابق ایران نے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی⁦(ADNOC)⁩سے وابستہ دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور دونوں واقعات پر قابو پا لیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ان کارروائیوں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ سعودی عرب نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعات اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایران تجارتی بحری آمدورفت کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں مسلسل امریکی موجودگی اسی تناظر میں ضروری ہے۔

غیر معمولی معاشی دباؤ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایسے معاشی اقدامات نافذ کرے گا جو ان کے بقول کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

مزید اقدامات جلد متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ امریکی حکمت عملی میں معاشی تنہائی کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایرانی حکومت کی عسکری اور علاقائی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی عوام کے لیے توانائی اور پٹرول کی قیمتوں کو قابلِ برداشت رکھنا بھی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے ساتھ امریکی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن سے متعلق رپورٹس مسترد

یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض رپورٹس کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا‘‘ قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز پر دوبارہ فوج میں شامل ہونے کی شرح بلند ہے، سمندر میں گرنے والے ایک اہلکار کو فوری طور پر بچا لیا گیا اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی خطے میں متوقع آمد سے امریکی بحری موجودگی اور آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تبدیلی طے شدہ تعیناتی کے تسلسل کا حصہ ہے۔

تزویراتی برتری برقرار رکھنے کا امریکی دعویٰ

امریکی انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تزویراتی پہل واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچنے، معاشی دباؤ میں اضافے اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کے تسلسل کو صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کی اہم کامیابیاں قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے عالمی تجارت اور توانائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے دیا جائے گا۔

امریکی پالیسی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک تہران اپنے موجودہ علاقائی طرزِ عمل میں تبدیلی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ تاہم تنازع کا مستقبل سفارتی کوششوں، بحری صورتحال اور خطے میں طاقت کے توازن سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہے۔

ADNOC آبنائے ہرمز امریکہ ایران تنازع امریکہ ایران جنگ امریکی بحری ناکہ بندی امریکی بحریہ ایران ایران پر معاشی پابندیاں ایران جوہری پروگرام پیٹ ہیگسیتھ جے ڈی وینس ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب سکاٹ بیسنٹ سینٹکام عالمی توانائی کی سلامتی متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ یو ایس ایس ابراہم لنکن یو ایس ایس جارج واشنگٹن
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکہ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی پر مبارکباد، بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت داری کا اعادہ
Next Article عبدال السید کی⁦ISNA⁩کنونشن میں شرکت متنازع
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.