• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » اسرائیل میں تین سالہ جنگ کے بعد بھی مؤثر ابلاغی حکمتِ عملی کا فقدان، فلور حسن ناہوم
اسرائیل

اسرائیل میں تین سالہ جنگ کے بعد بھی مؤثر ابلاغی حکمتِ عملی کا فقدان، فلور حسن ناہوم

تحریر: ڈیوڈ تاراگِن
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 22, 2026Updated:اگست 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

7 اکتوبر⁦2023⁩کی صبح فلور حسن ناہوم یروشلم میں اپنے گھر پر تھیں جب ان کی بیٹی نے سائرن کی آواز سے انہیں جگایا۔

یروشلم کے شہری ان سائرن کے عادی نہیں تھے۔ کئی بار الارم بجنے کے بعد حسن ناہوم، جو مذہبی رجحانات رکھتی ہیں اور عام طور پر شبات کے دوران فون اور دیگر ذرائع ابلاغ سے دور رہتی ہیں، نے اپنا فون کھولا۔ عرب صحافی دوستوں کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے تھے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن آن کیا اور براہِ راست دیکھا کہ حماس کے حملے کی وسعت کس طرح سامنے آ رہی ہے۔

پھر ان کا فون بجا۔ دوسری جانب بی بی سی تھی۔

اس وقت حسن ناہوم یروشلم کی ڈپٹی میئر تھیں۔ انہیں حیرت ہوئی کہ دنیا کے بڑے خبر رساں اداروں میں سے ایک انہیں کیوں فون کر رہا ہے۔ وہ میونسپل سیاست دان تھیں، فوجی ترجمان نہیں۔

بعد ازاں انہوں نے دی ایلگیمائنر کے ’’J100‘‘ پوڈکاسٹ میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ پھر انہیں بات سمجھ میں آئی⁦:⁩دوسرے لوگ فون نہیں اٹھا رہے تھے۔

اس فون کال نے انہیں فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ذہن میں خیال آیا: ’’ہم جنگ میں ہیں۔ میں فوجی نہیں ہوں، لیکن میں یہ کر سکتی ہوں۔‘‘

چنانچہ انہوں نے فون اٹھا لیا۔

اس کے بعد کئی دنوں تک حسن ناہوم عملاً اسرائیل کی غیر سرکاری ترجمان بن گئیں۔ وہ بین الاقوامی میڈیا کو وہ معلومات فراہم کرتی رہیں جو انہیں حاصل ہو رہی تھیں، یہاں تک کہ بعد میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے انہیں باضابطہ طور پر مدد کے لیے طلب کر لیا۔

یہ واقعہ بظاہر ایک ذاتی داستان ہے، لیکن اس کے اندر اسرائیل کی ابلاغی پالیسی کے حوالے سے ایک بڑی تنقید بھی پوشیدہ ہے۔ حسن ناہوم نے گفتگو کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے ابلاغ کو ایک ایسی صلاحیت کے طور پر نہیں لیا جسے باقاعدہ حکمتِ عملی کے تحت تشکیل، وسائل، مختلف زبانوں اور مستقل عملے کے ذریعے مضبوط کیا جائے، بلکہ اکثر اسے باصلاحیت افراد کی فوری اور انفرادی کوششوں پر چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا: ’’اسرائیلی حکومت اب بھی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوئی کہ ہم ایک بیانیے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘

یہ بات بظاہر حیران کن محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے بیشتر عرصے میں اسرائیل کی قیادت بینجمن نیتن یاہو کے ہاتھ میں رہی ہے، جو اپنی نسل کے اسرائیل کے سب سے زیادہ بین الاقوامی سطح پر معروف اور مؤثر خطیب سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

پوڈکاسٹ کے میزبان اور دی ایلگیمائنر کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کوہن نے بھی یہی سوال اٹھایا کہ ایک ایسے تجربہ کار ابلاغی سیاست دان کی قیادت میں حکومت ابلاغی حکمتِ عملی کی اہمیت کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟

حسن ناہوم کے نزدیک یہی تضاد اصل مسئلے کی وضاحت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے کئی مرتبہ ایک باصلاحیت ترجمان رکھنے کو مکمل ابلاغی حکمتِ عملی رکھنے کے مترادف سمجھ لیا۔

اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر یا امریکی کانگریس سے ان کا خطاب عالمی توجہ ضرور حاصل کر سکتا ہے، لیکن یہ مختلف ممالک، زبانوں، پلیٹ فارمز اور مختلف نوعیت کے سامعین تک روزانہ قابلِ اعتماد انداز میں پہنچنے والے ترجمانوں کے وسیع نیٹ ورک کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

کسی ملک کا پورا قومی بیانیہ صرف ایک شخص کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔

حسن ناہوم کے نزدیک ابلاغ کا تصور صرف اسرائیل کا مؤقف زیادہ زور سے بیان کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

سیاست میں آنے سے پہلے وہ اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر چکی ہیں، جہاں وہ اسرائیلی کاروباری شخصیات، اعلیٰ انتظامی عہدیداروں، ماہرینِ تعلیم اور محققین کو پیچیدہ خیالات کو مؤثر اور قابلِ فہم پیغامات میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی تھیں۔

اس تجربے سے ان کا بنیادی سبق موجودہ شور شرابے کی سیاست میں کسی حد تک غیر متوقع ہے⁦:⁩مؤثر ابلاغ کا آغاز بولنے والے سے نہیں بلکہ سننے والے سے ہوتا ہے۔

انہوں نے ڈیوڈ کوہن سے کہا: ’’یہ اس بارے میں نہیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، بلکہ اس بارے میں ہے کہ آپ کس سامعین سے بات کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم حسن ناہوم نے واضح کیا کہ اس کا مطلب خوشامد کرنا یا لوگوں کو صرف وہی بتانا نہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ کسی مخصوص سامعین کے لیے کیا اہم ہے، وہ کس زبان اور انداز کو قبول کرتا ہے اور کسی موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش سے پہلے وہ کس ذہنی مقام پر کھڑا ہے۔

ان کے الفاظ میں: ’’دوسرے لفظوں میں، معاملہ آپ کا نہیں، ان کا ہے۔‘‘

یہی شاید اسرائیل کی عوامی سفارت کاری پر ان کی تنقید کا سب سے اہم پہلو ہے۔

اسرائیل کی ابلاغی ناکامیوں پر ہونے والی زیادہ تر بحث تعداد اور رفتار کے گرد گھومتی ہے۔ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ زیادہ ترجمان کیوں نہیں ہیں؟ مخالف دعووں کا جواب زیادہ تیزی سے کیوں نہیں دیا جاتا؟ سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر ایک فریق زیادہ مؤثر کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کوئی مخصوص انٹرویو خراب کیوں ہو گیا؟

یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن حسن ناہوم کی دلیل اس سے زیادہ بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

صرف زیادہ ترجمان مقرر کر کے ایک ہی پیغام کو بار بار دہرانا لازماً بہتر ابلاغ پیدا نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک بہترین انداز میں کی گئی تقریر بھی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی اگر اسے بنیادی طور پر اس بات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہو کہ مقرر کیا کہنا چاہتا ہے، نہ کہ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ مخصوص سامعین کیا سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔

اس لحاظ سے اسرائیل کا بیانیاتی مسئلہ شاید صرف بولنے کا نہیں بلکہ سننے کا مسئلہ بھی ہے۔

حسن ناہوم نے یہ سبق یروشلم سٹی کونسل کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران سیکھا۔

روایتی انداز میں مختلف مقامات پر جا کر تقریریں کرنے کے بجائے انہوں نے جسے ’’لسننگ ٹور‘‘ یعنی ’’سننے کا دورہ‘‘ قرار دیا، وہ شروع کیا۔

وہ مختلف اجتماعات میں جاتیں، لوگوں سے سوالات کرتیں اور انہیں اپنی بات کہنے کا موقع دیتیں۔ بعض اوقات، ان کے مطابق، وہ کسی نشست سے یہ محسوس کرتے ہوئے واپس آتیں کہ انہوں نے خود تقریباً کچھ بھی نہیں کہا، لیکن بعد میں لوگوں کو یہ کہتے سنتیں کہ وہ بہت متاثر کن تھیں۔

انہوں نے پوچھا⁦:⁩آخر میں نے کیا کیا؟

ان کا جواب تھا: ’’میں نے ان کی بات سنی۔ میں نے یہ دکھاوا نہیں کیا کہ میں انہیں سن رہی ہوں۔ میں نے حقیقت میں ان کی بات سنی۔‘‘

حسن ناہوم نے سننے کو ایک ’’جادو کی چھڑی‘‘ قرار دیا جسے سیاسی اور کاروباری رہنما اکثر استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

یہاں داخلی سیاست کے لیے ایک واضح سبق موجود ہے، لیکن اسرائیل کو⁦7⁩اکتوبر کے بعد درپیش بیانیے کی جنگ کے لیے بھی یہی سبق اہم ہے۔

ابلاغ صرف اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مضبوط مقدمہ پیش کرنے کی صلاحیت کا نام نہیں۔ یہ اس شخص کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے جو پہلے سے آپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔

وہ کیا جانتا ہے؟ اسے کس چیز پر اعتماد نہیں؟ اس کی اخلاقی اور سیاسی زبان کیا ہے؟ اور وہ کن مفروضوں کے ساتھ گفتگو میں داخل ہو رہا ہے؟

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل کو اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے یا ایسے دلائل سے گریز کرنا چاہیے جو بعض لوگوں کو ناپسند ہوں۔ اس کے لیے اس سے زیادہ مشکل چیز درکار ہے⁦:⁩یہ تسلیم کرنا کہ قائل کرنا اور صرف اپنے خیالات کا اظہار کرنا ایک ہی چیز نہیں۔⁦7⁩اکتوبر کی صبح جب حسن ناہوم نے بی بی سی کا فون اٹھایا تو اسرائیل کو کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو فون کا جواب دے سکے۔

تقریباً تین سال بعد اصل چیلنج یہ ہے کہ جب کوئی فون اٹھائے تو اس کے پیچھے ایک وسیع، منظم اور طویل المدت ابلاغی حکمتِ عملی بھی موجود ہو۔

ماخذ⁦:⁩دی ایلگیمائنر،⁦20⁩اگست 2026

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleگورنر کیتھی ہوچل کا ظہران ممدانی کو مشورہ
Next Article اب بیروت کو فیصلہ کرنا ہوگا
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.