"`
ایران تنازع کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت کاروں کی واپسی کی تیاری
ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد خطے میں خطرات میں کمی کے اشارے، امریکا نے متعدد سفارت خانوں میں سفارتی عملہ دوبارہ تعینات کرنے کی تیاری شروع کردی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی امریکی سفارت خانوں میں سفارت کاروں کو دوبارہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فوری خطرہ کسی حد تک کم ہوا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ایک داخلی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔
اضافی سفارتی عملے کی تعیناتی اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، قطر، اردن، عمان، عراق اور کویت میں موجود امریکی سفارتی مراکز میں متوقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق لبنان ان اولین ممالک میں شامل ہے جہاں سفارت کاروں کی واپسی کا امکان ہے، تاہم بیروت میں امریکی مشن کی سرگرمیاں فوری طور پر مکمل عملے کی سطح پر بحال ہونے کی توقع نہیں کی جا رہی۔
امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ سے قبل اور اس کے دوران خطے میں اپنے سفارتی عملے کو محدود کرنے اور بعض مقامات سے انخلا کے احکامات جاری کیے تھے، کیونکہ امریکی تنصیبات کو میزائل، ڈرون اور دہشت گردی سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا تھا۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بحرین، عراق، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی سفارتی مشنز سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بھیجنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، جبکہ اسرائیل اور لبنان میں امریکی سفارتی مراکز پہلے ہی روانگی سے متعلق حفاظتی انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے۔
سابق امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ سفارت کاروں کی واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ خطے میں خطرہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنی سکیورٹی پوزیشن کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کر رہا ہے، جبکہ ایران یا اس کے اتحادی دوبارہ تنازع بھڑکانے کی صورت میں مختلف آپشنز کھلے رکھے جا رہے ہیں۔
علاقائی رپورٹس کے مطابق اسرائیل، اردن اور عمان ان امریکی سفارتی مراکز میں شامل ہیں جہاں عملے کی تعداد کو تقریباً مکمل سطح تک واپس لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
خطے کے لیے اہم اشارہ
امریکی سفارت خانوں میں عملے کی تعداد میں اضافہ اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سفارتی عملے کی موجودگی کو اکثر واشنگٹن کی جانب سے علاقائی خطرات کے جائزے کا ایک عملی پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
اس فیصلے پر اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب سے بھی گہری نظر رکھے جانے کا امکان ہے۔ امریکی سفارتی عملے کی واپسی اس بات کی علامت ضرور ہے کہ کشیدگی میں عارضی طور پر کمی آئی ہے، تاہم اسے خطے میں مستقل امن کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ بدستور ایران کے علاقائی عزائم اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے نیٹ ورک کے سائے میں ہے۔ ایسے میں امریکی سفارت کاروں کی واپسی کو ایک محتاط سفارتی اور سکیورٹی ایڈجسٹمنٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں واشنگٹن خطے میں اپنی موجودگی بحال کرتے ہوئے کسی بھی نئی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے اپنی گنجائش برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

