• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کریں گے، امریکی وزیر خزانہ کا اعلان
امریکہ

ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کریں گے، امریکی وزیر خزانہ کا اعلان

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کریں گے، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا اعلان

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو موجودہ بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ’’ایک، دو وار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔

سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ نئی پابندیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جسے انہوں نے ’’دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق بحری ناکہ بندی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا امتزاج ایران میں مؤثر ثابت ہوگا اور ’’ہم اس حکومت کو گرا دیں گے۔‘‘

بیسنٹ نے کہا، ’’یہ ایک، دو وار ہے۔ ہمارے پاس ناکہ بندی ہے اور اب ہم تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا دیگر ممالک سے کہے گا کہ ’’آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔‘‘

ان کے مطابق ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والے ممالک اور اداروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں رقوم کی منتقلی، ایرانی تیل کی خریداری اور سمندری راستے سے جہازوں کے ذریعے منتقلی سمیت دیگر تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

معاشی دباؤ سے بڑے فوجی تصادم کا امکان کم ہونے کا دعویٰ

بیسنٹ نے اشارہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات کم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈال رہا ہے تو غالب امکان ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع نہ ہو۔

امریکی وزیر خزانہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں مجوزہ پابندیوں کی تفصیلات بیان کریں گے۔

ٹرمپ کی ’’اقتصادی جنگ‘‘ کی دھمکی

بیسنٹ کے یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’اقتصادی جنگ‘‘ کی وارننگ کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی سنگین اقتصادی نتائج کی دھمکی دی تھی جو ایران کو کسی بھی قسم کی ’’زندگی کی ڈور‘‘ فراہم کرتے ہیں۔

چین، جو کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے سمندری تیل کا⁦80⁩فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، امریکی دباؤ کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔ بیسنٹ نے بیجنگ پر تعاون کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کی تقریباً⁦50⁩فیصد توانائی خطے سے حاصل ہوتی ہے۔

بیسنٹ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں امریکا اور چین کے مشترکہ مفاد کی بھی نشاندہی کی۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پابندیاں ’’مسئلے کے حل میں مدد نہیں کرتیں‘‘ اور سیاسی و سفارتی حل پر زور دیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے مجوزہ اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا نقصان عام ایرانی شہریوں کو پہنچے گا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ تاہم بیسنٹ نے کہا کہ مارکیٹیں امریکی معاشی دباؤ کی مہم کے ممکنہ اثرات کو ’’غلط سمجھ رہی ہیں‘‘ اور اشارہ دیا کہ واشنگٹن کے پاس اس حکمت عملی کے ممکنہ اثرات سے متعلق ایسی معلومات موجود ہیں جو مارکیٹ کو دستیاب نہیں۔

تقریباً چھ ماہ سے جاری امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع کے دوران واشنگٹن نے اب اقتصادی دباؤ میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ بیسنٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی فوج اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو محدود کرنا، مہنگائی بڑھانا، تیل کی آمدنی کم کرنا اور تہران کو مالی طور پر تنہا کرنا ہے۔

ٹرمپ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان

اس سے ایک روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے والے ممالک، بینکوں، کاروباری اداروں اور حکومتوں کو خود بھی شدید امریکی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’’سب سے زیادہ تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’’آج میں کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی سب سے زیادہ تباہ کن اقتصادی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ’’غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی‘‘ کی پالیسی اختیار کرے گا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اگر اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی اقتصادی سہولت فراہم کرتا ہے تو اسے بھی ’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر نے خصوصی طور پر ان ذرائع کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جنہیں تہران ماضی میں بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان میں تیل کی اسمگلنگ، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریاں اور فرنٹ کمپنیاں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ ہوگا اور امریکا کے تمام اتحادیوں کو ایران کے خطرے کو الگ تھلگ کرنے اور شکست دینے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کی اہم اقتصادی راہ محدود کر دی

ٹرمپ کا اعلان متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین معطل کرنے کے ایک دن سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا۔ اس اقدام سے تہران کے لیے اہم تجارتی اور مالی راستوں میں سے ایک محدود ہو گیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ دبئی کے ذریعے سرگرم ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرے۔ دبئی میں فرنٹ کمپنیوں اور دیگر اداروں کے ذریعے تہران امریکی پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی اور بین الاقوامی تجارت تک رسائی حاصل کرتا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا اقدام ٹرمپ کی وسیع تر حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق ایران تقریباً⁦21⁩ارب ڈالر مالیت کی اشیا متحدہ عرب امارات کے راستے درآمد کرتا ہے، جس کے باعث امارات تہران کے باقی ماندہ اہم اقتصادی روابط میں شمار ہوتا ہے۔

واشنگٹن کا رخ اقتصادی جنگ کی طرف

امریکی حکومت کی نئی مہم ایسے کئی ہفتوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے بجائے اقتصادی دباؤ پر زیادہ زور دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مالیاتی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈالا جائے گا۔

وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی گزشتہ ہفتے اس اقدام کے آثار ظاہر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ ایسے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے جن کی مثال اس سے پہلے کسی دوسرے ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے نہیں ملتی۔

ایرانی حکام نے بھی بڑھتے ہوئے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی کے باعث درآمدی سامان کو مہنگے زمینی راستوں سے منتقل کرنا پڑ رہا ہے، جس سے شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ایرانی معیشت پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔

سفارت کاری کے امکانات معدوم

ٹرمپ کا نیا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے امکانات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

منگل کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ ’’کوئی مذاکرات یا بات چیت‘‘ نہ تو جاری ہے اور نہ ہی طے شدہ ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز محدود ہے، جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ کھلی ہے۔

تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع اب بڑی حد تک اقتصادی برداشت کی جنگ میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن ایران کو مالی طور پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے ذریعے عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

بدھ کو عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت⁦91.62⁩ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو تقریباً چار ہفتوں کی بلند ترین اختتامی سطح ہے۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران پہلے ہی ایک نازک مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوجی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، ایرانی کرنسی کمزور ہو چکی ہے اور ملک کی معیشت تیزی سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

ٹرمپ کے بقول ’’یہ جنونی لوگ اب مشکلات میں گھر چکے ہیں۔‘‘ ان کی ایران پالیسی کا اگلا مرحلہ شاید بڑے پیمانے پر مزید فضائی حملوں کے بجائے اس بات پر منحصر ہوگا کہ واشنگٹن دنیا کے دیگر ممالک کو تہران کی معیشت کو سہارا دینے والے باقی ماندہ مالیاتی راستے بند کرنے پر کس حد تک آمادہ یا مجبور کر سکتا ہے۔

۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleڈیل یا اندرونی طاقتوں کا ٹکراؤ؟
Next Article ٹرمپ نے کینیڈا پر⁦50⁩فیصد ٹیرف مؤخر کر دیا
نیوز ڈیسک

Related Posts

امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
امریکہ

امریکی وسط مدتی انتخابات

نومبر 3, 2026
امریکہ

مشی گان سے سینیٹ امیدوار مائیکل جوزف راجرز کی حمایت

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.