• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » مین میں یہودی سمر کیمپ کے قریب فائرنگ؛ نیویارک پولیس کا یہودی اداروں کے تحفظ کا عزم
امریکہ

مین میں یہودی سمر کیمپ کے قریب فائرنگ؛ نیویارک پولیس کا یہودی اداروں کے تحفظ کا عزم

نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کا یہودی اداروں کے تحفظ کا عزم
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 25, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

امریکا⁦|⁩نفرت انگیز جرائم

یہودی سمر کیمپ کے قریب فائرنگ؛ سینکڑوں بچوں کو لاک ڈاؤن، واقعے میں مبینہ یہود مخالف تعصب کا شبہ

ریاست مین میں فائرنگ کے واقعے کے بعد⁦400⁩سے زائد کیمپرز اور عملہ حفاظتی حصار میں؛ نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کا یہودی اداروں کے تحفظ کا عزم

مین⁦/⁩نیویارک — اگست 2026 — عدالتی دستاویزات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ریاست مین میں ایک یہودی سمر کیمپ کے قریب مبینہ طور پر فائرنگ کے واقعے نے سینکڑوں بچوں اور عملے کو لاک ڈاؤن میں جانے پر مجبور کر دیا، جبکہ تفتیش میں ممکنہ یہود مخالف تعصب کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔

امریکی ریاست مین (Maine) میں ایک یہودی سمر کیمپ کے قریب مبینہ فائرنگ کے واقعے نے کیمپ میں موجود سیکڑوں بچوں اور عملے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ عدالتی ریکارڈ اور قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ممکنہ یہود مخالف تعصب کے شبہے کے ساتھ زیرِ تفتیش ہے۔

واقعہ 7 اگست 2026 کی شام پیش آیا، جب بیلگریڈ، مین کے رہائشی⁦36⁩سالہ نیتھن آر ہیویٹ نے مبینہ طور پر ایک⁦.22⁩کیلیبر نیم خودکار رائفل سے تقریباً⁦20⁩گولیاں چلائیں۔

فائرنگ کیمپ موڈن (Camp Modin) کے قریب ہوئی، جو سالمون لیک کے کنارے قائم ایک یہودی سمر کیمپ ہے۔ کیمپ کی جانب سے اسے امریکا میں مسلسل فعال رہنے والے قدیم ترین یہودی سمر کیمپ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ واقعے کے وقت کیمپ میں کم از کم 400 کیمپرز اور عملے کے ارکان موجود تھے، جن میں کم عمر ترین بچوں کی عمر تقریباً⁦7⁩سال تھی۔

فائرنگ کے باوجود کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، تاہم کیمپ میں موجود سیکڑوں بچوں اور عملے کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

واقعہ کیسے شروع ہوا؟

حکام کے مطابق واقعے کا آغاز ایک تنازع سے ہوا۔ ہیویٹ ایک دوسرے شخص کے ہمراہ، بعض رپورٹس کے مطابق وہ اس کا والد تھا، اسمتھ فیلڈ روڈ سے ملحقہ جائیداد کی جانب سے کیمپ کے قریب پہنچا۔

دونوں افراد نے کیمپ سے منسوب مبینہ نقصان پر شکایت کی، جس میں ٹریکٹر یا لان موور کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا گیا۔ کیمپ کی سکیورٹی نے ان سے بات چیت کی اور بعد ازاں سکیورٹی اہلکاروں نے⁦911⁩پر کال کی۔

کال کے دوران ڈسپیچر نے مبینہ طور پر فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے بعد کینی بیک کاؤنٹی شیرف کے نائب اہلکار موقع پر پہنچے۔

کیمپ میں فوری لاک ڈاؤن

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پہلے نائب اہلکار نے کیمپ میں فوری لاک ڈاؤن کی ہدایت کی۔ ایک اہلکار نے ہیویٹ کو تقریباً⁦20⁩مرتبہ مختلف سمتوں میں رائفل چلاتے ہوئے دیکھا۔

کیمپ کے پچھلے حصے کے قریب سے استعمال شدہ گولیوں کے خول بھی برآمد ہوئے۔ حکام کے مطابق ان شواہد سے یہ امکان ظاہر ہوا کہ بعض گولیاں کیمپ کے اندر موجود باسکٹ بال کورٹ کی سمت میں چلائی گئی ہوں۔

کیمپ کی سکیورٹی نے بلٹ پروف جیکٹس پہن لیں اور اپنے ہتھیار تیار کر لیے۔ حکام کے مطابق ہیویٹ بظاہر نشے کی حالت میں تھا۔ بعد ازاں اسے اس کے گھر سے بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کر لیا گیا۔

23 ہتھیار برآمد، متعدد الزامات عائد

نائب اہلکاروں نے ہیویٹ کی جائیداد سے 23 آتشیں ہتھیار قبضے میں لیے، جن میں بڑی تعداد نیم خودکار ہتھیاروں کی تھی۔

اس پر آتشیں ہتھیار یا خطرناک ہتھیار کے ساتھ لاپرواہی پر مبنی اقدام، خطرناک ہتھیار کے ذریعے مجرمانہ دھمکی، خطرناک ہتھیار کے ذریعے دہشت زدہ کرنے اور کسی رہائش گاہ کے قریب آتشیں ہتھیار چلانے سمیت الزامات عائد کیے گئے۔

ابتدا میں اسے ضمانت کے بغیر حراست میں رکھا گیا، تاہم بعد میں بعض شرائط کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔ ان شرائط میں کیمپ سے 1,000 فٹ کے اندر جانے پر پابندی، ہتھیاروں اور شراب سے متعلق پابندیاں اور دیگر عدالتی شرائط شامل تھیں۔

تحقیق میں یہود مخالف تعصب کا پہلو

نائب اہلکار کی ممکنہ وجہِ گرفتاری سے متعلق حلف نامے میں کہا گیا کہ ہیویٹ کے واقعے کے دوران شراب استعمال کرنے اور یہود مخالف تعصب رکھنے کا شبہ تھا۔

کیمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ نیا نہیں

کیمپ کے مالک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاسکل کوہن نے ہیویٹ کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

کوہن کے مطابق ہیویٹ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں جائیداد کی حدود کے قریب آتا، عملے پر چیختا، گاڑی کی تیز روشنیاں کیمپ کی جانب ڈالتا، رات گئے آتش بازی کرتا اور قریبی علاقے میں فائرنگ کرتا رہا ہے، جس سے کیمپ میں موجود بچوں میں خوف اور پریشانی پیدا ہوتی تھی۔

کوہن نے ہیویٹ کے خلاف ہراسانی سے تحفظ کے لیے ہنگامی عدالتی حکم کی درخواست بھی دی ہے۔ اس معاملے کی سماعت تقریباً 31 اگست کے لیے مقرر کی گئی تھی۔


نیویارک

نیویارک پولیس کمشنر کا یہودی اداروں کو تحفظ دینے کا عزم

مین کے واقعے سے قبل نیویارک شہر میں ایک یہودی عبادت گاہ پر پرتشدد حملے کے بعد NYPD کمشنر جیسیکا ٹش نے اعلان کیا تھا کہ محکمہ پولیس یہودی برادری کے ساتھ بطور شراکت دار کھڑا ہے اور یہودی اداروں کو اپنے تحفظ کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

ٹش نے 21 اگست⁦2026⁩، جمعہ کو لیکسنگٹن ایونیو میں واقع سینٹرل سینیگاگ میں شبّات کی عبادت کے دوران خطاب کیا۔ یہ خطاب حملے کے ایک ہفتے بعد ہوا۔ ٹش اس عبادت گاہ کی تاحیات رکن ہیں اور انہوں نے یہودی برادری سے اپنی وابستگی کو ذاتی نوعیت کا قرار دیا۔

سینیگاگ میں⁦375⁩افراد کی عبادت متاثر

14 اگست کو برونکس کے⁦46⁩سالہ لیری مونٹیس نے جمعہ کی شب منعقد ہونے والی شبّات کی عبادت میں خلل ڈالا، جس میں تقریباً⁦375⁩افراد شریک تھے۔

مونٹیس اپنی نشست سے کھڑا ہوا، چیخ و پکار کی، عبادت میں استعمال ہونے والے چاندی کے رسمی شمعدانوں کو نقصان پہنچایا اور ایک⁦63⁩سالہ خاتون نمازی کے چہرے پر ضرب لگائی۔

اس نے⁦65⁩سالہ سیاہ فام سکیورٹی گارڈ پر تھوکا اور اسے سر سے ٹکر ماری، جبکہ ایک نسلی توہین آمیز لفظ بھی استعمال کیا۔ حکام کے مطابق اس نے یہود مخالف کلمات بھی کہے اور گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران یہودیوں کے خلاف انتہائی توہین آمیز بیان دیا۔

جائے وقوعہ پر ڈیوٹی پر موجود⁦NYPD⁩کے ایک سارجنٹ نے اسے گرفتار کر لیا۔ واقعے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

مونٹیس کو وفاقی سطح پر نفرت انگیز جرائم اور مذہبی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سامنا ہے، جبکہ ریاستی سطح پر بھی نفرت انگیز جرم کے طور پر حملے اور سنگین ہراسانی سمیت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

’’یہودی اداروں کو نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ایک شراکت دار کے بغیر اپنے تحفظ کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘

— جیسیکا ٹش، کمشنر نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ

’خوف کو مذہبی آزادی کی قیمت نہیں بننے دیں گے‘

اپنے خطاب میں ٹش نے اس حملے کو نیویارک شہر اور دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف تعصب پر مبنی واقعات کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک شہر کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد یہودیوں پر مشتمل ہے، لیکن کئی برسوں سے تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم کے متاثرین میں یہودیوں کا حصہ تقریباً نصف رہا ہے۔

’’یہودی خاندانوں سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ نیویارک شہر میں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی قیمت خوف کو قبول کرنا ہے۔‘‘

ٹش نے مزید کہا کہ ایک یہودی ہونے اور اس عبادت گاہ کی تاحیات رکن ہونے کی حیثیت سے وہ غیر یقینی اور نازک حالات میں یہودی برادری کے ساتھ کھڑی ہیں۔

ان کے مطابق اس عزم کے پیچھے نیویارک پولیس کے 35 ہزار ارکان، محکمہ کا انٹیلی جنس اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم بیورو اور ہیٹ کرائمز ٹاسک فورس موجود ہیں۔

عبادت گاہوں اور یشیوا سے مسلسل رابطہ

ٹش نے بتایا کہ شہر بھر کے پریسنکٹ کمانڈرز اور کمیونٹی افیئرز افسران سینیگاگز اور یشیوا کے منتظمین سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، جبکہ پولیس ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جارحانہ انداز میں کارروائی کرتی ہے۔

بین المذاہب یکجہتی کے اظہار کے لیے مذہبی رہنماؤں نے بھی شبّات کی عبادت میں شرکت کی، جن میں کارڈینل ٹموتھی ڈولن بھی شامل تھے۔

خطاب کے اختتام پر عبادت گاہ میں موجود اجتماع نے جیسیکا ٹش کو کھڑے ہو کر داد دی۔

’’یہودی برادری اکیلی نہیں ہے‘‘
نیویارک پولیس نے یہودی عبادت گاہوں، خاندانوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے شراکت داری اور مسلسل تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مین میں یہودی سمر کیمپ کے قریب فائرنگ اور نیویارک کی سینیگاگ میں نفرت انگیز حملے کے واقعات نے ایک بار پھر یہودی برادری کے تحفظ اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ دونوں معاملات میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

NYUrdu.com
امریکا⁦|⁩نیویارک⁦|⁩مین⁦|⁩نفرت انگیز جرائم⁦|⁩یہودی برادری
مین، یوکرین، یہودی سمر کیمپ، کیمپ موڈن، یہود مخالف تعصب، نفرت انگیز جرائم، امریکا، نیویارک، نیویارک پولیس، جیسیکا ٹش، سینیگاگ، یہودی برادری، NYPD، مذہبی آزادی، antisemitism
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleشام کو ایک اور موقع
Next Article امریکہ⁦:⁩پناہ کے دعویداروں کے⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے خطرے میں
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.