پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا خواہاں، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو باہمی طور پر فائدہ مند اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں سعودی پاک مشترکہ کاروباری کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔
ملاقات انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کے لیے اپنے دلی احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع
وزیراعظم شہباز شریف نے شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ موجودہ دورہ گزشتہ مذاکرات اور بات چیت کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس دورے کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں(MoUs)اور معاہدوں پر دستخط ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
سعودی کاروباری وفد نے زراعت، بندرگاہوں، شاہراہوں، ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، توانائی، بجلی کی تقسیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
مشترکہ تعاون کے لیے موزوں ترین وقت
وزیراعظم نے سعودی وفد کی جانب سے ان ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہ سب سے موزوں وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو حکومتی سطح پر حکومت سے حکومت(G2G)اور کاروباری سطح پر کاروبار سے کاروبار(B2B)روابط کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو محض روایتی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے ایک جامع اور طویل المدتی اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
سعودی کاروباری برادری کا پاکستان میں دلچسپی کا اعادہ
شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وزیراعظم کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ کاروباری سطح پر روابط کو مزید گہرا کرنے میں سعودی حکومت اور کاروباری برادری کی مسلسل دلچسپی کا اعادہ کیا۔
سعودی وفد اپنے قیام کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے سے وابستہ اہم کاروباری شخصیات اور اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔
دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں نمایاں پیش رفت
پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر چکے ہیں۔
2024 میں دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں نے مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر2.8ارب ڈالر مالیت کے34مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے، جس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
ستمبر2025میں ہونے والے اہم دفاعی معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو بھی نئی سمت دینے کے لیے اقدامات کیے۔ اکتوبر2025میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا آغاز کیا۔
اس فریم ورک میں توانائی، صنعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ سمیت اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
پاکستان سعودی شراکت داری کا نیا مرحلہ
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات اب اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دے رہی ہے۔
حکومت پاکستان کو توقع ہے کہ سعودی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے روابط ملک میں روزگار، انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

