شام کو ایک اور موقع؛ امریکا نے اسے دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کی فہرست سے نکال دیا
مارکو روبیو نے شام کی ’State Sponsor of Terrorism‘ حیثیت ختم کر دی،HTSبھی خصوصی دہشت گرد فہرست سے خارج
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کو ایک نیا موقع دینے کے وژن میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے24اگست2026کو شام کی State Sponsor of Terrorism (SST) حیثیت باضابطہ طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ فیصلہ کانگریس کو لازمی طور پر45روزہ نوٹیفکیشن کی مدت مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسی موقع پر حیات تحریر الشام (HTS) کو بھی Specially Designated Global Terrorist (SDGT) کی حیثیت سے خارج کر دیا گیا۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات شام کے عوام کو خوشحالی کی جانب ایک راستہ فراہم کرنے کی کوشش میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اور تاریخی قدم ہیں۔
’’سرمایہ تنازع کی جگہ لے سکتا ہے، کاروبار تنہائی کی جگہ لے سکتا ہے اور تجارت بدامنی پر غالب آ سکتی ہے۔‘‘
شام کے لیے ایک نئی راہ
امریکی مؤقف کے مطابق طویل عرصے تک شام کو دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینے والی حیثیت ایک ایسی دیوار بنی رہی جس نے شامی عوام کو اپنے ملک کی تعمیرِ نو کے لیے درکار سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور مواقع سے دور رکھا۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اب اس رکاوٹ کے خاتمے سے شام کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے، اقتصادی بحالی اور عالمی معیشت میں دوبارہ انضمام کی راہ ہموار ہوگی۔
امریکی بیان کے مطابق یہ محض ایک قانونی یا انتظامی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ امریکا اور شام کے درمیان ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے، جس کی بنیاد مشترکہ مفادات، باہمی سلامتی اور مشترکہ خوشحالی پر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کا تصور — ’’سکیورٹی پہلے، خوشحالی بعد میں‘‘ — عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
شام پر عائد پابندیوں میں بڑی نرمی
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ایک برس کے دوران شامی عوام کے فائدے کے لیے پابندیوں میں نرمی کے سلسلے میں غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔
جون2025کے تاریخی صدارتی حکم نامے، ’’Providing for the Revocation of Syria Sanctions‘‘ نے شام کے خلاف پابندیوں میں نرمی کے عمل کو تیز کیا۔ اس کے تحت شام کے پابندیوں کے پروگرام اور شام سے متعلق قومی ہنگامی حالت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ شام سے متعلق مختلف پابندیوں اور دہشت گردی کی نامزدگیوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
امریکا کے مطابق یہ تمام اقدامات شامی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مثبت اقدامات اور مزید کیے گئے وعدوں کے اعتراف میں کیے گئے ہیں۔ صدر احمد الشرع کی قیادت میں شامی حکومت نے بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں سے مکمل طور پر دوری اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں
امریکی بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران شامی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں نومبر میں داعش کو شکست دینے والے عالمی اتحاد (Global Coalition to Defeat ISIS) میں باضابطہ شمولیت بھی شامل ہے۔
شام نے داعش، القاعدہ، حزب اللہ اور ایران سے وابستہ گروہوں کے دہشت گرد نیٹ ورکس کو متاثر کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بھی کارروائیاں کی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شام کیSSTحیثیت ختم کرنے اورHTSکیSDGTنامزدگی واپس لینے سے شام میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی راہ میں موجود آخری بڑی رکاوٹیں بھی دور ہوں گی، جس سے ملک کی اقتصادی بحالی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شمولیت کو فروغ ملے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق شام کی دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی والی حیثیت ختم کرنا صدر ٹرمپ کی شام کے عوام کو خوشحالی کی طرف لے جانے کی کوشش میں ایک اور اہم قدم ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق آئندہ مرحلہ اس موقع کو ایک ایسے مستقل عمل میں تبدیل کرنا ہے جس کے نتیجے میں شام میں امن، معاشی استحکام، نجی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی نظام میں دوبارہ شمولیت ممکن ہو سکے۔
پابندیوں اور برآمدی کنٹرول میں نرمی کی تفصیلات
امریکا نے شام کے لیے اب تک عائد پابندیوں اور برآمدی کنٹرول میں دی جانے والی سہولتوں کی تفصیلات کے لیے امریکی محکمہ تجارت، محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ Tri-Seal Advisory سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ شام کو عالمی اقتصادی نظام میں دوبارہ شامل کرنے اور اس کی تعمیرِ نو کے لیے سرمایہ، کاروبار اور تجارت کے مواقع پیدا کرنا اس نئی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

