"`html
بلقیس ریاض کی چار نئی کتابوں کی پروقار تقریبِ رونمائی، ادبی شخصیات کی بھرپور شرکت
چار نئی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ بلقیس ریاض کی تصانیف کی تعداد60ہوگئی
بلقیس ریاض کی چار نئی کتابوں کی شاندار اور پروقار تقریبِ رونمائی16اگست کو فلیٹیز ہوٹل لاہور کے شالیمار ہال میں منعقد ہوئی۔ چار نئی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ بلقیس ریاض مجموعی طور پر 60 کتابوں کی مصنفہ بن گئی ہیں، جس کے باعث یہ تقریب ان کے طویل ادبی سفر کی گولڈن جوبلی کے طور پر بھی منائی گئی۔
تقریب کی صدارت عہد ساز شاعر، پرائیڈ آف پرفارمنس اور کمالِ فن ایوارڈ یافتہ ادیب نزیر قیصر نے کی، جبکہ سلمیٰ اعوان، سید آسی شاہ اور شاہد علی خان مہمانانِ خصوصی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صائمہ ارم، ڈاکٹر عمر عادل، ڈاکٹر فوزیہ تبسم، نومان منظور، طاہر منظور، سعدیہ قریشی، رضا رومی، کنول بہزاد اور دیگر مقررین نے بلقیس ریاض کی ادبی خدمات، شخصیت اور تخلیقی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ بلقیس ریاض نہ صرف ایک باصلاحیت قلمکار ہیں بلکہ ایک شفیق، محبت بانٹنے والی اور انسان دوست شخصیت بھی ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانی رشتوں، محبت، معاشرتی اقدار اور زندگی کے مختلف رنگوں کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
تقریب میں پاکستان کے دو سابق چیف جسٹسز، چیف جسٹس ریاض احمد اور چیف جسٹس(ر) ارشاد حسن خان نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ لاہور سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے بلقیس ریاض کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ بلقیس ریاض کے خاندان کے افراد بیرونِ ملک سے خصوصی طور پر اس موقع پر شریک ہوئے۔ ان کے شوہر، بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں اور نواسوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ادبی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کیا اور ان کے تخلیقی سفر کو خاندان کے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔
معروف شاعرہ اور کالم نگار صوفیہ بیدار نے اپنی دلکش، شائستہ اور پُروقار نظامت سے تقریب کو یادگار بنا دیا۔ تقریب کے دوران بلقیس ریاض کی نئی کتابوں کا تعارف پیش کیا گیا اور ان کے طویل ادبی سفر کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلقیس ریاض کی ادبی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ سفرناموں، ناولوں، افسانوں اور کالم نگاری کے میدان میں ان کی تخلیقی کاوشیں اردو ادب کا اہم حصہ ہیں اور ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے بلقیس ریاض کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ ان کا قلم اسی طرح ادب کی خدمت کرتا رہے اور اردو زبان و ادب کو مزید قیمتی تخلیقات سے مالا مال کرتا رہے۔
بلقیس ریاض کا اظہارِ تشکر و سپاس
دل کی گہرائیوں سے یہ چند الفاظِ تشکر اُن تمام محبت کرنے والی، باوقار اور اہلِ قلم شخصیات کے نام ہیں، جن کی شرکت، محبت اور خلوص نے میری اس خوب صورت ادبی محفل کو یادگار بنا دیا۔
نزیر قیصر، محترمہ عابدہ سعید، آسی شاہ اور شاہد علی خان سمیت دیگر قابلِ احترام اور صاحبِ ذوق احباب کی موجودگی میرے لیے یقیناً ایک بڑے اعزاز سے کم نہیں۔ آپ کی شرکت نے محفل کی رونق کو دوبالا کیا اور مجھے یہ احساس دلایا کہ محبت اور خلوص سے سجائی گئی محفلیں ہمیشہ دلوں میں اپنی ایک الگ جگہ بنا لیتی ہیں۔
خصوصی طور پر صوفیہ کی بے حد شکر گزار ہوں، جنہوں نے ہمیشہ کی طرح نہایت خوب صورتی، وقار اور محبت کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ان کی دلنشیں گفتگو، شائستگی اور اندازِ نظامت نے محفل کے حسن کو مزید نکھار دیا۔
میں خود کو شاید اتنی بڑی رائٹر نہ سمجھتی ہوں، مگر آپ سب نے جس محبت، خلوص اور فراخ دلی سے میری پذیرائی کی، میرے الفاظ اس محبت کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ کے محبت بھرے کلمات، حوصلہ افزائی اور اظہارِ خیال میرے لیے کسی قیمتی اعزاز سے کم نہیں۔
نومان منظور، صائمہ ارم، جسٹس ارشاد حسن خان، طاہر منظور، میری پیاری سہیلی فوزیہ تبسم اور تمام اُن احباب کا تہہِ دل سے شکریہ جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکالا، میری دعوت کو عزت بخشی اور اس محفل میں شریک ہو کر اسے یادگار بنا دیا۔
میں اُن تمام معزز مہمانوں کی بھی دل سے ممنون ہوں جو میری محبت بھری دعوت پر تشریف لائے۔ آپ کی موجودگی میرے لیے محض شرکت نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور تعلق کا خوب صورت اظہار تھی۔ آپ سب نے میری خوشی کو اپنی خوشی سمجھا اور میری محفل کو اپنی موجودگی سے رونق بخشی۔
آج جب میں اس خوب صورت محفل کو یاد کرتی ہوں تو دل بے اختیار اللہ رب العزت کے حضور شکر سے جھک جاتا ہے۔ اللہ نے میرے لیے اتنی حسین محفل سجائی، اتنے پیارے اور قابلِ احترام لوگ میرے اردگرد جمع کیے اور مجھے محبت و عزت سے نوازا، یہ یقیناً اُس کا بہت بڑا کرم ہے۔
اور آخر میں اپنے بچوں کے لیے خصوصی محبت اور تشکر کا اظہار کرنا چاہوں گی، جو اتنی دور امریکہ سے صرف اس تقریب کی خوشی میں میرے پاس آئے۔ ان کی آمد نے میری خوشی کو کئی گنا بڑھا دیا۔ میری پوتی اور نواسی کی موجودگی نے اس خوب صورت موقع کو میرے لیے مزید یادگار اور دل کے قریب بنا دیا۔ اپنوں کی محبت اور ساتھ سے بڑھ کر دنیا میں شاید ہی کوئی دولت ہو۔
میرے لیے یہ محفل صرف ایک ادبی تقریب نہیں تھی بلکہ محبتوں، رشتوں، دعاؤں، خلوص اور یادوں کا ایک خوب صورت باب تھی۔ میں ہر اُس شخص کی شکر گزار ہوں جس نے اس شام کو اپنی موجودگی، الفاظ، دعاؤں اور محبت سے میرے لیے خاص بنایا۔
آپ سب کا شکریہ لفظوں میں ادا کرنا ممکن نہیں۔ بس دل سے ایک دعا نکلتی ہے کہ اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے، عزت، صحت، محبت اور آسانیوں سے نوازے اور ہمارے درمیان یہ محبت، خلوص اور ادبی رفاقت ہمیشہ قائم رکھے۔
ایک بار پھر ہر آنے والے، ہر دعا دینے والے، ہر محبت بھرا لفظ کہنے والے اور اس محفل کو اپنی موجودگی سے چار چاند لگانے والے ہر فرد کا تہہِ دل سے شکریہ۔
”یہ شام میری نہیں، ہم سب کی محبت کے نام تھی۔“
بے حد شکریہ، بے شمار محبتیں اور ڈھیروں دعائیں۔
خاص طور پر رضا رومی کا تہہِ دل سے شکریہ، جنہوں نے اس خوب صورت محفل کو سجانے اور اسے یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تصویری جھلکیاں






"`
