ٹرمپ کا اعلان، ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں نہ طے شدہ، عبوری معاہدے کی60روزہ مدت ختم
واشنگٹن، 18–19 اگست 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اس وقت نہ کوئی مذاکرات یا رابطے جاری ہیں اور نہ ہی کوئی بات چیت طے شدہ ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت مذاکرات کے لیے مقررہ60روزہ مدت ختم ہونے کے بعد سفارتی عمل عملی طور پر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ ’’کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں اور نہ ہی طے شدہ ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ ہے، آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے، جبکہ سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے صرف ایک روز قبل خصوصی ایلچی اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایرانی حکومت کے مختلف حصوں کے ساتھ جاری رابطوں کو ’’مثبت اور فعال‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بات چیت شاید ماضی کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ وسیع سطح پر جاری تھی۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، تہران کی جانب سے امریکی شرائط تسلیم کرنے کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کیے جانے تک رابطے روکنے کی ہدایت کی ہے۔
تعطل کا شکار مذاکراتی عمل
جون2026کے وسط میں امریکا اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دشمنی کو عارضی طور پر روکنا اور60روز کے دوران وسیع تر مذاکرات کا راستہ کھولنا تھا۔ مجوزہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، تعمیر نو اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سمیت متعدد امور شامل تھے۔
یہ عبوری معاہدہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد سامنے آیا تھا، جس کا آغاز فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ہوا تھا۔
مذاکرات میں مسلسل تاخیر
مذاکراتی عمل تقریباً ابتدا ہی سے تاخیر کا شکار رہا۔ جون میں سوئٹزرلینڈ میں نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت کے ساتھ ہونے والا ایک مجوزہ مذاکراتی دور لبنان میں اسرائیلی حملوں اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث مؤخر کر دیا گیا۔ ایران نے متعلقہ محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
60 روزہ مدت17اور18اگست کے آس پاس کسی جامع بعد ازاں معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔ ٹرمپ بارہا یہ شکایت کر چکے ہیں کہ ایران نے ان کی ترجیحی شرائط پوری نہیں کیں، جبکہ ایرانی حکام کا اصرار رہا ہے کہ امریکا کو پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
ایرانی مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں ختم کرنا شامل ہیں۔
ایرانی ردعمل اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔
ایرانی حکام نے سفارتی تعطل کے دوران زیادہ جارحانہ فوجی حکمت عملی کی جانب ممکنہ منتقلی کے اشارے بھی دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کی بحری ناکہ بندی بھی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کی شمولیت میں الگ نوعیت کی بات چیت بھی جاری رہی ہے۔
وسیع تر پس منظر
یہ تنازع اب چھٹے ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور اس دوران امریکا کی جانب سے ممکنہ یا متوقع فوجی حملوں کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات میں پیش رفت کے دعووں سے منسلک وقفے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔ تاہم تہران نے متعدد مواقع پر ان دعووں کو مسترد یا ان کی تردید کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عبوری معاہدے کا غیر واضح ڈھانچہ کئی بنیادی مسائل کو حل طلب چھوڑ گیا، جس نے موجودہ تعطل کی راہ ہموار کی۔
مذاکرات کی نئی تاریخ مقرر نہیں
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس جانے کے بجائے بحری ناکہ بندی سمیت اقتصادی دباؤ کو اپنا اثر دکھانے کا موقع دینے کے لیے تیار ہیں۔ فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

