نیو یارک ٹائمز پر اسلاموفوبیا کو سیاسی ہتھیار بنانے کا الزام، نفرت انگیز جرائم کے اعداد و شمار سے واضح فرق سامنے آگیا
ناقدین کا الزام ہے کہ نیو یارک ٹائمز اسلاموفوبیا کے خدشات کو اس انداز میں نمایاں کر رہا ہے جس سے یہودی مخالف نفرت انگیز جرائم کی کہیں زیادہ شرح پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نئی پالیسیوں کے ذریعے جامعات میں علمی آزادی کو ان کی منظوری اور وفاقی طلبہ امداد سے جوڑنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
واشنگٹن فری بیکن کی پیر کو شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ میں ایف بی آئی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہودی مخالف نفرت انگیز جرائم، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ ہیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق نیو یارک ٹائمز میں بعض اوقات مسلمانوں کے خلاف تعصب سے متعلق کوریج کی مقدار یہود مخالف تعصب اور سام دشمنی سے متعلق رپورٹنگ کے برابر یا اس کے قریب رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹائمز کے آرکائیو میں تلاش سے ’’anti-Jewish‘‘ کے 1,089 نتائج کے مقابلے میں ’’anti-Muslim‘‘ کے 1,012 نتائج سامنے آئے، جبکہ ’’antisemitism‘‘ کے 1,368 نتائج کے مقابلے میں ’’Islamophobia‘‘ کے 704 نتائج ملے۔
’’اسلاموفوبیا‘‘ کی اصطلاح کے استعمال پر تنقید
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹائمز کی بعض تحریروں میں ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی اصطلاح کو اسلام پسند انتہاپسندی، مسلم اکثریتی حکومتوں یا دہشت گردی کی حمایت پر ہونے والی تنقید کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں حالیہ مثال کے طور پر10اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیا گیا ہے جس کی سرخی تھی: ’’ٹرمپ ڈیموکریٹک امیدواروں کو ’جہادی‘ قرار دے کر اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہے ہیں‘‘۔ اس خبر میں صدر ٹرمپ کی وسط مدتی انتخابات سے متعلق بیان بازی کو ریپبلکن سیاست دانوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مبینہ بیانات کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت بھی الگ سے نیو یارک ٹائمز پر اسرائیل کو مسلسل منفی انداز میں پیش کرنے اور یہودی ریاست کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے ’’بلڈ لائبل‘‘ یعنی خون سے متعلق الزامات پر مبنی بیانیہ شائع کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔
یہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب7اکتوبر2023کے حماس حملوں اور اس کے بعد ہونے والے تنازعات کے تناظر میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی سام دشمنی کی میڈیا کوریج پر بحث جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور پالیسی میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ تعصب کے دعوے بھی زیر بحث ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے علمی آزادی کو جامعات کی منظوری اور وفاقی امداد سے جوڑ دیا
دوسری جانب امریکی محکمہ تعلیم نے بدھ کو ایسی مجوزہ قواعد و ضوابط پیش کیے ہیں جن کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو منظوری دینے والے اداروں کے لیے کالجوں اور جامعات میں علمی آزادی کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
اس اقدام کے نتیجے میں آزادیِ اظہار کے مستقل اور یکساں تحفظ کو سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی وفاقی طلبہ امداد تک رسائی کی ایک اہم شرط بنایا جا سکتا ہے۔
مجوزہ ضابطے کے تحت منظوری دینے والے اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں علمی آزادی سے متعلق پالیسیاں واضح طور پر مرتب ہوں اور فیکلٹی کے تمام ارکان پر، خواہ ان کی ملازمت کی نوعیت کچھ بھی ہو، نسل یا دیگر ناقابلِ تغیر خصوصیات، نقطۂ نظر یا نظریاتی وابستگی سے قطع نظر یکساں طور پر نافذ کی جائیں۔
مجوزہ قواعد میں مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے بعض استثنیٰ بھی شامل ہیں جبکہ منظوری دینے والے اداروں کو ایسے تنوع سے متعلق تقاضے عائد کرنے سے بھی روکا جائے گا جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ نسلی امتیاز کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔
اگر کوئی تعلیمی ادارہ محفوظ اظہارِ رائے کی بنیاد پر اپنے طلبہ یا اساتذہ کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اسے اپنی تعلیمی منظوری سے محرومی کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پیل گرانٹس اور وفاقی طلبہ قرضوں سمیت اہم وفاقی مالی معاونت کے لیے نااہل ہوسکتا ہے۔
یہ تجویز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر 14279 کے تحت منظوری کے نظام میں اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ہونے والے مذاکراتی قواعد سازی کے عمل میں بھی نظریاتی تنوع، تحقیق کی سالمیت اور طلبہ کے نتائج کو نظریاتی ایجنڈوں پر ترجیح دینے پر زور دیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ تعلیم کے انڈر سیکریٹری نکولس کینٹ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد اعلیٰ تعلیم پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے، جس کے لیے منظوری دینے والے اداروں کو ’’تقسیم پیدا کرنے والے اور غیر قانونی نظریاتی ایجنڈوں‘‘ کے بجائے حقیقی نتائج پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
مجوزہ قواعد پر عوامی رائے دینے کی مدت 21 ستمبر تک جاری رہے گی۔
حامی اور ناقدین کیا کہتے ہیں؟
اس اقدام کے حامی اسے منظوری کے نظام میں موجود اجارہ داریوں اور جامعات میں آزادیِ اظہار پر عائد پابندیوں کے خلاف ایک دیرینہ اور ضروری اقدام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کو اپنے نظریات اور خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہونی چاہیے، خواہ وہ خیالات سیاسی طور پر مقبول ہوں یا نہ ہوں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے وفاقی حکومت نجی جامعات پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتی ہے اور تعلیمی اداروں کی انتظامی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نظریاتی کشمکش
یہ دونوں پیش رفتیں امریکہ میں میڈیا کے بیانیوں، جامعات میں آزادیِ اظہار اور تنقید کے قانونی و سماجی دائرہ کار سے متعلق بڑھتی ہوئی نظریاتی اور ثقافتی کشمکش کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک جانب میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مختلف نوعیت کے نفرت انگیز جرائم کو کس تناسب سے نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب جامعات میں نظریاتی تنوع اور آزادیِ اظہار کے تحفظ کو وفاقی مالی معاونت اور تعلیمی منظوری کے نظام سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماخذ: فراہم کردہ رپورٹ اور حوالہ شدہ معلومات

