ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کریں گے، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا اعلان
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو موجودہ بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ’’ایک، دو وار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔
سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ نئی پابندیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے انہوں نے ’’دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق بحری ناکہ بندی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا امتزاج ایران میں مؤثر ثابت ہوگا اور ’’ہم اس حکومت کو گرا دیں گے۔‘‘
بیسنٹ نے کہا، ’’یہ ایک، دو وار ہے۔ ہمارے پاس ناکہ بندی ہے اور اب ہم تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا دیگر ممالک سے کہے گا کہ ’’آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔‘‘
ان کے مطابق ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والے ممالک اور اداروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں رقوم کی منتقلی، ایرانی تیل کی خریداری اور سمندری راستے سے جہازوں کے ذریعے منتقلی سمیت دیگر تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔
معاشی دباؤ سے بڑے فوجی تصادم کا امکان کم ہونے کا دعویٰ
بیسنٹ نے اشارہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات کم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈال رہا ہے تو غالب امکان ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع نہ ہو۔
امریکی وزیر خزانہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں مجوزہ پابندیوں کی تفصیلات بیان کریں گے۔
ٹرمپ کی ’’اقتصادی جنگ‘‘ کی دھمکی
بیسنٹ کے یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’اقتصادی جنگ‘‘ کی وارننگ کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی سنگین اقتصادی نتائج کی دھمکی دی تھی جو ایران کو کسی بھی قسم کی ’’زندگی کی ڈور‘‘ فراہم کرتے ہیں۔
چین، جو کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے سمندری تیل کا80فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، امریکی دباؤ کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔ بیسنٹ نے بیجنگ پر تعاون کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کی تقریباً50فیصد توانائی خطے سے حاصل ہوتی ہے۔
بیسنٹ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں امریکا اور چین کے مشترکہ مفاد کی بھی نشاندہی کی۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پابندیاں ’’مسئلے کے حل میں مدد نہیں کرتیں‘‘ اور سیاسی و سفارتی حل پر زور دیا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے مجوزہ اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا نقصان عام ایرانی شہریوں کو پہنچے گا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکی اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ تاہم بیسنٹ نے کہا کہ مارکیٹیں امریکی معاشی دباؤ کی مہم کے ممکنہ اثرات کو ’’غلط سمجھ رہی ہیں‘‘ اور اشارہ دیا کہ واشنگٹن کے پاس اس حکمت عملی کے ممکنہ اثرات سے متعلق ایسی معلومات موجود ہیں جو مارکیٹ کو دستیاب نہیں۔
تقریباً چھ ماہ سے جاری امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع کے دوران واشنگٹن نے اب اقتصادی دباؤ میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ بیسنٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی فوج اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو محدود کرنا، مہنگائی بڑھانا، تیل کی آمدنی کم کرنا اور تہران کو مالی طور پر تنہا کرنا ہے۔
ٹرمپ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان
اس سے ایک روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے والے ممالک، بینکوں، کاروباری اداروں اور حکومتوں کو خود بھی شدید امریکی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
’’سب سے زیادہ تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’’آج میں کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی سب سے زیادہ تباہ کن اقتصادی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ’’غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی‘‘ کی پالیسی اختیار کرے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اگر اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی اقتصادی سہولت فراہم کرتا ہے تو اسے بھی ’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے خصوصی طور پر ان ذرائع کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جنہیں تہران ماضی میں بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان میں تیل کی اسمگلنگ، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریاں اور فرنٹ کمپنیاں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ ہوگا اور امریکا کے تمام اتحادیوں کو ایران کے خطرے کو الگ تھلگ کرنے اور شکست دینے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کی اہم اقتصادی راہ محدود کر دی
ٹرمپ کا اعلان متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین معطل کرنے کے ایک دن سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا۔ اس اقدام سے تہران کے لیے اہم تجارتی اور مالی راستوں میں سے ایک محدود ہو گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ دبئی کے ذریعے سرگرم ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرے۔ دبئی میں فرنٹ کمپنیوں اور دیگر اداروں کے ذریعے تہران امریکی پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی اور بین الاقوامی تجارت تک رسائی حاصل کرتا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا اقدام ٹرمپ کی وسیع تر حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق ایران تقریباً21ارب ڈالر مالیت کی اشیا متحدہ عرب امارات کے راستے درآمد کرتا ہے، جس کے باعث امارات تہران کے باقی ماندہ اہم اقتصادی روابط میں شمار ہوتا ہے۔
واشنگٹن کا رخ اقتصادی جنگ کی طرف
امریکی حکومت کی نئی مہم ایسے کئی ہفتوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے بجائے اقتصادی دباؤ پر زیادہ زور دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مالیاتی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈالا جائے گا۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی گزشتہ ہفتے اس اقدام کے آثار ظاہر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ ایسے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے جن کی مثال اس سے پہلے کسی دوسرے ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے نہیں ملتی۔
ایرانی حکام نے بھی بڑھتے ہوئے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث درآمدی سامان کو مہنگے زمینی راستوں سے منتقل کرنا پڑ رہا ہے، جس سے شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ایرانی معیشت پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔
سفارت کاری کے امکانات معدوم
ٹرمپ کا نیا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے امکانات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
منگل کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ ’’کوئی مذاکرات یا بات چیت‘‘ نہ تو جاری ہے اور نہ ہی طے شدہ ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز محدود ہے، جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ کھلی ہے۔
تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع اب بڑی حد تک اقتصادی برداشت کی جنگ میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن ایران کو مالی طور پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے ذریعے عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
بدھ کو عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت91.62ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو تقریباً چار ہفتوں کی بلند ترین اختتامی سطح ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران پہلے ہی ایک نازک مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوجی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، ایرانی کرنسی کمزور ہو چکی ہے اور ملک کی معیشت تیزی سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
ٹرمپ کے بقول ’’یہ جنونی لوگ اب مشکلات میں گھر چکے ہیں۔‘‘ ان کی ایران پالیسی کا اگلا مرحلہ شاید بڑے پیمانے پر مزید فضائی حملوں کے بجائے اس بات پر منحصر ہوگا کہ واشنگٹن دنیا کے دیگر ممالک کو تہران کی معیشت کو سہارا دینے والے باقی ماندہ مالیاتی راستے بند کرنے پر کس حد تک آمادہ یا مجبور کر سکتا ہے۔
۔

