یوکرین کی استقامت کو دنیا بھر میں خراجِ تحسین؛ یومِ آزادی اور یومِ پرچم منایا گیا
روسی جارحیت کے باوجود آزادی، خودمختاری اور قومی شناخت کے دفاع کا عزم مزید مضبوط
یوکرین نے23اگست کو یومِ سرکاری پرچم جبکہ24اگست کو یومِ آزادی منایا۔ یہ دونوں مواقع اب عالمی سطح پر ایک ایسی قوم کے عزم، حوصلے اور مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں جو مسلسل جارحیت کے باوجود اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی شناخت کے دفاع سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
یومِ آزادی1991ء کے اس تاریخی اعلان کی یاد تازہ کرتا ہے جس کے ذریعے کئی دہائیوں کی سوویت حکمرانی کے بعد یوکرین کی آزادی بحال ہوئی۔ دوسری جانب یومِ سرکاری پرچم نیلے اور زرد رنگ کے قومی پرچم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، جو اتحاد، امید اور مزاحمت کی زندہ علامت بن چکا ہے۔ دونوں دن مل کر قومی جذبے کا ایسا اظہار پیش کرتے ہیں جس کی بازگشت یوکرین کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔
نیلا اور زرد پرچم اب صرف ایک قومی نشان نہیں، بلکہ آزادی، امید، مزاحمت اور قومی شناخت کے تحفظ کی علامت بن چکا ہے۔
یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر خطوں کے شہروں میں یوکرینی برادریوں اور ان کے حامیوں نے قومی پرچم لہرائے، شمعیں روشن کیں، ثقافتی پروگرام منعقد کیے اور اظہارِ یکجہتی کے اجتماعات کیے۔ سیاسی رہنماؤں، عالمی اداروں اور عام شہریوں نے یوکرین کے ساتھ حمایت کے پیغامات جاری کیے اور اس امر پر زور دیا کہ یوکرین کی جدوجہد صرف اپنی بقا کے لیے نہیں بلکہ حقِ خود ارادیت اور آمرانہ قبضے کے خلاف مزاحمت کے اصولوں کے لیے بھی ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور دیگر حکام نے ان مواقع پر جنگ کی انسانی قیمت کو اجاگر کرتے ہوئے فوجیوں، شہریوں، طبی کارکنوں، رضاکاروں اور بے گھر خاندانوں کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو انتہائی مشکل حالات میں بھی ملک کے دفاع اور روزمرہ زندگی کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
نیلا اور زرد پرچم محاذ پر موجود فوجی پوزیشنوں، دوبارہ تعمیر کی جانے والی عمارتوں اور بیرونِ ملک پناہ گزین یوکرینیوں کے اجتماعات میں بھی لہراتا نظر آیا۔ ہر مقام پر یہ پرچم ایک خاموش اعلان بن کر ابھرا کہ یوکرین قائم ہے اور اپنی شناخت کے ساتھ زندہ ہے۔
جنگ کے بعد علامت کی معنویت میں اضافہ
مبصرین کے مطابق روس کی جانب سے مکمل پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد اگست کے ان دونوں دنوں کی علامتی اہمیت مزید گہری ہو گئی ہے۔ جو مواقع کبھی محض تاریخی یادگاروں کے طور پر منائے جاتے تھے، وہ اب یوکرینی عوام کی عملی اور زندہ مزاحمت کا اظہار بن چکے ہیں۔
وہ پرچم جو کبھی نئی بحال ہونے والی آزادی کی علامت تھا، اب شناخت، زبان، ثقافت اور سرزمین سے دستبردار نہ ہونے کے عزم کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ یومِ آزادی کی تقاریر اور تقریبات میں ایک ہی پیغام بار بار نمایاں ہوتا ہے:
آزادی کسی کی طرف سے عطا نہیں کی جاتی؛ اسے ہر روز دفاع کے ذریعے محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔
عالمی حمایت کا اعادہ
اس سال دنیا بھر سے آنے والے خراجِ تحسین میں بھی یہی پیغام نمایاں رہا۔ یورپی دارالحکومتوں، امریکا، کینیڈا اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے جاری بیانات میں یوکرین کے لیے فوجی، اقتصادی اور انسانی امداد کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
عالمی برادری نے شدید دباؤ کے باوجود جمہوری اداروں، ثقافتی زندگی اور سول سوسائٹی کو برقرار رکھنے کی یوکرینی عوام کی صلاحیت کو بھی سراہا۔ یوکرینی موسیقی، ادب اور فنونِ لطیفہ پر مشتمل ثقافتی تقریبات نے اس تصور کو مزید مضبوط کیا کہ یوکرین کی شناخت کو صرف جنگ کے تناظر میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
بہت سے یوکرینی شہریوں کے لیے یہ مسلسل دو دن محض تقریبات نہیں بلکہ یاد اور تجدیدِ عہد کا موقع ہیں۔ یہ دن جنگ میں جانیں گنوانے والوں کو یاد کرنے، بے دخلی اور تباہی کی مشکلات کو تسلیم کرنے اور ایک آزاد ملک کی تعمیرِ نو کے اجتماعی عزم کو دہرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قومی پرچم، جو بظاہر سادہ ڈیزائن رکھتا ہے لیکن اپنے اندر گہری معنویت سموئے ہوئے ہے، آج بھی اس عزم کی سب سے نمایاں علامت کے طور پر لہرا رہا ہے۔
2026ء کی یومِ آزادی اور یومِ سرکاری پرچم کی تقریبات کے اختتام پر ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے: یوکرینی عوام کی استقامت نے آزادی کے تصور کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
یوکرین کی آزادی کی جدوجہد کا آغاز1991ء میں ضرور ہوا تھا، لیکن اس کی حفاظت اور بقا کی جنگ آج بھی جاری ہے۔ نیلا اور زرد پرچم اسی مسلسل عزم، قربانی اور امید کی علامت بن کر دنیا کے سامنے لہرا رہا ہے۔

