• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ظالموں کو ایسا کون بناتا ہے؟
کراس پوسٹ

ظالموں کو ایسا کون بناتا ہے؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 25, 2026Updated:اگست 25, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
کراس پوسٹ

ظالموں کو ایسا کون بناتا ہے؟

تحریر: یاسر جواد

یاسر جواد

کورٹ روم کی کارروائی پر مبنی کئی فلمیں بہت ہی متاثر کن ثابت ہوئیں، کم ازکم میرے لیے۔ الیگزینڈراز پروجیکٹ جیسی اُتھلی اور انتقامی قسم کی فلمیں آپ کو بس تسکین دیتی ہیں۔ لیکن ججمنٹ اَیٹ نیورمبرگ، A Few Good Men اور 12 اَینگری مَین تین نہایت متاثر کن فلمیں تھیں جو بہت جھنجوڑ دینے والے سوالات اُٹھاتی ہیں۔

12 اَینگری مَین کی تعریف کیا کرنی، وہ مدح سرائی سے بالاتر ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی خصوصیت پیدا کرنے کے متعلق ہے جو کم ازکم دنیا کا ایک ملک اور اُس کے پروردہ لوگ کبھی اپنے اندر پیدا نہیں کر پائیں گے⁦:⁩یعنی Reasonable Doubt — معقول شک۔

Reasonable Doubt — معقول شک

باقی کی دونوں فلمیں غور کرنے پر مائل کرتی ہیں کہ انسان کے اندر کی بہیمیت اور ظلم پسندی کو جگانے والے معاشرے پھر خود بھی اُنھیں کنٹرول نہیں کر پاتے اور بے بس ہو جاتے ہیں۔

ججمنٹ اَیٹ نیورمبرگ (1961ء⁦)⁩میں تین ججوں کا ایک بنچ دوسری عالمی جنگ کے بعد نازی دور میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ہٹلر نے کیا صرف یہ تھا کہ انسان کے تہذیبی عمل کی ہلکی سی پرت تلے سوئے ہوئے ظالمانہ جذبات کو ننگا کر دیا تھا۔

اے فِیو گُڈ مَین میرے پسندیدہ جیک نکلسن کی ہے۔ اِس فلم کے بعد آپ سپاہیوں اور فوجیوں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ کیا مردانگی، جرأت، شجاعت، ہیرو ازم اور جان کی پروا نہ کرنے کے بغیر ہمارے عام تصورات ہی اُنھیں ایسا نہیں بناتے جیسے وہ ہیں؟

کیا جرأت و شجاعت یا مردانگی کا اظہار کرنے کے لیے عقل کا چھین لینا ضروری نہیں؟ فوجی نامی انسانوں کے ساتھ یہ کون کرتا ہے؟ قومی تفاخر اور عظمت کے گیت لکھنے والے شاعر؟ ہیرو ازم کی کہانیاں؟ لڑکیاں کیسے مکھیوں کی طرح فدا ہوتی ہیں یونیفارمز پر⁦!⁩سینے پر لگے تمغے اُسی تاثر کو بڑھاتے ہیں جو کوئی بیبون مادہ کی خاطر لڑتے ہوئے چھاتی چوڑی کر کے نمایاں کرتا ہے۔

ہم اپنے معاشرے کو تبدیل نہیں کر سکتے، زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ اِس کی تفہیم کے ذریعے خود کو بچا کر رکھیں۔

ہم اِس وقت نازی قسم کے معاشرے میں ہی رہ رہے ہیں جس کا پوسٹ مارٹم ججمنٹ اَیٹ نیورمبرگ میں کیا گیا ہے۔ اور ہم ویسے ہی لوگوں کے تابع ہیں جو اے فیو گُڈ مَین میں جیک نکلسن کی زبان سے کہتے ہیں⁦:⁩تم سمجھتے ہو کہ سکون کی نیند سوؤ گے اور میں بندوق پکڑ کر پہرہ دوں گا تو میں بھی تمھارے جیسا ہی رہوں گا؟

ششکا ہم میں سے کس کو نہیں پسند؟ لیکن اپنا جام پیتے ہوئے اُسے سنبھالنے کی تربیت ہمیں مہذب بناتی ہے۔ ششکا بھی سنبھالنے کی چیز ہے۔ مرعوب کرنے اور ڈرانے کی خواہش ہماری قدیم ترین جبلت ہے۔

علاقے کا تھانیدار بھی ہمارا ’’دوست‘‘ بن جائے تو ہم چودھر جمانے سے باز نہیں آتے۔ اپنے کسی بڑے افسر کے دوست کے چپڑاسی پر بھی رعب جمانا اپنا فرض سمجھنے لگتے ہیں۔

ہمارا ایک دانشور دوست اِس کام میں ماہر تھا۔ ایک مشترکہ دوست انگلش کے ایک اخبار کا ایڈیٹر بن گیا تو اُس کا تعارف کسی سے کرواتے ہوئے حد درجہ تحقیر کیا کرتا تھا۔ ’’ایہہ ایڈیٹری کردا اے۔‘‘ یعنی ایڈیٹر کو ایڈیٹری کرنے والا کہنا خاص مفہوم رکھتا اور اُس کے خود کو اعلیٰ سمجھنے پر دلیل ہے۔

کسی کا کوئی رشتے دار فوج یا پولیس میں اعلیٰ عہدے پر پہنچ جائے تو اُس کا نام ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کی بجائے وہ میجر یا کرنل یا ڈی آئی جی کے نام سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اگر وہ کبھی آپ کے گاؤں میں آ جائے تو فخر سے پھولے نہیں سماتے، کیونکہ لوگ سفارش کروانے کے لیے آپ کے پاس آنے لگتے ہیں۔ اور تو اور، نادرا کے کلرک بھی مان نہیں۔

اِن اسلحہ لہرانے والے ’’ظالموں‘‘ کو ہماری خواہشات مجسم کرتی ہیں۔ ہم بھی ویسا ہی بننا چاہتے ہیں۔ ہمارا تصورِ ہیرو اور تصورِ بہادری ہی تو اُن کو بندوق پکڑ کر خاردار تاروں کے قریب کھڑا ہونے پر مجبور کرتا ہے۔

اور ہم اُنھیں قانون کی نظر سے دیکھتے بھی نہیں، کیونکہ ہمارے ہاں قانون نام کی چیز پنپ نہیں سکی۔ لہٰذا ہر دوسرا آدمی لعنت بھیجتا، یزید کی تشبیہ استعمال کرتا اور طاقت وروں کو شرم دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اِن سب کی طرح ظالم اور مظلوم بھی اخلاقی تصورات اور اصلاحات ہیں۔

نوٹ:
اگر کبھی ہمارے معاشرے کے جنسی اور اخلاقی رجحانات پر کوئی سٹڈی انجام دی جائے تو شاید آپ حیران رہ جائیں۔ میرے پاس چند سٹوریز ہیں، جنھیں بیان کرنے پر آپ مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ ہمارا ہر وقت اخلاقیات کا پرچار کرنا اِن پردوں کو گرائے رکھنے پر اصرار ہے۔

Yasir Jawad / یاسر جواد

کراس پوسٹ:
یہ مضمون یاسر جواد کی

ویب سائٹ

سے کراس پوسٹ کیا جا رہا ہے۔

ڈس کلیمر

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

یاسر جواد
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنیو یارک ٹائمز پر اسلاموفوبیا کو سیاسی ہتھیار بنانے کا الزام
Next Article ایران نے مخالفین کے خلاف جنگ جرائم پیشہ گروہوں کو آؤٹ سورس کر دی
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.