گورنر کیتھی ہوچل کا ظہران ممدانی کو مشورہ، اسرائیل کے بجائے نیویارک کے عوامی مسائل پر توجہ دیں
نیویارک: ریاست نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق معاملات اور خارجہ پالیسی کے بجائے ان بنیادی شہری مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دیں جن کے لیے نیویارک کے عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے۔
گورنر کیتھی ہوچل نے یہ بات نیویارک ٹائمز کو20اگست2026کے قریب دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی۔ ان سے ممدانی کے اسرائیل مخالف بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا، خصوصاً گزشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک وسیع پیمانے پر دیکھی جانے والی ویڈیو کے بارے میں، جس میں ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کرنے سے متعلق اپنی پوزیشن بیان کی تھی۔ ممدانی نیتن یاہو کو متعدد مواقع پر جنگی مجرم قرار دے چکے ہیں۔
ہوچل نے اس معاملے پر براہ راست سیاسی محاذ آرائی کے بجائے نیویارک کے شہری مسائل کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ممدانی کی توجہ ’’شہر کی حکومت کے روزمرہ کاموں‘‘ پر مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں ان کے خیال میں میئر کی بنیادی توجہ ہونی چاہیے۔
’’اسرائیل کے بجائے نیویارک کے مسائل حل کریں‘‘
ہوچل نے کہا کہ ممدانی کو اپنی توجہ نیویارک کے ان مسائل پر مرکوز رکھنی چاہیے جن کے حل کے وعدوں کی بنیاد پر انہیں ووٹ ملے۔ انہوں نے بچوں کی نگہداشت کے اخراجات میں کمی، بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کی رفتار بہتر بنانے اور مزید مکانات کی تعمیر کو دونوں کے درمیان مشترکہ ترجیحات قرار دیا۔
ان کے مطابق شہر کی حکومت کے ’’بلاکنگ اینڈ ٹیکلنگ‘‘ یعنی روزمرہ انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلانا میئر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہوچل نے اشارہ دیا کہ نیویارک کے شہریوں کو بہتر عوامی خدمات، سستی رہائش، بچوں کی نگہداشت اور بہتر ٹرانسپورٹ جیسے براہ راست مسائل پر نتائج درکار ہیں۔
نیتن یاہو کی گرفتاری کا فیصلہ میئر کا اختیار نہیں
انٹرویو کے تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ نیتن یاہو کو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ نیویارک سٹی کے میئر کے اختیار سے متعلق ایک پیچیدہ قانونی اور وفاقی معاملہ ہے۔ ممدانی بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکم کی بنیاد پر ان کی گرفتاری کی حمایت کریں گے۔
ممدانی کا یہ مؤقف اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت، یعنی ICC، کا رکن ملک نہیں ہے۔ تاہم اس معاملے میں امریکی وفاقی قانون، عدالت کے دائرۂ اختیار اور میئر کے اختیارات الگ الگ قانونی سوالات ہیں۔ نیویارک سٹی کے میئر کو اپنی سطح پر بین الاقوامی تعلقات یا امریکی خارجہ پالیسی طے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
گورنر ہوچل کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ نیویارک کے میئر کو ان معاملات میں اپنی سیاسی توانائی صرف کرنے کے بجائے شہر کے ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے جنہیں حل کرنے کا مینڈیٹ انہیں شہریوں نے دیا ہے۔
ممدانی کے بڑے انتخابی وعدے
ظہران ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دیتے ہیں اور ان کی انتخابی مہم میں نیویارک کے شہریوں کے لیے کئی بلند بانگ وعدے شامل رہے ہیں۔ ان میں مفت مقامی پبلک ٹرانسپورٹ، مفت چائلڈ کیئر، کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے شہر کے کرایہ داروں کے لیے رینٹ فریز، کم قیمت اشیا کی فراہمی کے لیے میونسپل گروسری اسٹورز اور دولت مند افراد پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
یہی وہ وعدے ہیں جن کی تکمیل اب ان کے سیاسی ایجنڈے کا اہم امتحان سمجھی جا رہی ہے۔ گورنر ہوچل کے حالیہ تبصرے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ میئر کو انتخابی مہم کے وعدوں کو عملی حکومتی اقدامات میں تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ممدانی کا نیتن یاہو سے متعلق مؤقف
ظہران ممدانی کئی مرتبہ یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکم کے مطابق انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ یہ بیان ان کی خارجہ پالیسی سے متعلق نمایاں ترین سیاسی پوزیشنز میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم اس معاملے پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ نیویارک سٹی کے میئر کی حیثیت سے ممدانی کے پاس وفاقی حکومت اور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات میں کتنے اختیارات ہیں۔ امریکا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے تعلقات کی پیچیدگی بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔
سیاست اور شہری ذمہ داری کے درمیان توازن
ممدانی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی کے حساس معاملات پر بیانات دینے کے بجائے انہیں ان وعدوں پر توجہ دینی چاہیے جنہوں نے ان کی انتخابی مہم کو نمایاں بنایا۔ دوسری جانب ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ نیویارک جیسے عالمی شہر کے میئر کے لیے بین الاقوامی معاملات پر رائے دینا بھی سیاسی اظہار کا حصہ ہے۔
ہوچل کی یہودی مخالف تعصب کے خلاف سخت پوزیشن
گورنر کیتھی ہوچل نے اسی انٹرویو میں یہودی مخالف تعصب کے خلاف اپنے سخت مؤقف کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کے سام دشمن تعصب کے خلاف پوری قوت سے کھڑی ہوں گی۔ ہوچل اسرائیل کی عمومی طور پر مضبوط حامی رہی ہیں، اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت کر چکی ہیں اور نیویارک کی یہودی برادری کے تحفظ کے لیے اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
ماضی میں بھی ہوچل نے ممدانی کے بعض سخت اسرائیل مخالف بیانات سے خود کو الگ رکھا ہے۔ ان کے حالیہ تبصرے تاہم ایک سخت سرزنش کے بجائے ایک نسبتاً نرم عوامی مشورے کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
دونوں کے درمیان سیاسی شراکت داری برقرار
ہوچل اور ممدانی کے درمیان ٹیکس، نظریاتی معاملات اور خارجہ پالیسی سمیت کئی امور پر اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں کے درمیان سیاسی تعاون بھی جاری ہے۔ ہوچل نے میئر کے لیے ممدانی کی حمایت کی تھی جبکہ ممدانی بعد میں گورنر کی دوبارہ انتخابی مہم میں ان کی حمایت کر چکے ہیں۔
ممدانی کے اسرائیل سے متعلق بیانات پر بعض یہودی رہنماؤں کی جانب سے تنقید اور نیویارک میں سام دشمن واقعات میں اضافے کے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ہوچل کو ریپبلکن امیدوار بروس بلیکن کا بھی سامنا ہے، جو ممدانی کے ساتھ ان کے سیاسی تعلق پر تنقید کر چکے ہیں۔
ہوچل کے سابقہ مشورے
ماضی میں بھی ہوچل ممدانی کو مشورہ دیتی رہی ہیں کہ جرائم پر قابو رکھا جائے تاکہ یہ مسئلہ ان کے سیاسی ایجنڈے کو نقصان نہ پہنچائے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعمیری تعلق قائم کیا جائے اور حتیٰ کہ ذاتی زندگی کے لیے بھی وقت مختص کیا جائے، جس میں اہلیہ کے ساتھ وقت گزارنا شامل ہے۔
اصل امتحان نیویارک کے مسائل کا حل
گورنر ہوچل کے حالیہ مشورے کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ممدانی کو اسرائیل اور دیگر بین الاقوامی تنازعات کے بجائے نیویارک کے شہریوں کے روزمرہ مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ سستی رہائش، چائلڈ کیئر، عوامی ٹرانسپورٹ، جرائم پر قابو پانا اور انتخابی وعدوں کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کرنا ان کی میئر شپ کی کامیابی کا اصل پیمانہ بن سکتے ہیں۔

