میئر ممدانی کے وعدے؛ سب پانی دا بلبلہ
یہودیوں و مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں ریکارڈ اضافہ تشویش ناک ہے
پاپولزم اور قدامت پسند دو لہروں کے زمانے میں نیویارک جیسے عالمگیر شہر کا ممدانی جیسے نوجوان ڈیموکریٹ کا منتخب ہونا واقعی ایک تاریخی معجزہ اور کئی لوگوں کے لیے ایک حادثہ ہے۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ ممدانی کے شہر کے میئر منتخب ہونے سے اینٹی سیمیٹک تشدد و منافرت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور ایسے کئی واقعات ہیں جن کا بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلق ممدانی کی سلیکٹیڈ پالیسیوں اور بیانیے، یا مجھے کہنے دیجیے، انتخابی نعرے بازی سے ہے، جو تاحال جاری ہے۔
جبکہ ایک برس ہونے کو ہے، ظہران ممدانی کے نیویارک شہر کا میئر منتخب ہونے والا ہنی مون کب کا ختم ہو بھی چکا۔
نیویارک کے سابق میئر اور گورنر اینڈریو کومو کے والد ماریو کومو نے، جو خود بھی گورنر تھے، کہا تھا:
”انتخابی وعدے شاعری ہوتے ہیں اور اصلی حکومت نثر۔“
— ماریو کومو
ممدانی اپنی وعدہ وفائی اور بلا تفریق خدمت میں ایک خراب نثر نگار واقع ہوئے ہیں۔
صرف ہم نہیں کہتے۔ اب تو ایک ہی ڈیموکریٹک پارٹی کی کشتی پر سوار گورنر کیتھی ہوچل بھی ببانگِ دہل کہہ رہی ہیں۔
ممدانی کا سب سے بڑا ووٹ بٹورنے والا نعرہ ”افورڈیبلٹی“ تھا، جس پر بطور نیویارکر اور ڈیموکریٹک ورکنگ فیملی کے ہم نے بھی سبز باغوں کے خوابوں میں گھرے ووٹ دیا تھا اور اس کے انتخاب کے جشن میں بھی شریک تھے۔
لیکن ظہران ممدانی کے منتخب آنے کی شاید سب سے پہلی شکار یاcasualtyان کی ”افورڈیبلٹی“ ہوئی، جس کی ناقد گورنر ہوچل روزِ اول سے رہی ہیں۔
میں ہر روز نیویارک کی پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے شوق سے سفر کرتا ہوں اور کئی ایسے نیویارکر دیکھتا ہوں جو بس یا ٹرین کا یک طرفہ کرایہ بھی ادا نہیں کر سکتے، اور وہ دن جس کا وعدہ ظہران ممدانی نے میرے نیویارک کے میئر شپ کے انتخابات کے دوران کیا تھا، اب تک نہیں آیا۔
اور سب سے بڑی بات یہ بھی کہ وہ یہود دشمنی، یا اینٹی سیمیٹزم، کی بیخ کنی کا وعدہ کرکے آئے تھے۔ وہ نیویارک شہر کے میئر منتخب ہو کر آئے۔ وہ بلا تفریق و امتیاز شہر کے ہر ذی نفس کے میئر ہیں، نہ کہ ایک فرقے، عقیدے یا لاعقیدے کے فوٹو سیشنز کے۔
نیویارک، جس کا مطلب میں اصل امریکہ نکالتا ہوں۔
ظہران ممدانی ایسا لگتا ہے اب تک انتخابی بخار، یا انتخابی قالب، یا موڈ میں ہیں۔ نیز وہ اب تک ایسے انتخابات، ایسا لگتا ہے، اسرائیل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اور وہ یہودیوں کے میئر نہیں، حالانکہ کافی یہودیوں کے ووٹ سے بھی میئر منتخب ہوئے ہیں۔
نفرت انگیز جرائم میں اضافہ
نیویارک پولیس، جو میئر ظہران ممدانی کی باگ ڈور میں ہے، کا ڈیٹا کچھ اس طرح بتاتا ہے:
2026ء کے نمایاں واقعات
- بورو ہارک پلے گراؤنڈ میں جنوری سے اب تک 57 سواستیکا نشان اسپرے پینٹ کرنے والی غنڈہ گردی کے واقعات ہوئے۔
- بروکلین کے کراؤن ہائٹس میں چباد لباوچ یہودی عالمی مرکز کی دیوار سے ایک شخص کے کار ٹکرانے کے واقعے کی نیویارک پولیس نفرت انگیز جرم کے طور پر تفتیش کر رہی ہے۔
- فقط23جولائی کو اپر ویسٹ سائیڈ میں سینیگاگ کے باہر کھڑے یرملک پہنے ہوئے ایک یہودی اور ایک ایشیائی شخص پر چاقو زنی کی دو انتہائی سنگین واردات ہوئی، جب ایک چاقو سے مسلح حملہ آور نے ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے ہوئے ان دو نہتے افراد پر حملہ کیا۔
- وسطی شہر نیویارک، یا مڈ ٹاؤن، کی مرکزی یہودی عبادت گاہ، یا سینیگاگ، میں دورانِ عبادات ایک شخص نے ہنگامہ کرکے افراتفری مچا دی، جب اس نے ایک خاتون عبادت گزار پر حملہ کیا۔
اور، اور…
نیویارک شہر کی مسلمان کمیونٹی کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں 62.5 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جب سے یکم جنوری2026ء کو ظہران ممدانی نے شہرِ نیویارک کے میئر کی کرسی پر مسند نشین ہوئے ہیں۔
تو واقعی میئر عزت مآب کو شہرِ نیویارک پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ان کو اسرائیل کی فکر لاحق رہے۔

