عبدال السید کیISNAکنونشن میں شرکت متنازع، مفتی طارق مسعود سمیت کئی مذہبی رہنماؤں پر سنگین الزامات

مشی گن کے سینیٹ کے امیدوار عبدال السید رواں سال لیبر ڈے ویک اینڈ پر ایک ایسے پاکستانی مذہبی عالم کے ساتھ ایک بڑے اسلامی اجتماع میں شریک ہونے والے ہیں جن پر کم عمر لڑکی کی شادی کی حمایت، اپنی13سالہ بھانجی کو شادی پر مجبور کرنے اور یہود مخالف سازشی نظریات کو فروغ دینے کے الزامات اور دعوے سامنے آ چکے ہیں۔
عبدال السید4سے7ستمبر تک ڈیٹرائٹ میں ہونے والے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ(ISNA)کے63ویں سالانہ کنونشن میں شرکت کریں گے۔ پروگرام کے مطابق وہ5ستمبر کو ’’بحران زدہ امریکہ میں خدا آگاہی کو فروغ دینا‘‘ کے عنوان سے ایک پینل سے خطاب کریں گے۔
اس تقریب میں پاکستانی مذہبی عالم مفتی طارق مسعود بھی شریک ہوں گے۔ وہ نوجوانوں میں ذہنی بیماری سے بچاؤ کے موضوع پر ایک پینل میں گفتگو کریں گے، جس میں والدین کی جانب سے بچوں پر ذہنی صدمے کے اثرات کو کم کرنے کے طریقوں پر بات کی جائے گی۔
طارق مسعود کا متنازع ماضی
تاہم طارق مسعود کا ماضی اس موضوع کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی متعدد رپورٹس کے مطابق مسعود نے2021میں ایک مذہبی خطاب کے دوران اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی13سالہ بھانجی کی شادی پر مجبور کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھی کم عمر لڑکیوں کی شادی کرنے کا مشورہ دیا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسعود نے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیوی کے کالج جانے یا گھر میں رہنے کا فیصلہ شوہر کا اختیار ہے۔
2024 میں کینیڈا میں بعض کارکنوں نے مسعود کے مبینہ ’’پیڈوفیلک بیانات‘‘ کی بنیاد پر حکومت سے ان کا ویزا روکنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
مسعود کے بعض مذہبی خطابات میں یہودیوں کے بارے میں بھی شدید نوعیت کے خیالات سامنے آئے ہیں۔2024میں ’’یہودیوں کی آخری تذلیل‘‘ کے عنوان سے ایک خطاب میں، جس کے ترجمے مختلف ذرائع نے شائع کیے، انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہودیوں کے ’’مکار ذہنوں‘‘ نے دنیا کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے کام کیا ہے۔
انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’قرآن یہودیوں کی مذمت کرتا ہے‘‘، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمام یہودی ایک جیسے نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہودی برادری میں پائی جانے والی ’’برائی اور انتشار‘‘ دنیا کی کسی دوسری برادری میں اتنی زیادہ نہیں۔
طارق مسعود کے ساتھ پینل میںISNAکے صدر سید امتیاز احمد بھی شریک ہوں گے۔ امتیاز احمد ہی مسعود کے پینل کی نظامت بھی کریں گے، جبکہ وہ عبدال السید کے پینل میں بھی شریک ہوں گے۔
عبدال السید کی اپنی متنازع زبان
عبدال السید کی اس تقریب میں شرکت اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ وہ خود اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کو جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں مبینہ طور پر جاری نہ کرنے پر ’’پیڈوفائل محافظ‘‘ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن فری بیکن کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ میں انتخابی مہم کی حکمت عملی سے متعلق ایک کال کے دوران عبدال السید نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر ان سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ موضوع تبدیل کرکے ’’پیڈوفائل صدر‘‘ کی طرف لے جائیں گے تاکہ مشی گن کے مسلم ووٹروں کو ناراض نہ کیا جائے۔
عبدال السید کےISNAکنونشن میں شرکت نے اس بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا وہ نومبر کے عام انتخابات سے قبل اپنے سیاسی مؤقف میں نرمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے بعض اعتدال پسند اور یہودی ڈیموکریٹ ناقدین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل مخالف تنظیموں اور کارکنوں سے ان کے روابط کے باعث ان کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان میں حسن پائیکر بھی شامل ہیں، جنہوں نے ماضی میں11ستمبر کے حملوں کے حوالے سے متنازع بیان دیا تھا۔ عبدال السید کے پینل کے ایک اور شریک، جینک یوگر، پائیکر کے ماموں ہیں۔
کنونشن کے دیگر متنازع مہمان
ISNA کے کنونشن میں دیگر متنازع شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔
پاکستان کے سابق صدر عارف علوی بھی اس اجتماع سے خطاب کریں گے۔ ان پر2018میں اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی جب انہوں نے دو مسیحی بھائیوں کو توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین میں ترمیم کی حمایت نہیں کی تھی۔
دیگر مقررین میں نیویارک کے امام سراج وہاج بھی شامل ہیں، جنہیں1993کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر بم دھماکے کے مقدمے میں ایک غیرملزم شریک سازشی قرار دیا گیا تھا۔
ٹیکساس کے مذہبی عالم یاسر قاضی بھی متعدد پینلز میں شریک ہوں گے۔ ان کے بارے میں بھی ماضی میں ہولوکاسٹ کو ’’فریب‘‘ قرار دینے اور یہ کہنے کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ ایڈولف ہٹلر کا یہودیوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔
حماس کے حامی قرار دی جانے والی کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز(CAIR)سے وابستہ حسام ایلوش بھی شہری شرکت کے موضوع پر ایک پینل سے خطاب کریں گے۔7اکتوبر کے بعد ان سے منسوب ایسے بیانات بھی سامنے آئے جن میں انہوں نے اسرائیل پر حملوں اور مسلح مزاحمت کو جائز قرار دینے کی بات کی تھی۔
خاندانی و مالی روابط
عبدال السید کےISNAسے خاندانی روابط بھی سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن فری بیکن کے مطابق ان کے سسر طیب جوکاکو2007سےISNAکی بانی کمیٹی میں شامل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جوکاکو نے عبدال السید کی حمایت کرنے والی ایک سیاسی ایکشن کمیٹی کو تین لاکھ ڈالر دیے ہیں۔
ISNA کے حوالے سے بھی امریکہ میں طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث جاری رہی ہے۔ تنظیم کو2008میں ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت کے مقدمے میں غیرملزم شریک سازش کاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ISNAنے ماضی میں ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
کنونشن میں عبدال السید کے شریعت سے متعلق ماضی کے بیانات بھی دوبارہ زیر بحث آ رہے ہیں۔ واشنگٹن فری بیکن کے مطابق عبدال السید نے ماضی میں شریعت کی پابندی کو اپنی ’’ذمہ داری‘‘ قرار دیا تھا اور اس سلسلے میں ایک ایسے بینک سے رہن لینے کا حوالہ دیا تھا جو اسلامی اصولوں کے مطابق سود وصول نہیں کرتا۔
یہ بینک اب یونیورسٹی اسلامک فنانشل کے نام سے کام کرتا ہے اورISNAکے اس اجتماع کے اسپانسرز میں شامل ہے۔ ایک اور اسپانسر، امانہ فنڈز، شریعت کے مطابق کام کرنے والی میوچل فنڈ کمپنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عبدال السید کے پاس اس کمپنی میں تقریباً150,000سے425,000ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری ہے۔
عبدال السید کیISNAکنونشن میں شرکت، ان کے خاندانی و مالی روابط اور شریعت سے متعلق ماضی کے بیانات کے ساتھ ساتھ متنازع مقررین کی موجودگی نے ان کے سیاسی مؤقف، اعتدال پسندی اور ممکنہ سینیٹ مہم کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

