7 اکتوبر2023کی صبح فلور حسن ناہوم یروشلم میں اپنے گھر پر تھیں جب ان کی بیٹی نے سائرن کی آواز سے انہیں جگایا۔
یروشلم کے شہری ان سائرن کے عادی نہیں تھے۔ کئی بار الارم بجنے کے بعد حسن ناہوم، جو مذہبی رجحانات رکھتی ہیں اور عام طور پر شبات کے دوران فون اور دیگر ذرائع ابلاغ سے دور رہتی ہیں، نے اپنا فون کھولا۔ عرب صحافی دوستوں کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے تھے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن آن کیا اور براہِ راست دیکھا کہ حماس کے حملے کی وسعت کس طرح سامنے آ رہی ہے۔
پھر ان کا فون بجا۔ دوسری جانب بی بی سی تھی۔
اس وقت حسن ناہوم یروشلم کی ڈپٹی میئر تھیں۔ انہیں حیرت ہوئی کہ دنیا کے بڑے خبر رساں اداروں میں سے ایک انہیں کیوں فون کر رہا ہے۔ وہ میونسپل سیاست دان تھیں، فوجی ترجمان نہیں۔
بعد ازاں انہوں نے دی ایلگیمائنر کے ’’J100‘‘ پوڈکاسٹ میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ پھر انہیں بات سمجھ میں آئی:دوسرے لوگ فون نہیں اٹھا رہے تھے۔
اس فون کال نے انہیں فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ذہن میں خیال آیا: ’’ہم جنگ میں ہیں۔ میں فوجی نہیں ہوں، لیکن میں یہ کر سکتی ہوں۔‘‘
چنانچہ انہوں نے فون اٹھا لیا۔
اس کے بعد کئی دنوں تک حسن ناہوم عملاً اسرائیل کی غیر سرکاری ترجمان بن گئیں۔ وہ بین الاقوامی میڈیا کو وہ معلومات فراہم کرتی رہیں جو انہیں حاصل ہو رہی تھیں، یہاں تک کہ بعد میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے انہیں باضابطہ طور پر مدد کے لیے طلب کر لیا۔
یہ واقعہ بظاہر ایک ذاتی داستان ہے، لیکن اس کے اندر اسرائیل کی ابلاغی پالیسی کے حوالے سے ایک بڑی تنقید بھی پوشیدہ ہے۔ حسن ناہوم نے گفتگو کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے ابلاغ کو ایک ایسی صلاحیت کے طور پر نہیں لیا جسے باقاعدہ حکمتِ عملی کے تحت تشکیل، وسائل، مختلف زبانوں اور مستقل عملے کے ذریعے مضبوط کیا جائے، بلکہ اکثر اسے باصلاحیت افراد کی فوری اور انفرادی کوششوں پر چھوڑ دیا گیا۔
انہوں نے کہا: ’’اسرائیلی حکومت اب بھی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوئی کہ ہم ایک بیانیے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘
یہ بات بظاہر حیران کن محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے بیشتر عرصے میں اسرائیل کی قیادت بینجمن نیتن یاہو کے ہاتھ میں رہی ہے، جو اپنی نسل کے اسرائیل کے سب سے زیادہ بین الاقوامی سطح پر معروف اور مؤثر خطیب سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
پوڈکاسٹ کے میزبان اور دی ایلگیمائنر کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کوہن نے بھی یہی سوال اٹھایا کہ ایک ایسے تجربہ کار ابلاغی سیاست دان کی قیادت میں حکومت ابلاغی حکمتِ عملی کی اہمیت کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟
حسن ناہوم کے نزدیک یہی تضاد اصل مسئلے کی وضاحت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے کئی مرتبہ ایک باصلاحیت ترجمان رکھنے کو مکمل ابلاغی حکمتِ عملی رکھنے کے مترادف سمجھ لیا۔
اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر یا امریکی کانگریس سے ان کا خطاب عالمی توجہ ضرور حاصل کر سکتا ہے، لیکن یہ مختلف ممالک، زبانوں، پلیٹ فارمز اور مختلف نوعیت کے سامعین تک روزانہ قابلِ اعتماد انداز میں پہنچنے والے ترجمانوں کے وسیع نیٹ ورک کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
کسی ملک کا پورا قومی بیانیہ صرف ایک شخص کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔
حسن ناہوم کے نزدیک ابلاغ کا تصور صرف اسرائیل کا مؤقف زیادہ زور سے بیان کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
سیاست میں آنے سے پہلے وہ اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر چکی ہیں، جہاں وہ اسرائیلی کاروباری شخصیات، اعلیٰ انتظامی عہدیداروں، ماہرینِ تعلیم اور محققین کو پیچیدہ خیالات کو مؤثر اور قابلِ فہم پیغامات میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی تھیں۔
اس تجربے سے ان کا بنیادی سبق موجودہ شور شرابے کی سیاست میں کسی حد تک غیر متوقع ہے:مؤثر ابلاغ کا آغاز بولنے والے سے نہیں بلکہ سننے والے سے ہوتا ہے۔
انہوں نے ڈیوڈ کوہن سے کہا: ’’یہ اس بارے میں نہیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، بلکہ اس بارے میں ہے کہ آپ کس سامعین سے بات کر رہے ہیں۔‘‘
تاہم حسن ناہوم نے واضح کیا کہ اس کا مطلب خوشامد کرنا یا لوگوں کو صرف وہی بتانا نہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ کسی مخصوص سامعین کے لیے کیا اہم ہے، وہ کس زبان اور انداز کو قبول کرتا ہے اور کسی موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش سے پہلے وہ کس ذہنی مقام پر کھڑا ہے۔
ان کے الفاظ میں: ’’دوسرے لفظوں میں، معاملہ آپ کا نہیں، ان کا ہے۔‘‘
یہی شاید اسرائیل کی عوامی سفارت کاری پر ان کی تنقید کا سب سے اہم پہلو ہے۔
اسرائیل کی ابلاغی ناکامیوں پر ہونے والی زیادہ تر بحث تعداد اور رفتار کے گرد گھومتی ہے۔ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ زیادہ ترجمان کیوں نہیں ہیں؟ مخالف دعووں کا جواب زیادہ تیزی سے کیوں نہیں دیا جاتا؟ سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر ایک فریق زیادہ مؤثر کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کوئی مخصوص انٹرویو خراب کیوں ہو گیا؟
یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن حسن ناہوم کی دلیل اس سے زیادہ بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
صرف زیادہ ترجمان مقرر کر کے ایک ہی پیغام کو بار بار دہرانا لازماً بہتر ابلاغ پیدا نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک بہترین انداز میں کی گئی تقریر بھی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی اگر اسے بنیادی طور پر اس بات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہو کہ مقرر کیا کہنا چاہتا ہے، نہ کہ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ مخصوص سامعین کیا سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔
اس لحاظ سے اسرائیل کا بیانیاتی مسئلہ شاید صرف بولنے کا نہیں بلکہ سننے کا مسئلہ بھی ہے۔
حسن ناہوم نے یہ سبق یروشلم سٹی کونسل کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران سیکھا۔
روایتی انداز میں مختلف مقامات پر جا کر تقریریں کرنے کے بجائے انہوں نے جسے ’’لسننگ ٹور‘‘ یعنی ’’سننے کا دورہ‘‘ قرار دیا، وہ شروع کیا۔
وہ مختلف اجتماعات میں جاتیں، لوگوں سے سوالات کرتیں اور انہیں اپنی بات کہنے کا موقع دیتیں۔ بعض اوقات، ان کے مطابق، وہ کسی نشست سے یہ محسوس کرتے ہوئے واپس آتیں کہ انہوں نے خود تقریباً کچھ بھی نہیں کہا، لیکن بعد میں لوگوں کو یہ کہتے سنتیں کہ وہ بہت متاثر کن تھیں۔
انہوں نے پوچھا:آخر میں نے کیا کیا؟
ان کا جواب تھا: ’’میں نے ان کی بات سنی۔ میں نے یہ دکھاوا نہیں کیا کہ میں انہیں سن رہی ہوں۔ میں نے حقیقت میں ان کی بات سنی۔‘‘
حسن ناہوم نے سننے کو ایک ’’جادو کی چھڑی‘‘ قرار دیا جسے سیاسی اور کاروباری رہنما اکثر استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
یہاں داخلی سیاست کے لیے ایک واضح سبق موجود ہے، لیکن اسرائیل کو7اکتوبر کے بعد درپیش بیانیے کی جنگ کے لیے بھی یہی سبق اہم ہے۔
ابلاغ صرف اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مضبوط مقدمہ پیش کرنے کی صلاحیت کا نام نہیں۔ یہ اس شخص کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے جو پہلے سے آپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔
وہ کیا جانتا ہے؟ اسے کس چیز پر اعتماد نہیں؟ اس کی اخلاقی اور سیاسی زبان کیا ہے؟ اور وہ کن مفروضوں کے ساتھ گفتگو میں داخل ہو رہا ہے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل کو اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے یا ایسے دلائل سے گریز کرنا چاہیے جو بعض لوگوں کو ناپسند ہوں۔ اس کے لیے اس سے زیادہ مشکل چیز درکار ہے:یہ تسلیم کرنا کہ قائل کرنا اور صرف اپنے خیالات کا اظہار کرنا ایک ہی چیز نہیں۔7اکتوبر کی صبح جب حسن ناہوم نے بی بی سی کا فون اٹھایا تو اسرائیل کو کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو فون کا جواب دے سکے۔
تقریباً تین سال بعد اصل چیلنج یہ ہے کہ جب کوئی فون اٹھائے تو اس کے پیچھے ایک وسیع، منظم اور طویل المدت ابلاغی حکمتِ عملی بھی موجود ہو۔
ماخذ:دی ایلگیمائنر،20اگست 2026

