امریکہ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ شروع کر دیا، مالیاتی محاذ کھول دیا گیا
واشنگٹن نے ایران کی باقی ماندہ معاشی زندگی کی شاہ رگیں کاٹنے کے لیے وسیع مالیاتی کارروائی کا آغاز کر دیا
امریکہ نے ایران کے خلاف ایک بڑے مالیاتی حملے کا آغاز کر دیا ہے جسے امریکی وزیر خزانہ
سکاٹ بیسنٹ نے کسی مخالف کے خلاف اب تک کی ’’سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔
اس مہم کا مقصد ایران کی باقی ماندہ معاشی زندگی کی شاہ رگوں کو نشانہ بنانا ہے، جس کا آغاز پیر کی صبح سے کیا گیا۔
بیسنٹ نے اپنے ایک بیان اور فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا کہ صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی مہم کے نتیجے میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے،
تقریباً100فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کی جا چکی ہیں اور ایران کا جوہری پروگرام بھی شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔
ان کے بقول، ’’اب ہم آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘‘
’’صبح ہوتے ہی اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو رہا ہے۔ ہمارا مقصد ان تمام معاشی ذرائع اور سہارا دینے والی
شاہ رگوں کو کاٹنا ہے جو اس آمرانہ نظام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ تہران تنہا رہ جائے۔‘‘
نئی امریکی مہم میں ایران کی تیل کی فروخت، مالیاتی لین دین اور تیسرے ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی
کسی بھی قسم کی اقتصادی معاونت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بیسنٹ کے مطابق جو ممالک، بینک،
شپنگ کمپنیاں اور دیگر ادارے تہران کے ساتھ کاروباری روابط جاری رکھیں گے، انہیں عالمی سطح پر شدید
مالیاتی دباؤ اور ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکہ اپنے تمام دستیاب نفاذی اختیارات استعمال کرے گا۔
بیسنٹ نے خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں واشنگٹن ہر متعلقہ ادارے،
قانونی اختیار اور دستیاب کارروائی کو استعمال کر سکتا ہے، جنہیں ماضی میں ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔
ایران کی سخت دھمکی
ایران نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ جو بھی ملک
امریکی اقتصادی مہم میں شامل ہوا یا اس کی حمایت کی، اسے ایران کے خلاف جنگی اقدام کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔
تہران نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اقتصادی دباؤ جاری رہا تو وہ خلیج فارس سے ہونے والی تمام
تیل کی برآمدات روک سکتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی ترسیل بھی شامل ہے۔
اس صورت میں عالمی توانائی کی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
فوجی کارروائی سے مکمل معاشی تنہائی کی جانب رخ
تجزیہ کار امریکی اقدام کو فوجی کارروائیوں سے مکمل معاشی تنہائی کی جانب ایک اہم تزویراتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
واشنگٹن اب ایران پر براہِ راست مزید بڑے فوجی حملوں کے بجائے مالیاتی دباؤ کے ذریعے تہران کی حکومت کو کمزور کرنے
کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی منڈیاں پہلے ہی ممکنہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ مختلف ممالک کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا
کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے ممکنہ فوائد امریکی جوابی پابندیوں اور مالیاتی کارروائی کے خطرات
سے زیادہ ہیں یا نہیں۔
سکاٹ بیسنٹ سے توقع ہے کہ وہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں امریکی اقدامات کے مکمل پیکیج کی تفصیلات پیش کریں گے۔
یہ اقتصادی مہم امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع میں تازہ ترین اور نمایاں اضافہ ہے۔
واشنگٹن کا اندازہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مالیاتی دباؤ ایران کی حکومت کو اس حد تک کمزور کر سکتا ہے
کہ اسے بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کیے بغیر ہی نظام کے خاتمے کے خطرے کا سامنا ہو جائے۔
تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور عالمی تیل کی ترسیل سے متعلق دھمکیوں نے اس حکمتِ عملی کے ممکنہ
عالمی اقتصادی اثرات کے بارے میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔

